ڈاکٹر فرزانہ کوکبکالملکھاری

جب بھٹو جونیئر ہر قاتل کے گھر سے نکلے گا ۔۔ ڈاکٹر فرزانہ کوکب

پارا چنار اور بھٹو جونیئر ۔۔ دونوں خبریں ہی اندوہ ناک اور اذیت ناک ہیں۔دل دکھ اور تکلیف سے پھٹا جاتا ہے۔وطن عزیز میں تو گزشتہ تین چار دہائیوں سے کتنے ہی پارا چنار بےگناہوں اور معصوموں کے خون سے نہلادئیے گئے۔ بس علاقہ اور شہر کا نام بدل جاتا ہے۔لیکن دہشت گردی اور بربادی کی خون میں نہائی تصویریں ایک ہی جیسی اور خون کے آنسو رلادینے والی ہیں۔
اور دوسری خبر جو بھٹو جونئیر کے وڈیو کلپ کی صورت میں سامنے آئی۔وہ بھی کچھ کم اذیت ناک نہ تھی۔
دونوں خبروں کے حوالے سے عوامی ردعمل بھی ایک جیسا آیا۔ دہشت گردی کے ضمن میں ایک ردعمل تو ملکی اور عالمی سطح پر بھرپور مذمت کا ہے۔ کیونکہ اب رفتہ رفتہ عالمی سطح پر بھی دہشت گردی کے ایک لہو رنگ منظر نامہ کی تشکیل ہونا شروع ہو چکی ہے اور دوسرا مذہب اور سیاست کی آڑ میں اس دہشت گردی کی ظاہری اور پس پشت سرپرستی کرنے والے،اس کو درست کہنے والے اور عوام کی اچھی خاصی تعدادکی معصومیت اور کہیں جہالت سے فائدہ اٹھا کر ان کو استعمال کرنے والے بھی اپنے گھناونے مقاصد کی تکمیل کے لئے رائے عامہ کو اس دہشت گردی کے حق میں ہموار کرنے میں خاصی حد تک کامیاب ہیں۔
دوسری طرف بھٹو جونئیر ہے۔ بھٹو خاندان اور پیپلز پارٹی کم وبیش ہر سیاسی خاندان اور سیاسی پارٹی کی طرح ہمیشہ سے متنازعہ چلے آرہے ہیں۔ محبت کرنے والے اور جان نثار کہنے والے بھی ہمیشہ سے اس پارٹی میں رہے۔ اس کی بھرپورمخالفت بھی کی جاتی رہی اور اس کے رہنماوں اور کارکنوں کو سیاسی اور عدالتی قتل اور ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔
اب بھٹو جونئیر کی وڈیو سامنے آنے پر مخالفت اور حمایت کا ایک شور برپا ہوگیا۔ حمایت کرنے والوں کا ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ ہر کوئی اپنے عمل میں اور اپنے نقطہ نظر کے مطابق زندگی گزارے میں آزاد ہے۔اور کہا جاتا ہے کہ انسانیت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔اگرچہ مجھے اس منطق سے سخت اختلاف ہے۔تمام مذاہب اور بالخصوص دین اسلام انسانیت کی اصلاح برائے فلاح کے لئے ہی ظہور میں آئے۔اور اگر کوئی صرف اپنی مرضی خواہ وہ اس کے اپنے لئے یا دوسرے انسانوں کے لئے کتنی ہی نقصان دہ کیوں نہ ہو کے مطابق زندگی بسر کرنا چاہتا ہے تو اسے پھر کسی بھی مذہبی اور سماجی دائرے سے بھی لا تعلقی کا اعلان کرنا پڑے گا۔اور بقول شاعر”رہئے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو”باقی انسان کیوں محض آپ کی مرضی اور نقطہ نظر کو برداشت کرتے ہوئے آپ کے ساتھ رہنے پر مجبور ہوں۔
لیکن بھٹو جونئیر نے جس طرح جس طرح اپنے نانا،والد اور پھوپھی کے خون ناحق کا ذکر کیا۔اس وقت اس کا حوصلہ دوسروں کو رلا دینے کے لئے کافی تھا۔ایک لمحے کے لئے اس بچے کی انررونی کیفیت اور اس کی شخصی اور نفسیاتی شکست و ریخت کا اندازہ لگائیے۔جس نے بچپن سے ہی مردانگی کے نام پر سماج میں تشدد،ظلم اور استحصال کی خوفناک زندہ تصویریں اور طاقت کا اندھا دھند استعمال دیکھا ہو۔جس نے اپنے پیاروں کی ناحق موت اورخون آلود لاشیں دیکھی ہوں۔اور جس کا پورا خاندان کہیں مذہب اور کہیں سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہو۔وہ بچہ صرف بھٹو جونئیر نہیں کوئی بھی ہو سکتا ہے۔وطن عزیز کے کسی علاقے کا یا دنیا کے کسی بھی خطے کا۔سیاست اور مذہب کے نام پر دہشت گردی کرنے والے،خون ناحق بہانے والوں کو یہ سمجھ نہیں آسکتی کہ ایسی ہولناک صورت حال کا سامنا کرنے والے بچے بلکہ آنے والی نسلیں بھی کیسی ذہنی اور نفسیاتی بگاڑ کا شکار ہوتی ہیں جو بعد میں مختلف تکلیف دہ صورتوں کے حامل رد عمل کے طور پر اظہار پاتے ہیں۔اور اس کی سب سے ہولناک شکل ایک یہ بھی ہے کہ ایک نارمل انسان اپنی شخصی شناخت تک کھو بیٹھتا ہے۔ایک confused personality بن جاتا ہے۔نہ اسے مکمل مرد ہونا قبول ہے نہ مکمل عورت۔اور مذہب یا سیاست کے نام پر تشدد اور دہشت گردی کرکے دوسروں کی بربادی کا سامان کرنے والوںکو یہ بات اچھی طرح جان لینی چاہئے کہ ایسا کوئی بچہ ان کے اپنے ہاں بھی ان کے مذموم اعمال کے ردعمل کے نتیجے میں وجود پاسکتا ہے۔اور اگر یہ گھناونا کھیل جاری رکھا گیا تو ہماری تو کیا ان کی اپنی نسلیں اس کی بھینٹ چڑھ جائیں گی۔پھر ہر گھر سےبھٹو نکلے یا نہ نکلے بھٹو جونئیر ہر گھر سے نکلے گا

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker