کالملکھاریوسعت اللہ خان

وسعت اللہ خان کا کالم : ایک تو کورونا اوپر سے ٹرمپ

ایسے وقت جب کرونا مریضوں کی عالمی تعداد بیس لاکھ سے اوپر اور اموات ایک لاکھ بتیس ہزار تک پہنچ چکی ہیں اور سب سے زیادہ متاثر سب سے بڑی سپر پاور امریکہ ہے جہاں تادمِ تحریر چھ لاکھ تیئس ہزار لوگ کرونا میں مبتلا ہو چکے ہیں اور اموات تیئس ہزار کو چھو رہی ہیں۔صدر ٹرمپ نے عالمی ادارہِ صحت کو دی جانے والی چالیس کروڑ ڈالر کی سالانہ امداد اچانک یہ کہہ کر معطل کر دی ہے کہ یہ ادارہ چین نواز ہے اور اپنے فرائض کی انجام دہی میں مکمل ناکام ہو چکا ہے لہٰذا یہ امریکی امداد کا حق دار نہیں رہا۔
ایک ایسے وقت جب عالمی ادارہِ صحت پر کام کا چہار طرفہ دباؤ ہے اور اس نے اس دباؤ سے نپٹنے کے لیے ایک سو چورانوے رکن ممالک سے ایک ارب ڈالر کی ہنگامی اضافی امداد طلب کی ہے صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکی چندہ معطل کرنے کے فیصلے پر ہر جانب افسوس چھا گیا ہے۔
امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن سے لے کر حزبِ اختلاف ڈیموکریٹک پارٹی ، اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل ، یورپی یونین اور چین سمیت سب کہہ رہے ہیں کہ اگر ٹرمپ عالمی ادارہِ صحت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں بھی تھے تو یہ وقت امداد بند کرنے کا نہیں بلکہ اور امداد دینے کا ہے۔ ایسے موقع پر جب انسان بقائی جنگ لڑ رہا ہے ٹرمپ کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے۔
مگر یہ نہ تو کوئی پہلی حرکت ہے نہ ہی آخری۔آج جب ایران کرونا سے متاثر ممالک کی صفِ اول میں ہے ۔امریکہ نے اس کے خلاف اقتصادی پابندیاں نرم کرنے کے بجائے مزید سخت کر دی ہیں۔
ایک جانب کورونا کا کامیابی سے مقابلہ کرنے پر ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کو مبارک باد دی اور اگلے ہی روز کورونا کو کووڈ نائنٹین کے تسلیم شدہ نام سے پکارنے کے بجائے چائنیز وائرس کہنا شروع کر دیا اور پھر اسی چین سے حفاظتی سامان بھی منگوایا جا رہا ہے۔
سن پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں تیسری دنیا کے ممالک کو بھک مری کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ فاضل گندم اور دیگر اجناس رعائتی قیمت پر یا مفت فراہم کرتا تھا۔ اسی دور میں یو ایس ایڈ کا ادارہ بھی وجود میں آیا۔یوایس ایڈ کے دودھ کے ڈبوں اور گندم کی بوریوں پر دو مصافحہ کرتے ہاتھوں کی تصویر ہوتی اور اس کے نیچے لکھا ہوتا امریکی عوام کی طرف سے۔
آج امریکہ کورونا بحران سے نپٹنے کے لیے عالمی قیادت کرنے کے بجائے اس گینگسٹر میں تبدیل ہو چکا ہے جو بڑی عید کے موقع پر طمنچے کے زور پر قربانی کی کھالیں چھیننے کا کام کرتے ہیں۔یقین نہیں آتا کہ یہ وہی بڑے دل والا امریکہ ہے جو دونوں عالمی جنگوں اور پھر سرد جنگ کے زمانے میں خود کو عالمی سرپرست و سرپنچ سمجھتا تھا۔
ٹُچے پن کی انتہا یہ ہے کہ ایک جرمن کمپنی کیور ویک جو کورونا کی ویکسین پر کام کر رہی ہے۔صدر ٹرمپ نے اس کے چیف ایگزیکٹو ڈینیئل منشیلا سے مارچ کے شروع میں وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران پیش کش کی کہ وہ ایک ارب ڈالر کے عوض یہ ویکسین باقی دنیا کو فراہم کرنے سے پہلے صرف امریکہ کو فراہم کرے۔ جرمن وزیرِ خارجہ اور وزیر برائے اقتصادی امور نے اس پیش کش کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی برائے فروخت نہیں۔اگر ویکسین بنی تو پوری دنیا کو مہیا کی جائے گی ۔کیور ویک نے چند دن بعد اپنے چیف ایگزیکٹو کو چلتا کر دیا۔
چین میں تھری ایم نامی ایک امریکی کمپنی کورونا سے بچاؤ کے لیے این نائنٹی فائیو ماسک بناتی ہے۔اس کمپنی کو جرمنی نے دو لاکھ ، فرانس نے ڈیڑھ ملین ، کینیڈا نے تین ملین اور انڈین ریاست تامل ناڈو نے چار لاکھ ماسک کا آرڈر دیا۔امریکہ نے اس کمپنی کو دس ملین ماسک کے لیے دو گنا قیمت اور فوری ادائیگی کی پیش کش کی ۔چنانچہ کمپنی نے پہلے سے طے شدہ معاہدے منسوخ کر کے ٹرمپ حکومت سے سودا پکا کر لیا۔
جرمنی اور کینیڈا نے اس بد عہدی پر شدید احتجاج کیا جبکہ فرانسیسی نمائندوں نے عین اس وقت واویلا مچا دیا جب لاکھوں ماسک کی کھیپ لے کر ایک طیارہ امریکہ کی جانب پرواز کرنے والا تھا۔اس واویلے کے نتیجے میں یہ طیارہ پیرس کی جانب موڑنا پڑا ۔ مگر باقی سودا کرنے والے امریکی پیش کش کے سامنے ہاتھ ملتے رھ گئے۔
اسی طرح امریکہ چین سمیت ہر جگہ کی کمپنیوں سے منہ مانگی قیمت پر وینٹی لیٹرز خرید رہا ہے اور اس نفسانفسی کے سبب امریکہ کے روائتی دوست وینٹی لیٹرز کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔میکسیکو میں سمتھ میڈیکل نامی ایک امریکی کمپنی وینٹی لیٹرز بناتی ہے۔
جب میکسیکو نے اس کمپنی سے سو کے لگ بھگ وینٹی لیٹرز قیمتاً خریدنا چاہے تو کمپنی نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ معاہدے کے تحت یہ وینٹی لیٹرز صرف ایکسپورٹ ہو سکتے ہیں مقامی مارکیٹ میں نہیں بیچے جا سکتے۔چنانچہ حکومتِ میکسیکو نے کمپنی کا برآمدی لائسنس منُسوخ کر کے حکم دیا کہ وہ اپنا سارا کام تپڑ لپیٹ لے۔
ٹرمپ کے کان میں کسی نے کہہ دیا کہ انسدادِ ملیریا میں استعمال ہونے والی ہائیڈرو کلوروکین کورونا کے علاج میں گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے، حالانکہ امریکی ڈرگ اتھارٹی اس کی تردید کر چکی ہے مگر بادشاہ تو ٹرمپ صاحب ہیں انہوں نے فوراً کلوروکین کی ستر فیصد عالمی پیداوار کے مرکز بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو فون کھڑکا دیا کہ یا تو کلوروکین پر لگائی برآمدی پابندی ہٹاؤ یا پھر جوابی کارروائی کے لیے تیار ہو جاؤ ۔
مودی جی نے چوبیس گھنٹے میں ہی پابندی ہٹا لی۔دو دن بعد پاکستان نے بھی کلوروکین کی برآمد پر لگی پابندی خاموشی سے ہٹا لی اور چار دن بعد ایک نیا ایس آر او جاری کر کے پھر لاگو کر دی۔
ٹرمپ نے ہر امریکی شہری کو بارہ ہزار ڈالر کا ہنگامی امدادی چیک دینے کا فیصلہ کیا ہے مگر یہ فرمائش بھی کی ہے کہ ہر چیک میرے نام سے جائے گا۔چنانچہ اب نئے چیک چھاپے جا رہے ہیں جن پر خادمِ اعلٰی ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا نام درج ہو گا۔جارج واشنگٹن سے اوباما تک کسی نے بھی اس طرح کے امدادی چیک پر نام نہیں چھپوایا مگر ٹرمپ کی بات ہی کچھ اور ہے۔
کسی نے مجھے وٹس ایپ پر یہ قصہ بھیجا کہ ایک سرکاری سکول کی پانچویں جماعت کے بچوں کو انگریزی کے استاد نے ٹرمپ صاحب کے دورِ صدارت پر مضمون لکھنے کو کہا۔پانچ منٹ بعد ایک بچے نے ہاتھ اٹھا کر پوچھا ماسٹر جی ماسٹر جی چھچھورپن کو انگریزی میں کیا کہتے ہیں؟
( بشکریہ : اردو نیوز )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker