تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : مولانا طارق جمیل سے ملاقاتیں معیشت بحال نہیں کرسکتیں

وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے قرضوں کی ادائیگی میں ریلیف دینے کے فیصلہ پر خوشی و اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ وزیر خارجہ نے تو اسے عمران خان کی کامیابی قرار دینا بھی ضروری سمجھا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ایک سال کے لئے ملنے والی اس رعایت سے پاکستان کو بہت فائدہ ہوگا اور وہ اپنے غریب و محتاج عوام کے لئے متعدد اقدامات کرسکے گا۔
سب سے پہلے تو ریکارڈ کی درستی کے لئے یہ جان لینا چاہئے کہ دنیا کی بڑی معیشتوں کے حامل بیس ممالک نے گزشتہ روز ایک ویڈیو کانفرنس میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بنک کی اس تجویز پر غور کیا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے مالی مشکلات کا شکار غریب ملکوں کو قرض کی ادائیگی میں رعایت دی جائے۔ ان اداروں کے مطابق اس وقت لاک ڈاؤن اور پیداواری سرگرمیوں میں تعطل کی وجہ سے جو معاشی بحران سامنے آیا ہے ، اس کی وجہ سے غریب ممالک بری طرح متاثر ہوں گے ۔ اس لئے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو انہیں سہارا دینے کے لئے ضروری مالی اقدامات کرنے چاہئیں۔ یہ بھی درست ہے کہ تین روز پہلے وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے ترقی یافتہ ملکوں سے اپیل کی تھی کہ غریب ملکوں کی اس مشکل میں مدد کی جائے ورنہ عالمی کساد بازاری سے پیدا ہونے والا بحران انتشار اور مصائب کا سبب بن سکتا ہے۔
شاہ محمود قریشی البتہ جی ۔20 ممالک کے فیصلہ اور آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے اعلان کے بعد یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ وہ گزشتہ دو ہفتوں سے اس مقصد کے لئے کام کررہے تھے ۔ انہوں نے تیس سے زائد ملکوں کے ہم منصبوں سے رابطہ کیا اور وزارت خارجہ نے اس بارے میں ترقی یافتہ ممالک کو ایک مراسلہ بھی ارسال کیا تھا۔ تاہم اس بیان کی اہمیت پاکستانی عوام کے سامنے اپنی کارکردگی کی دھونس جمانے سے زیادہ نہیں ہے۔ جو حکومت قومی معاشی مسائل حل کرنے کے لئے مناسب اقدامات کرنے سے قاصر رہی ہو، اس سے ایسی صلاحیت کے مظاہرے کی توقع نہیں کی جاسکتی کہ اس نے عالمی اعداد و شمار، تمام غریب اور ضرورت مند ملکوں کے قرض کی صورت حال ، معاشی کمزوریوں اور کورونا وائرس کے ان ممالک کی معیشتوں پر اثرات کا ٹھوس جائزہ تیار کرکے جی۔20 ممالک کے وزرائے خارجہ کو عمران خان کے ’ویژن‘ کے مطابق قرضوں میں چھوٹ دینے پر قائل کیا ہوگا۔ اس کے برعکس یہ شواہد موجود ہیں کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک نے ایک سو ممالک کی طرف سے فوری امداد کے لئے ملنے والی درخواستوں اور ان ممالک کے بارے میں اپنے ریکارڈ پر موجود معلومات کی بنیاد پر ڈونر ملکوں سے یہ اپیل کی تھی کہ اس بحران میں دنیا کے غریب ملکوں کو فوری مراعات دینا لازمی ہوگا۔
عمران خان نے اپنی تقریر میں یا دیگر مواقع پر رعایت کی بات کرتے ہوئے قرض معاف کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی جبکہ عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے امداد فراہم کرنے کی جو تجویز سامنے آئی ہے ، اس میں یکم مئی سے دسمبر 2020 تک غریب اور مالی مشکلات میں گھرے ہوئے ملکوں کو قرضوں کی اقساط ادا کرنے میں چھوٹ دی جائے گی۔ یعنی ان مہینوں کے دوران یہ ممالک واجب الادا قرضوں پر سود ادا کرتے رہیں گے لیکن ان سے اقساط طلب نہیں کی جائیں گی۔ شاہ محمود قریشی نے یہ تاثر دیا ہے کہ پاکستان کو ملنے والی رعایت ایک سال کے لئے ہوگی لیکن فیصلہ کے مطابق اقساط کی ادائیگی آٹھ ماہ کے لئے مؤخر کی جارہی ہے۔ دسمبر تک عالمی مالیاتی ادارے ڈونر ممالک کے اشتراک سے صورت حال کا دوبارہ جائزہ لے کر فیصلہ کریں گے کہ اس رعایت میں توسیع کی جائے یا جنوری2021 سے اقساط اور سود کی ادائیگی طے شدہ منصوبہ کے مطابق شروع کردی جائے۔ یہ ممکن ہے کہ اس مدت میں توسیع کرتے ہوئے منصوبہ میں شامل سارے 76 ممالک کو یہ رعایت دینے کا فیصلہ نہ کیا جائے اور بعض ممالک کے لئے یہ عبوری رعایت ختم کردی جائے۔
اس حوالے سے یہ بات بھی نوٹ کی جانی چاہئے کہ عالمی ادارے صرف ان قرضوں پر رعایت دیں گے جو انہوں نے خود پاکستان سمیت مختلف ممالک کو دیا ہؤا ہے۔ پاکستان کو آئی ایم ایف سے ملنے والے 6 ارب ڈالر کے پیکیج کے علاوہ کورونا وائرس کے بعد ہنگامی طور سے ملنے والے ایک ارب چالیس کروڑ ڈالر امداد پر یہ رعایت ملے گی۔ اسی طرح ورلڈ بنک اور ایشیا بنک کے قرضوں پر بھی اقساط منجمد ہوجائیں گی لیکن جو قرضے براہ راست مختلف ممالک یا اداروں سے لئے گئے ہیں، ان میں رعایت کا فیصلہ ان ممالک نے ہی کرنا ہے۔ پاکستان سالانہ قرضوں کی اقساط اور سود کی مد میں 12 اب ڈالر سے زائد رقم ادا کرتا ہے۔ ان میں سے نصف سے زائد چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دوسرے ممالک کو ادا کئے جاتے ہیں۔ اس حصے پر رعایت کی بات چیت بھی انہی ممالک کے ساتھ ہوگی۔ اگرچہ یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ یہ ممالک بھی جی۔20 ممالک کی سفارش کے مطابق براہ راست قرضوں پر بھی مراعات دینے کا فیصلہ کرلیں گے۔ کیوں کہ ان ممالک میں سے بیشتر جی ۔ 20 کے رکن بھی ہیں۔ تاہم یہ ایک طویل اور مشکل عمل ہے جس سے گزرنے کے لئے پاکستانی حکومت اور ماہرین کو سوچ سمجھ کر حکمت عملی تیار کرنا ہوگی اور قرض خواہوں سے مذاکرات کرنا پڑیں گے۔
قرضوں کی ادائیگی میں ملنے والی چھوٹ سے زیر بار پاکستانی معیشت کو ضرور کچھ ریلیف ملے گا لیکن عام شہریوں کو اس کا فائدہ پہنچانے کے لئے نہایت چابک دستی سے معاشی پالیسیوں میں مناسب تبدیلیاں کرنا پڑیں گی تاکہ قومی سطح پر ملنے والی چھوٹ کا عام لوگوں کو فائدہ ہوسکے اور معیشت میں سرگرمی میں اضافہ ہو۔ اقساط کی ادائیگی میں وقتی رعایت کا اصل فائدہ اسی وقت ہوسکتا ہے اگر اس دوران پاکستانی حکومت ملکی معیشت کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرسکے۔ اس وقت عالمی اداروں سے قرض کی اقساط میں رعایت سے زیادہ یہ بات پریشان کن ہے کہ عالمی ادارے یہ اندازہ لگا رہے ہیں کہ ایشیا میں گزشتہ چھ دہائیوں میں پہلی بار پیداواری صلاحیت میں اضافہ نہیں ہوگا۔ ان میں بنگلہ دیش اور بھارت جیسے ممالک بھی شامل ہیں جن کی قومی پیداوار میں اضافہ کی سالانہ شرح 6 فیصد کے لگ بھگ تھی۔ پاکستان کی پیداواری صلاحیت تو پہلے ہی زوال پذیر تھی اور کورونا بحران پیش آنے سے پہلے ہی یہ اندازہ کیا جارہا تھا کہ قومی پیداوار ماضی کے پانچ فیصد سالانہ سے کم ہو کر اڑھائی فیصد رہ جائے گی۔ اب امکان ہے کہ پاکستان کی قومی پیداوار جمود کا شکار ہوگی اور اس میں اضافہ کی بجائے منفی رجحان دیکھنے میں آئے گا۔ یہ کمی ایک سے دو یا تین فیصد تک ہوسکتی ہے۔
یہ اشاریے انتہائی تکلیف دہ ہوسکتے ہیں۔ قومی پیداوار میں کمی سے بیروزگاری میں اضافہ ہوگا ، ریاست کی آمدنی کم ہو گی اور اخراجات میں بڑھ جائیں گے۔ ایسی صورت حال میں قرضوں میں رعایت کے فوائد گنوا کر حکومت کی سفارتی کامیابی اور وزارت خارجہ کی کارکردگی کے لئے تالی بجوانے کی بجائے حکومت کو یہ سوچنا چاہئے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ ملا کر قومی معیشت کی تعمیر نو کے لئے انقلابی اقدامات کئے جائیں۔ قومی یک جہتی اور تعاون کا ماحول پیدا کرکے مشکل حالات کو شکست دینے کا عزم کیا جائے۔ معاشی بحالی کے لئے تعاون اور تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مصالحت پہلے بھی ضروری تھی لیکن اب یہ ناگزیر ہوچکی ہے۔ اس مقصد کے لئے وزیر اعظم کو فوری طور سے ملک کے سیاسی لیڈروں سے ملنا چاہئے لیکن وہ مولانا طارق جمیل کے ساتھ مل کر ملک کے مذہبی رہنماؤں کو مصالحت کا پیغام دینا ضروری سمجھتے ہیں۔ تاکہ ’اتفاق رائے ‘ سے رمضان المبارک کے دوران مساجد میں عبادات کا لائحہ عمل تیار کیا جاسکے۔
اس وقت تحریک انصاف کی حکومت سیاسی یا پارلیمانی تعاون کے کسی منصوبے پر کام کرنے کے لئے تیار نہیں ہے لیکن حکومت کی ہدایات اور مشوروں کو پریس کانفرنسوں میں مسترد کرنے والے مذہبی لیڈروں کی منت سماجت پر پوری توانائی صرف کررہی ہے۔ کل وزیر مذہبی امور ان علما کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کررہے تھے، آج وزیر اعظم مولانا طارق جمیل سے ملے اور پرسوں صدر مملکت دیگر علما سے مل کر حکومت کے ساتھ ’ایک پیج ‘ پر رہنے کی استدعا کریں گے۔ جو عناصر اس وقت نمازوں کی ادائیگی کے سوال پر حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنے کا سبب بنے ہوئے ہیں، ان کے ساتھ مصالحت کی باتیں اور کوششیں حکومت کو کمزور کریں گی جس سے ریاست کے مسائل میں اضافہ ہوگا۔ ان میں معیشت کی بگڑتی ہوئی حالت سب سے اہم مسئلہ ہے۔ معیشت کی بہتری ، عوام کو سہولت دینے اور انہیں موجودہ بحران سے باہر نکالنے کے لئے ضروری ہے کہ مولویوں کے معاملات ضلعی انتظامیہ کے حوالے کرکے وزیر اعظم اور ان کے ساتھی ماہرین اور سیاسی لیڈروں کے ساتھ مل کر معاشی احیا کی منصوبہ بندی کریں۔
معیشت کی بحالی بجلی کا بٹن دبانے جیسا نہیں ہے۔ یہ ایک پیچیدہ اور مشکل راستہ ہے ۔ معیشت کو قرض کی ادائیگی میں وقتی چھوٹ سے متحرک نہیں کیا جاسکے گا۔ بار بار کہاجاچکا ہے۔ ایک بار پھر عرض کئے دیتے ہیں: قومی یک جہتی کے لئے کام کیجئے۔ سیاسی دشمنیوں کو بھلا کر بھائی چارے کی فضا پیدا کریں۔ پارلیمنٹ کو متحرک کرکے معیشت کی بحالی کے علاوہ جمہوریت کے مستقبل کے بارے میں اٹھنے والے اندیشوں کو ختم کیا جائے۔ آگے آپ کی مرضی۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker