حفیظ خانسرائیکی وسیبکالملکھاری

صوبہ بہاولپور کا مقدمہ : سرکشی / حفیظ خان

چند دن ہوئے ایک معاصر کے ادارتی صفحہ پر مرزا محمود جہلمی کا کالم شائع ہوا ”مقدمہ صوبہ پوٹھوہار“تو مجھے شدت سے مرحوم ریاض ہاشمی یاد آئے جنہوں نے 1972ءمیں بہ زبان ِ انگریزی ایک کتاب لکھیBrief for Bahawalpur Province یعنی ”صوبہ بہاول پور کا مقدمہ“۔بحالی صوبہ تحریک کے دوران 24اپریل 1970ءکو فرید گیٹ کے مقام پر پولیس فائرنگ سے شہید ہونے والوں کے سرخیل عظیم بخش کے نام منسوب اِس کتاب کو بہاول پور صوبہ محاذ نے شائع کیا ۔ اِس معرکتہ لآراکتاب کے مصنف ریاض ہاشمی پیشہ کے لحاظ سے وکیل تھے مگر سیاسی ، سماجی، تاریخی اور ادبی حقائق پر گہری نگاہ رکھتے تھے۔بہاول پور کی صوبائی حیثیت کی بحالی کا مقدمہ تیار کرتے ہوئے انہوں نے مدعی کی بجائے محقق کا کردار ادا کیا اور تمامی حقائق یکجا کرنے کے بعد جس منصف کے سامنے پیش کئے وہ کوئی اور نہیں بلکہ ”وقت اور زمانے“ کا دھارا تھا کہ جس کے فطری بہاؤ سے مسائل کے منطقی حل کی توقع کی جارہی تھی۔
صوبہ بہاول پور کے مقدمے کا آغاز تین اکتوبر1947ءسے ہوتا ہے کہ جب نواب بہاول پور سر صادق محمد خان عباسی خامس نے بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی کوششوں کو رد کرتے ہوئے سبھی ہندوستانی ریاستوں سے پہلے پہل پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا۔جواہر لال نہرو بہاول پور کی جغرافیائی حیثیت کے پیش نظر اِس کا الحاق ہر قیمت پر بھارت سے چاہتے تھے تاکہ پاکستان کو تمام ممکنہ اطراف سے گھیرا جا سکے۔ گھیراؤ کے اِس عمل کوموثر بنانے کے لیے انہوں نے اپنی سیاسی دانشور بہن وجے لکشمی پنڈت کو بھی بہاول پورمراجعت کے لیے مجبور کیا کہ کسی طور نواب صاحب کو اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور کیا جا سکے مگر انہیں کامیابی نہ ہوئی۔اِس الحاق کی رو سے امیر آف بہاول پور نے اپنا حق حکمرانی برقرار رکھتے ہوئے صرف دفاع، خارجہ امور اور مواصلات کے شعبے حکومت ِ پاکستان کے حوالے کئے۔30اپریل1951ءکو اُس وقت کے گورنر جنرل پاکستان خواجہ ناظم الدین اور نواب بہاول پور کے درمیان ایک معاہدہ بعنوان ”الحاق کی دوسری اضافی دستاویز“ ہوا جس کی رو سے بہاو ل پور کو ریاست کی بجائے عملی طور پر اُسی طرح ایک انتظامی صوبے کی حیثیت دے دی گئی جیسا کہ 1935ءکے انڈیا ایکٹ کے تحت دیگر صوبوں کو حاصل تھی۔اِس انتطام کے تحت جہاں بہاول پور کے لیے ”عبوری آئینی ایکٹ “مجریہ 1952ءمنظور کی گیا وہاں اِس صوبے کی قانون ساز اسمبلی کے لیے پہلے انتخابات 1952ءمیں منعقد ہوئے جس میں مسلم لیگ کی کامیابی کے سبب مخدوم زادہ سید حسن محمود صوبائی وزیر اعلیٰ بنے۔ صوبہ بہاول پور کی اپنی ہائی کورٹ (بغداد الجدید)، سول سیکریٹریٹ ،بورڈ آف ریونیو،دفتر اکاؤ نٹینٹ جنرل اور پبلک سروس کمیشن بھی تھا کہ جس کے سربراہ ایک ریٹائرڈ چیف جسٹس عبدالعزیز تھے۔اُس وقت ریاست میں میٹرک تک تعلیم مفت اور اعلیٰ تعلیم کا حصول بھی ریاستی ذمہ داری تھی۔اِس کے واسطے ہندوستان کی دیگر عظیم جامعات کے علاوہ ایچیسن کالج، پنجاب یونیورسٹی اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور کو خطیر رقوم گرانٹ کے طور دی جاتیں کہ جن کے ہاں ریاستی طالب علموں کی اعلیٰ تعلیم کے لیے نشستیں مختص کرائی گئی تھیں۔ریاستی طالب علموں کی لاہور میں مفت رہائش اور دیگر سہولتوں کے لیے مزنگ چونگی (قرطبہ چوک)کے پاس دوسو کنال سے زائد رقبے پر محیط ایک وسیع و عریض ”بہاول پور ہاؤ س“ بنوایا گیا کہ جہاں اگرچہ اب سرکاری افسروں کی رہائشی کالونی GOR-2بن چکی ہے مگر یہ ابھی تک ”بہاول پور ہاؤ س“ کے نام سے منسوب ہے اور مزنگ چونگی کو چوبرجی سے ملانے والی روڈ کو اب بھی بہاول پور روڈ کہا جاتا ہے۔بہاول پور ریاست سے ایک عملی صوبہ بننے کے بعد بھی ہمیشہ سرپلس بجٹ دیتا رہا کہ جب پنجاب سمیت پاکستان کے دوسرے صوبے خسارے کا بجٹ پیش کر رہے تھے۔1954-55ءمیں صوبہ بہاول پور کا پیش کردہ اضافی بجٹ چار کروڑ نوے لاکھ بیس ہزارچھ سو بارہ روپے کا تھا جو مالی حجم کے اعتبار سے مشرقی پاکستان سمیت سبھی صوبوں سے زیادہ تھا۔
ریاض ہاشمی مرحوم کے مطابق صوبہ بہاول پورکے مقدمے میں ایک اہم موڑ اُس وقت آیا کہ جب نواب بہاول پور اور حکومت ِ پاکستان کے درمیان گیارہ اپریل1952ءکو ”الحاق کی تیسری اضافی دستاویز“ پر گورنر جنرل غلام محمد نے دستخط کئے۔اِس معاہدے کی رو سے قرار پایا کہ پاکستان کی آئین سازاسمبلی میں ریاست بہاول پور کی جانب سے باقاعدہ مقرر کئے گئے نمائندگان کی شمولیت کی صورت میں بنایا گیا آئین پاکستان کے دیگر علاقہ جات کی طرح بہاول پور پر بھی نافذ ہوگا۔لیکن جب پاکستانی آئین ساز اسمبلی سے دس جولائی 1955ءکو ”نمائندگان ریاست ہائے و قبائلی علاقہ جات ایکٹ “(The Represntatives of the States and Tribal Areas Act, 1955) منظور ہواتو اُس وقت تک اسمبلی میں ریاست کی جانب سے مقرر کیا گیاکوئی بھی ممبر موجود نہیں تھا۔ اسی طرح اُس آئین ساز اسمبلی میں بھی ریاست بہاول پور کی جانب سے طے شدہ نمائندگی سرے ہی سے نہیں تھی کہ جس نے تین اکتوبر 1955ءکو ”مغربی پاکستان کے قیام کا ایکٹ“(Establishment of West Pakistan Act,1955) منظور کیا۔ لہذا صوبہ بہاول پور کی حد تک یہ قانون غیر موثر اور ناقابل ِ اطلاق تھا اِس لیے بہاول پور کی ون یونٹ میں شمولیت کا کوئی آئینی جوازفراہم نہیں کرتا تھا۔
مزید براں آئینی ماہرین کے مطابق نواب بہاول پورکو کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں تھا کہ وہ سات دسمبر 1954ءکو صوبہ بہاول پور کے مغربی پاکستان میں انضمام کا کوئی معاہدہ کرتے۔اگرچہ سید احمد نواز شاہ اور چوہدری عبدالسلام نواب بہاول پور کی جانب سے پاکستان کی آئین ساز اسمبلی میں ریاست بہاول پور کے نمائندے نامزد کئے گئے مگر اُن کی نامزدگی غیر قانونی اور باطل تھی کیونکہ اُس وقت بہاول پورکی آئین ساز اسمبلی موجود تھی اور پاکستانی آئین ساز اسمبلی میں بہاول پور کے نمائندے مقرر کرنے کا اختیار نواب صاحب کی بجائے صرف اُس اسمبلی کو حاصل تھا۔لہذا ریاض ہاشمی مرحوم کی رائے میں ون یونٹ کے تحت بننے والے صوبہ مغربی پاکستان میں اس طور بہاول پور کی بطور صوبہ شمولیت بھی غیر قانونی ہو کر رہ گئی تھی۔ چاہئے تو یہ تھا کہ نواب بہاول پور انضمام کا معاہدہ کرنے سے پہلے ”عبوری آئینی ایکٹ مجریہ 1952ء“ کی دفعہ 74 کے تحت بہاول پور کے صوبہ مغربی پاکستان میں انضمام کا اہتمام بہاول پور کی اسمبلی سے کوئی ایکٹ یا آرڈیننس منظور کرا ئے جانے کے بعد کرتے مگر چوہدری محمد علی کے حکومتی دباؤ سے ہراساں نواب صاحب نے اسی میں عافیت جانی کہ بہاول پور کی اسمبلی سے کوئی قانون پاس کرائے بغیر ہی انضمام کے معاہدے پر دستخط کر دیے جائیں جو کہ سراسر غیر قانونی تھا۔
اِسی طرح جب 14اگست 1955ءکو صوبہ مغربی پاکستان کے قیام کے وقت صوبہ پنجاب، سندھ، سرحد اور ریاست خیر پور کی آئین ساز اسمبلیوں کا وجود غیرموثرہو کر تحلیل ہوا اور اِن کے وزراء ، پارلیمانی سیکریٹری، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، سیکریٹریزکے مناصب بھی بے عمل ہو گئے مگر مغربی پاکستان کے قیام کے ایکٹ کی دفعہ 11کی ذیلی دفعہ 7 کے تحت کئے گئے متذکرہ بالا احکامات کے باوجود بہاول پور کی اسمبلی بدستور قائم رہی کیونکہ اُس کا تذکرہ اس قانونی حکم میں موجود ہی نہیں تھا۔ یہی وجہ تھی کہ بعد ازاں بہاول پور کے عبوری آئین کے ایکٹ (1952) کی دفعہ 74کے تحت اسے معطل کردیاگیا ۔چونکہ صوبہ مغربی پاکستان بن جانے کے باوجود بہاول پور کی اسمبلی موجود تھی لہذا مغربی پاکستان کے قیام کے قانون مجریہ 1955ءمیں اٹھارہ نومبر 1955ءکو کی جانے والی ترمیم کے ذریعے اِس اسمبلی کو اختیار دے دیا گیا کہ وہ مغربی پاکستان کی اسمبلی کے لیے 23اراکین کا چناؤ کرے۔لہذا اِس نوعیت کے کئی اور قانونی سقم اور ضابطے کی خلاف ورزیوں کو بنیاد بنا کر ریاض ہاشمی مرحوم کے عہد کے آئینی ماہرین کادعویٰ تھا کہ نہ تو ون یونٹ کے تحت بننے والے صوبہ مغربی پاکستان میں بہاول پور کا انضمام جائز اور قانونی تھا اور نہ ہی 1970ءمیں ون یونٹ کی منسوخی کے بعد صوبہ بہاول پور کا پنجاب میں انضمام۔کیونکہ قانون کے نظریے Rebus Sic Stantibusکی رو سے اگر کوئی قانون کسی خاص مقصد کے لیے بنایا جائے گا تو اُس کے مقصد کے خاتمے کے وقت وہی صورت بحال ہو جائے گی کہ جو اُس قانون کے بنائے جانے سے پہلے موجود تھی۔چونکہ بہاول پور ون یونٹ کے تحت بنائے جانے والے صوبے مغربی پاکستان میں قانونی یا غیر قانونی جس طور بھی شامل ہواعملی طور پر ایک صوبے کی حیثیت سے ہوا کہ جس کی اسمبلی اور باقی انفراسٹریکچر انتہائی مثالی طور پر موجود تھا لہذا ون یونٹ کے توڑے جانے کے بعد اسے بحیثیت صوبہ ہی بحال ہونا تھا نہ کہ اُس کاایک بار پھرایک اور صوبے پنجاب میں ضم کر دیا جاتا۔۔واضح رہے کہ ون یونٹ کے قیام کے وقت بلوچستان کو بھی ابھی صوبائی حیثیت حاصل نہیں ہوئی تھی لیکن ون یونٹ کی منسوخی کے وقت اُسے صوبائی حیشیت دے کر ہائی کورٹ اور دیگر انفراسٹریکچر کے لیے عارضی طور پر سندھ سے منسلک کر دیا گیاتاکہ اِس لحاظ سے وہ اپنے پاؤ ں پر کھڑا ہو سکے۔
اگرچہ صوبہ بہاول پور کا مقدمہ 47سال پہلے تاریخ کی عدالت میں دائر کر دیا گیا تھا مگراب تک ”داخل دفتر“ نہیں ہو سکا۔یہ اِسی Justice delayed Justice deniedکا شاخسانہ ہے کہ متفرق درخواستوں کی صورت کئی اور تنازعات جنم لیتے چلے جا رہے ہیں جن میں ہزارہ اور پوٹھوہار صوبے کے علاوہ ایک قوی تر مطالبہ سرائیکی صوبے کا ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کئی اہم معاملات غیر متعلقہ (Irrelevant) اور کئی غیر اہم معاملات انتہائی متعلقہ ہو جاتے ہیں۔ اِن قضیہ جات کو نہ نمٹائے جانے کا ایک اور نتیجہ ہمارے سامنے پاکستان کی وحدت میں موجود قومیتوں اور ثقافتوں کی شناخت کے بحران اور بے چینی کا ہے ۔یہ معاملات اب سیاست دانوں سے زیادہ سیاسی دانشوروں اور ہماری ہئیت ِ نافذہ کی توجہ کے متقاضی ہیں کہ کون سی صورت ایسی ہو جو پاکستانی وحدت کے سیاسی استحکام اور اِس کا جزو ہو چکیں ثقافتوں کی انفرادی بقا کی ضامن ہوں۔ بصورت دیگر ہمارے اجتماعی ضمیر کی عدالتوں کے ہاں تاریخ کے کباڑ نے اتنی جگہ نہیں چھوڑی کہ وہ کسی نئے مقدمے کی متحمل ہو سکیں۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker