حبیب خواجہکالملکھاری

اندلسی وزیراعظم المنصور اور عمران خان میں مماثلت۔۔ حبیب خواجہ

مسجد قرطبہ کے صحن میں بیٹھا ایک طالبعلم اپنے خیالوں میں عجیب مگن تھا ، انتہا کی سنجیدگی اس کے چہرے سے عیاں تھی ۔ اس کے دیگر دوست جو وہیں کھیل کود میں مشغول تھے ، اچانک انکی اس پر نظر پڑی ۔ ایک نے اچانک سوال داغا ، ”عامر تم کس دنیا میں کھو گئے ہو“ ؟ دوسرے نے شوخی سے کہا عامر دن کے خواب دیکھ رہا ہے ۔
سنجیدگی میں ڈوبے اپنے خیالوں کے بارے میں اس نے اپنے ساتھیوں کو بتایا : ” ایک دن میں اندلس کا وزیراعظم بننے جا رہا ہوں ، اندلس کو درپیش مسائل کو اپنے دور حکومت کے دوران حل کرنے کیلیے میں سوچ و بچار میں مصروف تھا ” – یہ سنتے ہی دوستوں کا ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا ۔ مستقبل کے وزیراعظم نے غصے سے انہیں چپ کرایا اور کمال شاہی جلال سے کہا کہ وہ مناصب بتاؤ جو تم لوگ میرے دورِ وزارتِ عظمی میں حاصل کرنا چاہو گے ۔ ہنسی تھمی ، دوستوں نے چہروں پہ سنجیدگی طاری کی اور ایک نے شہر کا قاضی بننے کی خواہش کی ، دوسرے نے داروغہ بننا چاہا ، تیسرے نے باغات کی نگرانی میں دلچسپی لی جبکہ چوتھے نے بدستور غیر سنجیدگی اور بدتمیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاہی جلال کو یوں غضب ناک کیا : “جب کبھی یہ انہونی ہو کہ تم بادشاہ بنائے جاؤ تو میں چاہوں گا کہ میرا چہرہ سیاہ کر کے گدھے پر بٹھا کر پورے قرطبہ کا گشت کرایا جائے” ۔
تاریخ گواہ ہے کہ آخرالذکر نے آخر ایک دن اپنی مجوزہ سزا پائی ۔ وہ یوں کہ محمد ابی عامر المنصور جب وزیراعظم بنا تو اس کے بچپن کے گستاخ اور بدتمیز ساتھی کو گدھے پر سوار کر کے بچوں کے بڑے جلوس میں قرطبہ بھر کا گشت کرایا گیا ۔ آخر یہ انہونی ممکن ہوئی کیسے ؟
ابی عامر پڑھائی سے فارغ ہوا تو اس نے شاہی محل کے باہر ڈیرہ ڈالا اور معاش کیلیے عرضی نویسی شروع کر دی ۔ وکیل کا بیٹا تھا ، بلا کا ذہین تھا ، جو بھی عرضی لکھتا ، بہترین اسلوب کیوجہ سے شرفِ قبولیت پاتی ۔ یہاں تک کہ علاقہ میں شہرت ہو گئی کہ وکیل کا بیٹا جس کی بھی عرضی لکھتا ہے ، وہ عرضی دربار میں منظور ہوتی ہے ۔ آخر ایک دن بادشاہ کو بھی محسوس ہوا کہ خاص قرینے سے عرضی لکھنے والا نا معلوم عرضی نویس اس کے دل میں گھر کر چکا ہے ۔جلد ہی اندر بلا لیا گیا اور شاہی خطوط نویسی پر مامور ہوا ۔ دربار میں داخلہ تو بس ایک بہانہ بنا ۔ کمال کی ذہانت سے دربار کے درجات اس کیلیے بلند ہوتے گئے ۔دربار میں دوستیاں کیں اور حلیف بنائے جبکہ حرم میں ہمدردیاں پائیں اور آشنائیاں استوار کیں یہاں تک کہ تمام رکاوٹیں ہٹتی چلی گئیں اور ایک دن اندلس کا طاقتور ترین وزیراعظم بننے میں کامیاب ہو گیا ۔ جسے دنیا ایک مدبر حکمران کے طور پر جانتی ہے ۔ابی عامر کے بائیس سالہ دور میں اندلس نے ترقی کی وہ رفعتیں حاصل کیں جن کا اس سے قبل اندلس کا عظیم حکمران خلیفہ عبدالرحمن سوم صرف خواب ہی دیکھ سکا تھا ۔اس نے تقریباً ساٹھ جنگیں کیں اور سب میں فتوحات حاصل کیں اور یوں “المنصور” یعنی فاتح کے نام سے مشہور ہوا -۔اسپین کی ایک بلند پہاڑی چوٹی اس کے نام کی نسبت سے ” المنصور” کے نام سے آج بھی جانی جاتی ہے ۔
اس سچے تاریخی واقعے کے بعد آج کا نیا حوالہ پیش کرونگا جس میں المنصور سے کافی مماثلت پائی جاتی ہے ۔ ایک ایسی شخصیت جس کے طریقہءِ سیاست سے ہزار اختلافات کے باوجود ماننا پڑے گا کہ اس نے ابی عامر کی طرح کئی خواب دیکھے اور ہر خواب کی تعبیر اپنی بلندیءِ پرواز ، اور جہدِ مسلسل کے ذریعے حاصل کی اور نا ممکنات کو ممکن بنایا جبکہ خود پر ہونے والی ہر تنقید و استہزاء کو باطل ثابت کر دکھایا ۔ یہ شخصیت ہے نو منتخب وزیراعظم پاکستان عمران خان نیازی جس نے کرکٹ چیمپئن بننے کا خواب دیکھا اور انتہائی مخدوش حالات میں جب گیم تقریباً ہاتھ سے نکل چکی تھی ، اسکی تعبیر حاصل کی ۔ ماں کینسر سے اللہ کو پیاری ہوئی کہ کینسر کے خلاف محاذ کھڑا کر دیا اور پاکستان میں جدید کینسر ہسپتال بنانے کا خواب دیکھا ۔لوگ اس پر ہنستے تھے ، مگر اس نے جو چاہا ، حاصل کر دکھایا ۔
بائیس سال کی مسلسل سیاسی جدوجہد ہرگز آسان نہیں تھی ، جس کے دوران گڑے مردے نکالے گئے ۔ کہا گیا کہ اس کے ہاتھ پر تو وزارت عظمی کی لکیر ہی نہیں ، مگر اسکی استقامت کے سامنے ہر کنکریٹ کی دیوار ریت کا ڈھیر ثابت ہوئی ۔
اس نے تقریباً ہر ناممکن کو ممکن بنایا ، اندلس کے المنصور کی طرح ناقدین و مخالفین کو ساتھ ملاتا رہا اور اپنا راستہ صاف کرتا گیا ۔ یہانتک کہ آخر کار اس کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا ، نہ اسکے ہاتھ پہ وزارت عظمی کی لکیر تھی نہ وہ چوہدری یا نمبردار کا بیٹا تھا ۔ بنی عامر کی طرح اس نے بھی خواب بینی ، لگن اور جُہدِ مسلسل سے انہونی کو ممکن بنایا ۔ فوج اور قانون کا ساتھ تو بس بہانے بن گئے ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker