غضنفر علی شاہیکالملکھاری

غضنفر علی شاہی کا کالم : غلام حیدر وائیں کتنے درویش تھے ؟

بادشاہت کا نظام ناپید ہوا جمہوریت دنیا بھر میں پنپ گئی ۔جمہوریت میں گنتی اہمیت اختیار کر گئی لیکن گنتی کرنے والوں کی جگہ عوام نہ لے سکی اور نہ ہی بادشاہی سوچ ختم ہو سکی۔اس سوچ کے مالکان نے اپنی چھوٹی چھوٹی ریاستیں بنا لیں ریاستوں کی سرحد نہیں کیونکہ عوام ہر جگہ موجود ہے اور بے بس مسائل زدہ عوام حکمرانی قبول کرنے پر مجبور۔جب عوام اس شاہانہ سوچ پر غلبہ پا لے گی تو جمہوریت منزل کی طرف رواں دواں ہو گی۔ اور جب تک قانون کی طاقت پر شخصی طاقت حاوی رہے گی جمہوری نظام سسکتا رہے گا۔
دو واقعات قارئین کی نذر کرتا ہوں جس سے سوچ کی عکاسی ہوگی ایک تھے وزیر اعلیٰ پنجاب غلام حیدر وائیں جن کا تعلق میاں چنوں سے تھا اور ن لیگ والے انہیں درویش وزیر اعلیٰ کہتے تھے۔انہوں نے اتوار کے روزمیاں چنوں میں کھلی کچہری لگانے کا فیصلہ کیا اور اپنے تعلقات کی بناپر مجید نظامی مرحوم سے کہا کہ رپورٹنگ کیلئے نوائے وقت ملتان سے رپورٹر بھیجا جائے۔ نوکری کی تے نخرہ کی، بندہ اتوار کو پہنچ گیا۔وہاں چند لوگ پیش ہوئے اور شکایت کی کہ مائی بکھاں کو نشتر ہسپتال والے ڈسچارج کر رہے ہیں۔ جس پر وزیر اعلیٰ پنجاب غلام حیدر وائیں نے توقیر شاہ کو ہدایت کی کہ وہ پتہ کریں کس نے مائی بکھاں کو ڈسچارج کرنے کا کہا ہے وہ نشتر ہسپتال نہیں رہیں گے۔یہ توقیر شاہ ڈی فیکٹو وزیر اعلیٰ تھے جنہیں اس وقت کے پی ایم اے کے صدر ڈاکٹر ظفر چودھری توقیر اعلیٰ کہتے تھے۔میں نے بطور رپورٹر اگلے روز اس وقت کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر چودھری ریاض سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ ڈیڑھ ماہ سے فیملی وارڈ میں مریضہ داخل ہے۔فیملی وارڈ پہنچا تو مریضہ کا کمرہ گلدستوں سے اٹا پڑا تھا کمرے میں ایک نرس سمیت چار خواتین اور ایک مرد موجود تھا۔پتہ چلا ساتھ والا کمرہ بھی ان کے قبضہ میں ہے اور ڈیرے کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔نرس نے بتایا کہ مائی بکھاں کی شکایت پر دو نرسوں کا تبادلہ توقیر شاہ نے بہاولپور کرا دیا ہے واپس مزید معلومات کیلئے ایم ایس کے پاس آیا تو انہوں نے صرف اتنا کہا کہ اتنی وی وی آئی پی مریضہ اپنی ملازمت میں پہلی مرتبہ دیکھی ہے جسے روزانہ گلدستہ پہنچانا بھی میری ڈیوٹی میں شامل ہے ۔
بعد ازاں درویش وزیر اعلیٰ نے نشتر ہسپتال کے دو پروفیسروں کا تبادلہ اس بنا پر لاہور کر دیا کہ انہوں نے مائی بکھاں کو ڈسچارج کرنے کا کیوں کہا اور پھر مائی بکھاں نے گرمی کا سیزن نشتر ہسپتال کے فیملی وارڈ میں گزارا۔
دوسرا واقعہ بھی ایسی ہی سوچ کی عکاسی کرتاہے۔جن پروفیسروں کا درویش وزیر اعلیٰ کے حکم پر تبادلہ ہوا انہوں نے ان احکامات کے خلاف لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ سے رجوع کیا تو ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل تصدق جیلانی سے کہا گیاکہ پٹیشنرز سے کہیں کہ اگر وہ ریلیف چاہتے ہیں تو وزیر اعلیٰ غلام حیدر وائیں کا نام ریسپانڈنٹ سے نکال دیں یعنی اسے پارٹی انہیں پارثی نہ بنائیں گویا مائی بکھاں کا ذکر بھی گول کر دیں۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے پٹیشنرز سے کہہ کر نام نکلوا دیا۔(یاد رہے تصدق جیلانی چیف جسٹس آف پاکستان کے طور پر ریٹائر ہوئے) میں نے بطور رپورٹر نوائے وقت میں خبر دے دی کہ ریلیف چاہیے تو وزیر اعلیٰ کو پارٹی نہ بنائیں جس پر جج نے مجھے توہین عدالت میں طلب کرلیا۔غیر مشروط معافی کے باوجود دو روز بعد پھر طلب کر لیا۔پھر غیر مشروط معافی طلب کی تو معافی مل گئی لیکن اگلے روز پھر توہین عدالت میں طلب کر لیا۔ شاید جج مجھے سبق سکھانا چاہتے تھے لیکن ذات کا رپورٹر خبر دینے سے باز کیسے آسکتا ہے۔ تیسری بار طلب کرنے پر عدالت سے میرے وکیل اور دوست کنور انتظار محمد خان نے کہا کہ چارج فریم کریں ہم فائٹ کریں گےجس پر کورٹ میں موجود وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ معافی قبول کر لیں اس طرح معاملہ رفع دفع ہو گیا جبکہ پٹیشن سے درویش وزیر اعلیٰ کا نام نکالنے پر پروفیسرز کو بھی ریلیف مل گیا اور تبادلہ کے احکامات غیر قانونی قرار دے دیئے گئے۔رپورٹر صاحبان حقائق پر مبنی خبر کے باوجود عدلیہ کا احترام کریں۔اس رائج نظام میں با اختیار ہمیشہ حق پر ہوتا ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker