حبیب خواجہکالملکھاری

کرپٹ زرداری کا سہولت کار حفیظ شیخ اور کلین پاکستان ۔۔ حبیب خواجہ

کپتان ! دیگ تیری ساری نرالی ..
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے..
یہ مصرع اسد عمر نے IMF سے ڈائیلاگ اور امریکہ یاترا سے واپسی پر اپنے ہٹائے جانے کی چہ مگوئیوں پر مبنی ایک صحافی کے سوال پر داغا – جواب سے انکا بطور وزیر خزانہ برقرار رہنے کا اعتماد واضح طور پر چھلک رہا تھا – وہ گمان کر بیٹھے تھے کہ تبدیل ہونے والے جیسے وہ آخری وزیر ہونگے – امریکہ جاتے ہوئے بھی انکا اعتماد آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا تھا – مگر اسی دن شام تک انہیں پاؤں کے نیچے سے زمیں سرکتی محسوس ہونے لگی – اور جلد ہی مستعفی ہونے کیلیے یوں مجبور ہوئے کہ پریس کانفرنس کے موقع پر دائیں بائیں خالی پڑی کرسیاں منہ چڑا رہی تھیں ، کوئی کارکن تک ساتھ نہ بیٹھا جیسے کوئی اچھوت ہوں –
عمران ان کو PTI کا دماغ کہتے تھے ، کہنے والے اب یہ بھی کہہ رہے کہ کابینہ ” بے دماغ” ہو گئی ہے – بقول شخصے ، اوپنر کے ناکام جانے کے بعد اب جلد پوری ٹیم پویلین سدھارنے والی ہے – سب سے کمزور ٹیم ممبر عثمان بزدار کے جانے کے منتظر حلقوں کیلیے اسکا فی الحال ٹھہر جانا کسی اچنبھے سے کم نہیں – اسی بات سے اس خیال کو تقویت ملتی ہےکہ اسد عمر کی رخصتی کے پیچھے ملک اور پارٹی کے مفاد سے زیادہ خارجی محرکات ہیں – اشارے ہیں کہ غیرملکی آقاؤں کے حکم پر اناڑی فنانس منسٹر ڈراپ کر کے انکی جگہ IMF کے مجوزہ ماہرین کی ٹیم بنائی جا رہی ہے جو فنانشل معاملات سنبھالے گی –
چونکہ خان صاحب کو باور کرا دیا گیا ہےکہ آپ کی دیگ میں سارے دانے اسد عمر ، عثمان ڈار ، چوہدری فواد ، فیاض چوہان اور شہریار آفریدی جیسے ہی ہیں – اب دیگ کے اندر کفگیر پھیرنے سے گوہر مقصود نہیں نکلے گا – اس کیلیے غیر منتخب ماہرین و ٹیکنوکریٹس پر تکیہ کرنا پڑے گا – اس مقصد کیلیے قرعہ معین قریشی اور شوکت عزیز کیطرح ایک امپورٹڈ ٹیکنوکریٹ ڈاکٹر حفیظ شیخ کے نام نکلا ہے جس کی تعلیمی قابلیت اور فارن میں غیروں کی خدمات کے تو بہت چرچے ہیں مگر پاکستان میں مختلف سیاسی ادوار کے دوران مختلف کلیدی مناصب پر اس نے جو تیر مارا ہے ، اسکی نشاندہی کوئی دانشور نہیں کر پا رہا –
پرائیویٹائیزیشن کمیشن کے سربراہ کے طور پر انہوں نے ملتان کی کھاد فیکٹری عجلت میں اونے پونے داموں بیچی اور Ptcl کی جزوی نجکاری میں جو بے احتیاطیاں برتیں ، انہی کا شاخسانہ ہےکہ آج تک خریداروں سے مکمل ادائیگی ممکن نہیں ہو سکی اور یہ سودا ابتک ہر حکومت کیلیے سردرد بنا ہوا ہے – موصوف تو اسٹیل ملز پر بھی ہاتھ صاف کرنے والے تھے مگر سپریم کورٹ نے بروقت سوموٹو ایکشن لیکر اس کوشش کو ناکام بنا دیا تھا –
انکی امریکی بیوی اور غیر ملکی کاروباری پارٹنر کی پروفائل پر موجود تحفظات کو بالائے طاق رکھ کر جلدبازی میں کی گئی تنصیب دیکھتے ہیں کیا رنگ لائے گی – یاد رہے ، سپریم کورٹ نے ایک آرڈر کے ذریعے کیبنیٹ کو پابند کیا ہےکہ غیر ملکیوں سے شادی کرنے والے حضرات بھی کلیدی مناصب پر مستفیض نہیں ہو سکیں گے –
یہ امر انتہائی معنی خیز ہیکہ زرداری کی ساری مبینہ کرپشن کا بھیدی اور مرکزی سہولت کار ، اسکا فنانس منسٹر اب نیٹ اینڈ کلین اور نئے پاکستان کا مشیر خزانہ بن گیا ہے – کون سی کرپشن اور کون سا احتساب ؟ پی پی قیادت سے دیرینہ تعقات کے پیش نظر اغلب ہےکہ انکی تعیناتی سے پی پی کافی مستفید ہو سکے گی – کم از کم خاموش NRO ہرگز بعید از امکان نہیں –
الغرض اوپنر اسد عمر سے کچھ نہیں ہو پایا تو حفیظ شیخ بھی میاں داد ہرگز نہیں کہ چوکے چھکے لگا کر حکومت کو زبردست معاشی ڈیڈلاک سے نکال سکیں – آخر میں انکا متوقع جواب یہی ہو سکتا ہیکہ انکے پاس جادوئی جھاڑو تو تھا نہیں جو اسد عمر کے گند کو صاف کر پاتے –
جو لوگ ابتدا سے ہی اسد عمر کو اناڑی کہہ رہے تھے ، وہ عمران خان کا بھی ہمیشہ سے یہی کہتے رہے ہیں کہ بس کھلاڑی ہیں – جو ٹیم کے کپتان تو بن سکتے ہیں مگر کابینہ یا ملک کی سربراہی انکا کام نہیں – انکی سرکردگی میں ورلڈ کپ جیتنا ایک اتفاق تھا مگر ملک اور حکومتیں صرف ایسے اتفاقات سے نہیں چلا کرتیں – دعوے تو یہ ہمیشہ سے کرتے آئے ہیں کہ ان کے پاس ہر مرض کی دوا ، ہر زہر کا تریاق ، اور ہر مشکل کا حل ہے – کدھر گئیں انکے ماہرین کی ٹیمیں ، کدھر گئے پڑھے لکھے لوگ جو ملک کو اندھیروں سے نکالنے کیلیے بیتاب تھے ؟ وزارت سائنس کیلیے اس مطلوبہ لیول کا کوئی آدمی نہیں ، وزیر خارجہ اور وزیر اطلاعات بھی مانگے تانگے والے ہیں – باقی وزارتوں کی زبوں حالی بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ۔
فی الحال نئے تنصیب شدہ مشیر خزانہ اور ماہرین پر مشتمل انکی نئی ٹیم کیلیے بڑا چیلنج IMF سے ڈیل اور سالانہ بجٹ بنانا ہے – تین ماہ میں ملک لائق انکی قابلیت کا بھی معلوم پڑ جائیگا –

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker