اختصارئےثمانہ سیدلکھاری

کاجل والی آنٹی اور پڑھی لکھی لڑکیاں ۔۔ ثمانہ سید

غیرملکوں  میں بھلے ہی معاشرے سے گھلنے ملنے کے لئے مختلف کلب وغیرہ بنائے جاتے ہوں گے۔ لیکن ہمارے ملک میں تو جہاں دو خواتین اکٹھی ہوں ایک سوشل سرکل وجود میں آ جاتا ہے۔ اور یہ بہت اچھی بات ہے ایسا ہی ہونا چاہئے لیکن بات تب خراب ہوتی ہے نا کہ جب وہ دو خواتین مل کر تیسری کی برائی کرنے یا مذاق اُڑانے لگ جائیں۔ محفلوں میں یہ سب بارہا ہوتا ہے، جیسے یہ خواتین کا پسندیدہ مشغلہ ہو۔ کبھی آپ نے نوٹ کیا ہو یا نہ۔۔مَیں نے کئی بار دیکھا کہ جہاں دو خواتین اکٹھی ہوتی ہیں کام کی بات کم اور برائی زیادہ پروان چڑھتی ہے۔ میری خواتین قارئین اس بات سے خفا بالکل مَت ہوں کیوں کہ میں خود بھی ان کی طرح ایک خاتون ہی ہوں اور وہی بات لکھ رہی ہوں جو حقیقت ہے۔ آپ آج ہی کی مثال لے لیجئے، میں نے میٹرو کے “زنان خانے” میں ابھی قدم ہی رکھا تھا کہ وہاں گپ شپ میں مشغول دو خواتین نے مجھے اوپر سے نیچے تک گھور کر دیکھا، پھر ایک دوسرے کو آنکھوں آنکھوں میں اشارہ کیا اور منہ سا بنا کر سامنے کو دیکھنے لگیں۔ ان میں سے ایک خاتون کی عمر لگ بھگ کچھ 40-45 کے قریب تھی۔ آنکھوں میں بلا کا اعتماد اور چہرے پر کچھ کرختگی تھی۔ وہ بڑے مزے سے دونوں پاؤں میٹرو کی نازک سر مئی سیٹ پر اوپر کر کے بیٹھی ہوئی تھیں اور اپنے آس پاس کی ہر لڑکی یا خاتون پر کوئی نہ کوئی فقرہ کس رہی تھیں۔ اور دوسری ان سے کچھ چھوٹی تھی جو ان کی ہاں میں ہاں ملاتی تھی غالباً دونوں ساس بہو تھیں۔ خیر قصہ اس کے بارے میں نہیں ہے لیکن ان سے متعلق ہی ہے۔ بات یوں ہے کہ میٹرو روز کی طرح کھچا کھچ بھری ہوئی تھی اور خواتین کا ایک گروہ ڈرائیور کے قریب والی جگہ پر ایک دوسرے کو کہنیاں مار مار کر جگہ بنا رہا تھا۔ اس جگہ پرجہاں تین سے چار خواتین کے کھڑے ہونے کی مشکل سے جگہ ہو گی، پانچ پانچ کھڑی تھیں۔ پیچھے یعنی داخلی دروازے کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ تھا۔ وہاں بھی چار کی جگہ پر سات سات خواتین ٹھونسی گئی تھیں، جن میں سے ایک خاتون جو کہ میرے بالکل پیچھے کھڑی تھیں نے جگہ بنانے کی غرض سے مجھے دھکے دینے شروع کر دئیے۔اب میں پریشان کہ جاؤں تو کہاں جاؤں۔۔۔آگے آگ اور پیچھے دریا۔ خیر میرا سٹاپ کافی آگے تھا سو کچھ ہمت کر کے مَیں آگے بڑھی کہ شاید کہیں جگہ نکل ہی آئے مگر بےفائدہ۔ اب کچھ نہ ہو سکتا تھا کیوں کہ میں بری طرح سے پھنس چکی تھی۔خواتین کا ایک ریوڑ تھا جو اسلام آباد کے ایک مشہور مال میں جانے کے لیے بے تاب تھا۔ جیسے ہی میں خواتین کے غول میں پھنسی میرے بائیں جانب بیٹھی کاجل والی آنٹی نے مجھے اشارہ کیا کہ ذرا بچ کے۔۔ اپنا پرس سنبھال لو۔ ان کی کئی بار میٹرو میں چوری ہو چکی تھی۔ “بچ کر رہو۔۔ جتنے اعلان جاری ہوتے ہیں اتنی ہی چوری بھی ہوتی ہے۔ اور خواتین والے حصے میں تو کچھ زیادہ ہی ہوتی ہے کیونکہ ایک تو جگہ تنگ ہے اوپر سے خواتین خود بھی خیال نہیں کرتیں اپنے پرس اور ضروری سامان کا۔” میں نے بات اپنے پلے سے باندھی اور ابھی پرس سینے سے لگانے کا سوچ ہی رہی تھی کہ کچھ خواتین نے پیچھے سے پھر جھٹکا دیا۔
پلیز دھکا مت دیں۔
میں تو نہیں دے رہی۔۔ ایک دبلی پتلی لڑکی نے صفائی پیش کی۔
اب اس نے اپنے پیچھے کھڑی اپنی سہیلی کو دیکھ کر اونچا سا کہا
یار نہ دو نا دھکا۔۔لوگ تنگ ہو رہے ہیں۔۔ اس نے لفظ “لوگ” پر خصوصی زور دے کر کہا اور پھر دونوں قہقہے لگانے لگیں۔ دونوں یونیورسٹی کی طالبات تھیں اورعقلاً جیسی بھی ہوں شکلاً اچھی خاصی فیملی کی لگتی تھیں۔
خیر میں نے بچیاں سمجھ کر نظر انداز کیا اور آگے بڑھی۔بس کا ایک کونہ خالی نظر آ رہا تھا شاید کچھ سواریاں اتر گئیں تھیں۔ میں آگے بڑھی ہی تھی کہ میرے پیچھے سے وہ بچیاں بھی مجھے کاٹتے ہوئے آگے بڑھیں اور چوکڑی مار کر بیٹھ گئیں جیسے باغ میں بیٹھتے ہیں۔میں پھر زیرِ لب مسکرائی اور انہیں کچھ راستہ دینے کا کہا ہی تھا کہ وہ پھر شروع ہو گئیں۔۔۔”ہا ہا ہا ۔۔۔لک ایٹ ہر۔۔۔ ہاہاہا۔۔۔شی از سو سٹوپڈ۔۔۔ہاہاہا اب کھاؤ دھکے۔”(ہا ہا ہا ۔۔۔اسے دیکھو۔۔۔۔یایایا۔۔۔یہ کتنی بیوقوف ہے۔۔۔)
ان کو ایسے ہنستا دیکھ کر کاجل والی آنٹی غرائیں، “لو جی،دیکھ لو آج کل کی لڑکیوں کا حال۔۔۔یہ سیکھ رہیں تعلیم سے۔۔ پہلے دھکے دے کر پرس چیک کیا اب چوکڑی مار کر بیٹھ گئیں راستہ روک کر دوسروں کے لئے اور اوپر سے ہنسے بھی جا رہیں کہ بدھو وہ ہے۔
آنٹی غصے سے چیخ رہی تھیں اور وہ لڑکیاں ہنس ہنس کر پاگل ہوئے جا رہی تھیں۔اور ان دونوں کے درمیان کھڑی میں یہ سوچ رہی تھی کہ کیا واقعی ہمیں تعلیم یہ سکھا رہی ہے؟

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker