تجزیےڈاکٹر انوار احمدلکھاری

بھٹو صاحب کی برسی پر ڈاکٹر انوار احمد کی خصوصی تحریر : ہمیں خبر ہے عزیزو یہ کام کس کا ہے

اکتالیس برس پہلے4 اپریل کی صبح دو بجے غیر معمولی عجلت میں پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم کا تختہ الٹنے والے جرنیل نے ججوں کی مدد سے اور اس کے زندہ وجودسے خوف زدہ سیاست دانوں کی تائید سےاسے پھانسی دی ،اس سے پہلے بکاﺅ صحافیوں اور سرکاری اہل قلم کی مدد سے اس کی کردار کشی کے لئے’وائٹ پیپر‘ شائع کئے گئے مگر اس کی بد عنوانی کی مثالیں اس میں پیش نہ کی جا سکیں،وہ جب اقتدار میں تھا تب بھی لاہور اور کراچی کے کچھ چیتھڑے اس کی ماں کو سر شاہنواز کی داشتہ کہتے رہے،مگر آپ میں سے جس نے 16 دسمبر 1971 کی گھڑی کی تذلیل اور اذیت نہیں سہی وہ کبھی نہیں جان سکتا کہ اس نے باقی ماندہ پاکستان کے ٹکڑے چن کے ایک ملک کو دوبارہ کیسے بنایا؟،میر غوث بخش بزنجو اور دیگر قوم پرست جماعتوں کے لیڈروں سے اپنے وزیر قانون میاں محمود علی قصوری اور مظہر علی خان کے ذریعے نئے آئین کی تشکیل سے پہلے اس کے بارے میں ،مفاہمت کی ایک دستاویز پر دستخط کیسے کرائے اور پھر 1973 کا وہ آئین قومی اسمبلی سے کس طرح منظور کرایا کہ دو مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بھی اسے منسوخ کرنے کی جرات نہ کر سکے۔بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی اور اس کے لئے وسائل اسرائیل کے مخالف عرب ممالک سے حاصل کئے،فروری 1974میں لاہور میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس شکست خوردہ پاکستانیوں کے اعتماد کی بحالی کا بڑا نفسیاتی اور معاشی حربہ تھا، جس کے بعد عام پاکستانی کے لئے ان ممالک میں روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔
پاکستان میں بے شک ایسے حکمران آئے جنہیں ان کے درباریوں نے کتابیں لکھ کے دیں مگر بھٹو پہلا اور شاید آخری حکمران تھا جو تاریخ اور سیاسیات عالم کے بارے میں ایک واضح نقطہ نظر رکھتا تھا اور اس کی کتابیں خواص تک تو پہنچیں، پرعوام تک تو اس کی وہ کتابیں پہنچیں جو اس نے پھانسی گھر سے لکھیں یا پھر اپنے قتل کا سودا کرنے والی سپریم کورٹ کے روبرو تین دن کا تاریخی بیان دیا جو خطابت کا ایک شاہکار ہے جو اس سے محبت کرنے والوں کے دل پر نقش ہے۔
بھٹو کو علم تھا کہ ثقافت نظریاتی نہیں ہو سکتی،اس میں سرزمین،اس میں بسنے والے ان کی تاریخ ان کا لوک بیانیہ اور مادری زبانیں اس قوم کا سچ ہیں اور استحکام کی بنیاد ہیں ،اس لئے اس کی ’گلابی اردو‘ سے کروڑوں لوگ پیار کرتے تھے،وہ اگر تھوڑی سی پینے کا اعتراف جلسہ عام میں کرتا تھا تو پاکستان کی بشریت کی شان بڑھ جاتی تھی،اس نے کراچی کے تکلیف دہ لسانی فسادات کے بعد کوشش کی کہ روشن خیال اہل زبان موہنجو ڈارو ، شاہ لطیف اور سچل پر بھی فخر کرنا سیکھیں۔
ہر حاکم کی طرح بھٹو کی انا،ضد یا اختیار یا قوت سے محبت نے اس کے ہر فیصلے کو پسندیدہ نہیں رہنے دیا،اس نے بائیں بازو کے اپنے ساتھیوں کا ڈراوا امریکہ اور فوج کو دکھا کر ممکن ہے کہ ان قوتوں سے مفاہمت کرنی چاہی ہو اور بعض ساتھیوں کو جیلوں میں ڈالا بعض نے راہیں بدلیں مگر میں معراج محمد خان سے ان کی زندگی کے آخری ایام میں ملا ان کی گفتگو کا محور بھٹو تھا ،یہی عالم ڈاکٹر مبشر کا تھا،ضیا الحق کے دور میں بھٹو سے دل برداشتہ ہونے والے پرانے ساتھیوں کو ٹی وی پر بلا کے ’ظلم کی داستانیں‘ نامی پروگرام میں رنگ آمیزی کی گئی مگر مجھے یاد ہے کہ جے اے رحیم سے انٹر ویو کرنے والے اپنی مرضی کے جملے نہ سن سکے۔
بھٹو پر تنقید بائیں بازو نے بھی کہ اور دایاں بازو تو اسکا جانی دشمن تھا،پھر پاکستان سٹڈیز کو ضیا کے دور میں لازمی قرار دیا گیا اس لئے عام طور اس مضمون کی درسی یا امدادی کتابوں میں بھٹو کا نام کسی فرد جرم کے ساتھ آیا ہے مگر حقیقت ہے کہ وہی اکیلا لیڈر تھا جو تاریخ کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتا تھا اور عالمی سیاست میں پاکستان کے باوقار کردار کا ضامن تھا مگر روٹی ،کپڑے ،مکان کے نعرے کو شرک قرار دینے والے عوام کی پرچی کے قوت محاسبہ بننے سے خوف زدہ اورابن الوقت سیاست دانوں نے اسے مارڈالا اسے قتل کیا محسن نقوی نے کہا تھا
ہماری لاش پہ ڈھونڈو نہ انگلیوں کے نشاں
ہمیں خبر ہے عزیزو یہ کام کس کا ہے؟

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker