Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
اتوار, فروری 15, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: بھارت نے پاکستان کو 61 رنز سے شکست دے دی
  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ جاری، 78 رنز پر 7 کھلاڑی آؤٹ
  • بھارت کا 6 طیارے گرنے پر تاحال غصہ برقرار، آج بھی ہینڈ شیک نہ کیا
  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ : پاکستان کے خلاف بھارت کی ایک رن پر پہلی وکٹ گرگئی
  • ملتان پریس کلب کو قبضہ مافیا اور سوداگروں سے نجات دلائیں: مقبول حسین تبسم کا کالم
  • فیلڈ مارشل کی امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال
  • راولپنڈی: عمران خان کے علاج سے متعلق اہم پیشرفت
  • ٹی 20 ورلڈ کپ، کولمبو میں میدان سج گیا، روایتی حریف پاکستان اور بھارت آج آمنے سامنے
  • جمشید رضوانی کا کیا بنے گا : ناصر محمود شیخ کا کالم
  • پریس کلب کو فعال اور باوقار بنائیں گے،سب کی رسائی ہو گی : اشفاق احمد
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»لکھاری»ڈاکٹر لال خان»فرانس میں ہڑتالوں کی نئی لہر: جدوجہد / ڈاکٹرلال خان
ڈاکٹر لال خان

فرانس میں ہڑتالوں کی نئی لہر: جدوجہد / ڈاکٹرلال خان

ایڈیٹراپریل 7, 20180 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

فرانس میں محنت کشوں کی جدوجہد کی ایک نئی لہر اٹھی ہے۔ صدر ایمانوئل میکرون کی نیو لبرل پالیسیوں کے خلاف پہلی وسیع مزاحمتی تحریک میں منگل کو ملک کی شہرت یافتہ ہائی سپیڈ ٹرینوں کو ایک ہڑتال میں جام کر دیا گیا۔ مین سٹریم میڈیا نے اس ہڑتال کو ‘سیاہ منگل‘ کا نام دیا ہے؛ تاہم ہڑتالی اقدام کی یہ حکمت عملی تین مہینے تک محیط ہو گی تاکہ کٹوتیوں کے خلاف مزاحمت کی جا سکے۔ نیشنل ریل اتھارٹی نے کہا ہے کہ ہڑتال کے پہلے دن صرف 12 فیصد ٹرینیں چل رہی ہیں۔ جرمنی اور برطانیہ جانے والی ٹریفک بھی متاثر ہوئی ہے۔ توانائی اور ویسٹ کولیکشن کے شعبے بھی متاثر ہوئے۔ یونینز کا کہنا ہے کہ قرضوں میں ڈوبی ریاستی ریل کمپنی (SNCF) کی ‘تنظیم نو‘ کے منصوبے اس کی نجکاری کا راستہ ہموار کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ ‘SNCF‘ کے تقریباً 77 فیصد ڈرائیور ہڑتال پر تھے۔
فرانس کی ورک فورس کا صرف 11 فیصد یونینوں سے منسلک ہے جو یورپی یونین میں سب سے کم شرح ہے‘ لیکن روایتی طور پر یونینز بہت طاقتور رہی ہیں اور فرانس کی سیاست اور معیشت پر اثر انداز ہوتی رہی ہیں۔ ریل یونین کے ایک رہنما ایمانوئل گرونڈن نے کہا، ”ہم صرف ریل مزدوروں کا ہی نہیں بلکہ فرانس کے عوامی خدمات کے شعبوں کا بھی دفاع کر رہے ہیں‘‘۔ اس ہڑتال کا سماج پر گہرا اثر پڑا ہے اور روزمرہ کے معاملات متاثر ہوئے ہیں۔ دارالحکومت میں ‘کار ٹریفک‘ کو ماپنے والی ویب سائٹ کے مطابق رش آورز میں 420 کلومیٹر کے ٹریفک جام ہوئے۔
لیکن میکرون کی نیو لبرل سرمایہ دارانہ حکومت کے خلاف یہ بغاوت محض ریل تک محدود نہیں ہے۔ دوسرے شعبوں میں بھی ہڑتالیں اور مظاہرے ہوئے ہیں۔ مثلاً ہزاروں طلبہ یونیورسٹی کیمپسوں میں احتجاج کر رہے ہیں جبکہ کچرا جمع کرنے والے مزدور بھی کام کے حالات کار کے خلاف ہڑتال کر رہے ہیں۔ مزدور تنظیموں نے ان مزدوروں سے اپیل کی ہے کہ وہ قومی سطح کی کولیکشن سروس اور بہتر ریٹائرمنٹ کی مراعات کے لیے جدوجہد کریں۔ مزدوروں نے کچھ ‘ویسٹ ٹریٹمنٹ پلانٹس‘ کو بند کر دیا ہے۔ توانائی کے شعبے کے مزدوروں نے توانائی کی منڈیوں کی لبرلائزیشن اور ڈی ریگولیشن کے خلاف ہڑتالوں کا اعلان کیا ہے۔ فضائی نقل و حمل کے نظام میں بھی خلل آیا ہے۔ منگل کو ایئر فرانس کو تنخواہوں میں اضافے کے لیے ہڑتال کی وجہ سے اپنی ایک چوتھائی پروازیں منسوخ کرنا پڑیں۔ ایئر فرانس کے ملازمین تنخواہوں میں 6 فیصد اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور چار دن سے ہڑتال پر ہیں۔
میکرون‘ فرانس کی معیشت میں ‘اصلاحات‘ لانے کے لیے کٹوتیوں کے اقدامات میں تیزی لایا ہے۔ اس کے اقدامات کو فرانس کی ٹریڈ یونینز کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ میکرون کے اس ایجنڈے کے خلاف مزاحمت 22 مارچ کو اس وقت شروع ہوئی جب ہزاروں اساتذہ، نرسز اور دیگر شعبوں کے مزدوروں نے ریلوے کے مزدوروں کی ہڑتال میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے میکرون کی حکومت کو مسترد کیا ہے‘ جس کے ترجمان گیبرل اٹل نے چند ہفتے پہلے کہا تھا کہ ”ہمیں اس ہڑتالی ثقافت سے جان چھڑانا ہو گی‘‘۔ بی بی سی کے نمائندے لوسی ولیم سن کے مطابق ”بہت سے یونین اراکین سمجھتے ہیں کہ میکرون ٹریڈ یونینز کی طاقت کو توڑنا چاہتا ہے‘‘۔
2007-8ء کے عالمی بحران سے بہت سال پہلے یہ بات واضح ہو رہی تھی کہ یورپی سرمایہ داری ایک حتمی زوال کے دور میں داخل ہو گئی ہے اور سماجی فلاحی نظام کو مزید جاری نہیں رکھ سکتی۔ مزدوروں کی اجرتوں، پنشن، تعلیم اور صحت کی سہولیات پر حملے کیے گئے تاکہ ایک بیمار نظام کو بچایا جا سکے۔ یہ تمام تر مراعات محنت کش طبقے نے بیسویں صدی میں ایک سخت جدوجہد کے بعد حاصل کی تھیں۔ حکمرانوں کی جانب سے مزدوروں کو دی جانے والی ان مراعات کی ایک اور وجہ یورپ کے طاقتور مزدور طبقے کی انقلابی سرکشی کا خوف تھا۔ سرد جنگ، سوویت یونین اور مشرقی یورپ میں منصوبہ بند معیشت کی موجودگی یورپی حکمرانوں کے خوف میں مزید اضافہ کر رہی تھی۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد سرمایہ داری میں آنے والا معاشی ابھار اور تیسری دنیا کے ممالک میں شدید استحصال کی وجہ سے حکمران طبقات کو یہ موقع ملا کہ وہ ان مراعات کا خرچہ برداشت کر سکیں اور ساتھ ہی اپنی شرح منافع میں اضافہ بھی قائم رکھ سکیں۔ اب معاملات الٹ ہو چکے ہیں۔ سرمایہ دارانہ بحران کی وجہ سے یورپ میں ایک نئے سماجی معاشی معمول نے جنم لیا ہے جہاں پہلی دفعہ عام لوگوں کا معیار زندگی ان کی پچھلی نسلوں سے نچلی سطح پر ہے۔ معاشی توازن کے ٹوٹنے سے سیاسی ڈھانچے کا توازن بھی بگڑ گیا ہے اور دائیں اور بائیں بازو کی روایتی پارٹیاں بحران کی دلدل میں چلی گئی ہیں۔ اصلاح پسندی اور ‘سوشل ڈیموکریسی‘ کی گنجائش آج موجود نہیں ہے۔ سماجی بحران میں نسل پرست اور مہاجر دشمن رجحانات بھی ابھرے ہیں‘ لیکن ان میں سے بیشتر جلد ہی بکھر جاتے ہیں۔ سیاسی پولرائزیشن کا مظاہرہ ہمیں فرانس میں بھی نظر آتا ہے‘ جہاں دائیں بازو کی ‘میری لی پین‘ کی جماعت نیشنل فرنٹ تیزی سے ابھری اور دوسری طرف بائیں بازو کے رہنما ‘میلنشوں‘ کا ابھار بھی نظر آیا۔
اصلاحات کی گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے سوشل ڈیموکریٹک پارٹیوں کا تباہ کن زوال سامنے آیا ہے۔ یہ مظہر تاریخی طور پر اصلاح پسندی (سوشل ڈیموکریسی) کی شکست کی غمازی کرتا ہے‘ جس نے یورپ اور دیگر ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں ایک صدی تک طبقاتی مصالحت یعنی محنت کش طبقے سے غداری کا کردار ادا کیا‘ لیکن اگر یہ اصلاح پسندی یا نام نہاد ”سوشل ڈیموکریسی‘‘ ترقی یافتہ ممالک میں ناکام ہو چکی ہے تو پاکستان جیسے پسماندہ ممالک میں محروم اور استحصال زدہ عوام کی زندگیوں میںکیسے خوشحالی لا سکتی ہے؟ یورپ میں دائیں بازو کی روایتی پارٹیاں بھی اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ ‘میکرون‘ کا ابھار اور صدارت تک پہنچنا اسی مظہر کی غمازی کرتا ہے۔ وہ سوشلسٹ پارٹی سے الگ ہوا اور دائیں بازو کی اصلاحات کے نعروں سے اقتدار تک پہنچا‘ جس طرح اس کے پیشرو ‘اولاندے‘ نے مزدوروں سے غداری کر کے کٹوتیوں کی پالیسیوں کا اجرا کیا۔ میکرون کی پیٹھ پر تو اصلاح پسندی کا بوجھ بھی نہیں ہے۔ وہ زیادہ جارحیت سے یہ اقدامات کر رہا ہے۔ لیکن حالیہ ہڑتالوں نے مزدوروں کی امیدوں کو جلا بخشی ہے اور حالات کو تبدیل کردیا ہے۔ یہ فرانس اور بالعموم یورپ میں طبقاتی جدوجہد کے ایک نئے عہد کا آغاز ہے۔
پچھلی دہائیوں میں یورپ میں عارضی رجعتی رجحانات کے ابھار سے قطع نظر فرانس اور دیگر یورپی ممالک میں مزدوروں اور نوجوانوں کی جدوجہد مسلسل جاری رہی ہے۔ یہ فرانسیسی محنت کشوں کی شاندار تحریک ہی تھی جس نے تیونس میں انقلابی تحریک کو جنم دیا تھا جو وہاں سے پورے شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ تک پھیل گئی تھی۔ مارکس اور اینگلز نے فرانس کو انقلابات کی ماں کہا تھا۔ موجودہ ہڑتال کا آغاز ایسے وقت میں ہوا ہے جب فرانس کی جدید تاریخ کی سب سے بڑی تحریک یعنی 1968ء کے انقلاب کو پچاس سال مکمل ہونے میں صرف چند ہفتے باقی ہیں۔ فرانس کا اس وقت کا ”مرد آہن‘‘ صدر چارلس ڈیگال محنت کشوں اور طلبہ کی اس انقلابی تحریک سے خوفزدہ ہو کر جرمنی بھاگ گیا تھا اور کہا تھا کہ ”یورپ میں بتیاں گُل ہو رہی ہیں… بالشویک اقتدار پر قبضہ کر رہے ہیں!‘‘ لیکن انقلابی قیادت کی غیر موجودگی میں انقلاب پسپا ہوا‘ اور روایتی اصلاح پسند قیادتوں نے چند مراعات کے بدلے ساری جدوجہد کو حکمرانوں کی جھولی میں ڈال دیا‘ لیکن فرانسیسی محنت کش اور نوجوان عظیم انقلابی روایات کے امین ہیں۔ 1968ء کے انقلابِ فرانس کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر اس ہڑتالی تحریک کا ابھار پورے یورپ میں وسیع انقلابی مضمرات کو جنم دے سکتا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleسفید تھر میں صاف پانی / وسعت اللہ خان
Next Article اصولوں پر سمجھوتے سے نواز شریف کی سیاست کو نقصان ہو گا / سید مجاہد علی
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: بھارت نے پاکستان کو 61 رنز سے شکست دے دی

فروری 15, 2026

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ جاری، 78 رنز پر 7 کھلاڑی آؤٹ

فروری 15, 2026

بھارت کا 6 طیارے گرنے پر تاحال غصہ برقرار، آج بھی ہینڈ شیک نہ کیا

فروری 15, 2026
Leave A Reply

حالیہ پوسٹس
  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: بھارت نے پاکستان کو 61 رنز سے شکست دے دی فروری 15, 2026
  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ جاری، 78 رنز پر 7 کھلاڑی آؤٹ فروری 15, 2026
  • بھارت کا 6 طیارے گرنے پر تاحال غصہ برقرار، آج بھی ہینڈ شیک نہ کیا فروری 15, 2026
  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ : پاکستان کے خلاف بھارت کی ایک رن پر پہلی وکٹ گرگئی فروری 15, 2026
  • ملتان پریس کلب کو قبضہ مافیا اور سوداگروں سے نجات دلائیں: مقبول حسین تبسم کا کالم فروری 15, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.