اختصارئےتجزیےغضنفر علی شاہیلکھاری

برداشت یا بے غیرتی ؟ ۔۔ غضنفر علی شاہی

ترقی یافتہ  ممالک کی دیکھا دیکھی ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں بھی عدم برداشت کے خلاف دن منائے جاتے ہیں جبکہ پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک اورخاص طور پر جہاں پر نام نہاد جمہوریت ہو اور جہاں کسانوں، مزدوروں حتیٰ کہ اقلیتوں کی نمائندگی بھی سرمایہ دار، جاگیردار اور مراعات یافتہ طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کر رہے ہوں،  وہاں برداشت اور بے غیرتی میں تھوڑا ہی فرق رہ جاتا ہے۔ اگر والدین اپنے بچوں کو خوراک فراہم نہیں کر سکتے ۔ انہیں تعلیم کے زیور سے آراستہ نہیں کر سکتے۔ ان کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم نہیں کر سکتے اور اس کے باوجود ان میں ’’برداشت‘‘  کا مادہ بدرجہ اتم موجود ہے۔ اور اس بے بسی اور فرسودہ نظام کے خلاف احتجاج بھی نہیں کرتے۔ تو پھر ایسی برداشت، انسانیت اور رواداری بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔ یہ کیسی برداشت ہے کہ غریب والدین کا بچہ پیٹ بھر کر روٹی نہ ملنے کے سبب بیمار ہو جائے اور والدین اس کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم نہ سکیں۔ غریب کے بچے مراعات یافتہ طبقے کے بچوں کو کاروں پر جاتے دیکھیں اور غریب بچے پیدل بھی سکول نہ جا سکیں کہ ان کے پاس کتب نہیں اور انہوں نے کسی امیر کے گھر میں کام کر کے گھر کا خرچہ چلانا ہے یا کسی دکان پر ”چھوٹے “ کے نام سے محنت مزدوری کر کے پیٹ کا ایندھن پورا کرنا ہے۔ غریب کی کمسن بیٹی نے کسی امیر کے گھر کام کر کے ان کے ظلم اور ہوس کا نشانہ بن کر گھر کے اخراجات پورے کرنے ہیں۔ ان حالات میں بھی اگر ملک کی آبادی کا 70 فیصد طبقہ برداشت کا مظاہرہ کرے اور اس نظام کے خلاف نہ اٹھے تو اسے برداشت نہیں بے غیرتی  ہی کہا جائے گا۔ قابل افسوس بات یہ ہے کہ ملک میں جمہوریت کے نام پر منتخب ہونے والے نمائندے مراعات یافتہ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور اس ملک میں حقِ انتخاب بھی صرف انہیں ہی حاصل ہے جنہیں آٹا، دال، گھی کی قیمت تک کا پتہ نہیں۔ لیکن کاروں کے ماڈل،  برانڈڈ اشیاء کے متعلق مکمل معلومات رکھتے ہیں۔ اس طبقے نے ملک میں الیکشن کو مہنگا ترین بنا کر اپنے طبقے کےلئے راہ ہموار کی ہے جبکہ فوجی حکمرانوں کے بعد بھی جمہوریت کے علمبرداروں نے طلبا تنظیموں اور محنت کشوں کی یونین سازی پر پابندی عائد کر کے درمیانے طبقے کو بھی مراعات یافتہ طبقے، جاگیردار اور سرمایہ دار کے خلاف صف آراء ہونے والی فوج کے آگے بند باندھ دیئے ہیں۔ اب تو اس بات کا انتظار کرنا پڑے گا کہ وہ طبقہ جن کےبچوں کے پاﺅں میں جوتی، پیٹ میں روٹی اور بدن ڈھانپنے کے لئے کپڑے نہیں ہیں اُن کی برداشت کب ختم ہوتی ہے۔ جو والدین اپنے بچوں کا علاج نہیں کروا سکتے اور اپنے سامنے سسک سسک کر انہیں مرتا دیکھتے ہیں۔ ان کی برداشت کب ختم ہو گی۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker