رضی الدین رضیسرائیکی وسیبکالملکھاری

طائرِ لاہوتی کی شاعری اور منظورِ نظر کانفرنس : ہوتل بابا کا کالم ( 2 ) ۔۔ رضی الدین رضی

دلچسپ واقعہ یہ ہو ا کہ ہم نے اپنے کالم میں طاہرتونسوی کے ساتھ نام تو مختار بیگم کالیا لیکن ان سے ناراض کچھ اور لوگ ہوگئے۔ہم نے بہاولپور میں ہونے والی”منظورِ َنظر کانفرنس“ کاذکر واجبی ساہی کیاتھا لیکن طاہرتونسوی اس پر بھی خوش ہیں کہ ان کاذکر ”دید شنید “میں تو ہوا۔اور اب اس مصرعے کا بہت تواتر کے ساتھ ورد کرتے نظرآرہے ہیں کہ دلچسپ واقعہ یہ ہو ا کہ ہم نے اپنے کالم میں طاہرتونسوی کے ساتھ نام تو مختار بیگم کالیا لیکن ان سے ناراض کچھ اور لوگ ہوگئے۔ہم نے بہاولپور میں ہونے والی”منظورِ َنظر کانفرنس“ کاذکر واجبی ساہی کیاتھا لیکن طاہرتونسوی اس پر بھی خوش ہیں کہ ان کاذکر ”دید شنید “میں تو ہوا۔اور اب اس مصرعے کا بہت تواتر کے ساتھ ورد کرتے نظرآرہے ہیں کہ  بدنام اگر ہوں گے توکیا نام نہ ہوگافرحت نواز کاتعلق خان پورسے ہے ۔اردو شاعرات میں ان کاایک منفرد مقام اور الگ پہچان ہے۔حال ہی میں انہوں نے  ایک مضمون ملتان کے ایک اخبار میں لکھا ۔وجہِ تالیف عنوان سے ظاہرہے۔”طاہرتونسوی کی فرمائش پر“اگر احباب اس مضمون کی فوٹو کاپیاں ہمیں ارسال نہ کرتے تو یہ ہماری نظروں سے اوجھل ہی رہتا اور ہم عمربھر اپنی محرومی پر کف ِافسوس ملتے رہتے۔فرحت نواز کامضمون ”طائرِلاہوتی“ کی مزاحیہ تصنیف ”ہم سفر بگولوں کا“کے حوالے سے اطلاعاتی نوعیت کاہے۔انہوں نے  اپنے مضمون میں جاپان رفت ڈاکٹر تبسم کاشمیری کایہ تبصرہ بھی شامل کردیا کہ ”ہم سفر بگولوں کا“دراصل ڈاکٹر سلیم اختر کاتحریر کردہ ہے اور طاہرتونسوی کے نام سے شائع کی گئی ہے ۔فرحت نواز نے ایک اورظلم یہ کیا ہے کہ اس کتاب کاموازنہ ڈاکٹرانور سدید کی کتاب ”وزیرآغا۔ایک مطالعہ“سے کردیا  اورپھراسے انورسدید کی کتاب کی بھونڈی نقل قراردے دیا۔یہی نہیں ،فرحت نواز نے مستقبل کی خبربھی دے دی اور لکھا کہ ڈاکٹر وزیرآغا کے خطوط کی اشاعت کے بعد ڈاکٹرسلیم اختر نے طاہرتونسوی کے نام دھڑادھڑ خطوط لکھنے شروع کردیئے ہیں تاکہ ان کے خطوط کی کتاب بھی شائع ہوسکے۔ادھر طائرلاہوتی استاد کے خط موصول ہوتے ہی رخ پرواز لاہور کی طرف کرلیتے ہیں ۔ان سے اپنے استاد محترم کی تحریر مسلسل مشق کے باوجود اب بھی پڑھی نہیں جاتی۔فرحت نواز نے مزید ستم یہ کیا کہ طائر لاہوتی کے ان سرقوں کی نشاندہی بھی کردی جن پر زمانہ مٹی ڈال چکاتھا۔طا ئرلاہوتی نے بقول ان کے یہ سرقے ڈاکٹر وزیرآغا کی تحریروں سے کیے ہیں جنہیں وہ اب برابھلا کہتے رہتے ہیں۔مزید سنیئے منو بھائی نےایک روز اپنے کالم کے چوکھٹے میں  نے طائرلاہوتی کی رونمائی بھی کردی۔لوگوں کوتو گفتگو کا موضوع چاہیے تھا ۔انور جمال نے کالم کے چوکھٹے کے اشعار سے اقبال ارشد کارنگ تغزل دریافت کرلیا ۔حسین سحر نے ان اشعار میں حیدرگردیزی کالہجہ تلاش کیا ۔پروفیسر محمد امین کاکہنا تھا کہ یہ شاعری ارشدملتانی کی شاعری سے بھی ملتی ہے جبکہ اقبال ارشد ،حیدرگردیزی اورارشد ملتانی کی معنی خیز مسکراہٹیں لوگوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کررہی تھیں۔ فکرہرکس باقدر ہمت او سترفیق خاورجسکانی مرحوم کے اشعار جن احباب نے سن اورپڑھ رکھے تھے ان کاخیال تھا کہ طائرلاہوتی کے اشعاررفیق خاورجسکانی مرحوم کے اشعار سے بھی بہت زیادہ مماثلت رکھتے ہیں اور کہیں کہیں تو طائرلاہوتی میں رفیق خاورجسکانی کی روح بولتی ہوئی نظرآتی ہے۔بہرحال اتناتو ہم بھی جانتے ہیں کہ طائرلاہوتی نے رفیق خاور جسکانی کا جوشعری مجموعہ مرتب کیا اس کانام ”شاخ زیتون“بھی مسروقہ تھا۔اس میں رفیق خاورمرحوم کی بہت سی عمدہ غزلیں شامل نہیں کی گئیں اور غیرمطبوعہ کلام کو الگ باندھ کررکھ لیاگیا۔ ہمارے ایک دوست نے ہم سے پوچھا کہ یہ طائرلاہوتی کو ن  ہے۔ہم نے عرض کیا کہ وہی  جورزق اپنا ڈھونڈتا ہے خاک راہ میںسن کر مسکرائے ،بولے ”کتنا اچھا نام ہے،ہم نے کہااگر رشک آرہاہے تو آپ اختیارکرلیں ،ہماری یہ صلائے عام انہوں نے قبول نہ کی۔ہمارے اس دوست کانام ہے اطہرناسک ۔انہوں  نے  ایم اے اردو کرلیا ہے اور شنید ہے کہ کسی کالج میں بطورلیکچرار ان کی تقرری بھی ہوگئی ہے“۔لیکن چونکہ لوگوں نے یہ خبر خوداطہر ناسک کی زبانی ہی سنی ہے اس لیے کسی کوبھی اس پر یقین نہیں آرہا۔ادھر رضی الدین رضی نے اطہرناسک کو ملتان کا ستارطاہر قراردے دیا ہے کہ جو خصوصیات ستارطاہر میں پائی جاتی ہیں کم وبیش وہی اطہر ناسک کے ہاں دستیاب ہیں۔ہم خود انہیں آزما چکے ہیں۔بیدل حیدری کہ شاعر بھی اچھے ہیں اورشاید انسان ۔۔۔مگر خامی یہ ہے کہ وہ اطہرناسک کے استاد ہیں جس سے اطہرناسک کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ بیدل حیدری کے بارے میں اچھے اچھے جھوٹ گھڑتے رہیں۔مثلاً ایک ر وز اطہرناسک نے سب لوگوں کویہ کہہ کر ورطہ حیرت میں ڈال دیا کہ بیدل حیدری اور کشور ناہید کلاس فیلو ہیں۔شاکرحسین شاکر اس موقع پر موجودتھے ۔انہوں نے دریافت کیا کہ بیدل حیدری نے میٹرک بھلا کب پاس کیاتھا۔اطہرناسک بولے ،بیدل صاحب نے بی اے کیاہوا ہے اور وہ کشور ناہید کے کلاس فیلو ہوا کرتے تھے۔ اظہرسلیم مجوکہ کسی زمانے میں نسیم شاہد کے دوست ہوا کرتے تھے۔بالکل اسی طرح جیسے اسلام تبسم ،شاکرحسین شاکر اور رضی الدین رضی کسی زمانے میں نسیم شاہد کے دوست رہے۔دشمنی توخیراب بھی ان کی نسیم شاہد کے ساتھ نہیں لیکن لگتا ہے کہ دوستی بھی نہیں رہی۔تعلقات کے جذرو مد کی وجہ خود نسیم شاہد ہیں۔اسی بنیاد پر ہم نے گزشتہ کالم میں یہ خدشہ ظاہرکیاتھا کہ نسیم شاہد جلد ازجلد طائرلاہوتی بننا چاہتے ہیں اور خوب پرپرزے پھیلارہے ہیں۔اظہرسلیم مجوکہ نے جب یہ پڑھا تو بھاگم بھاگ ہمارے پاس پہنچے اورکہنے لگے ”اے ہوتل بابا،تم بھی عجیب بے خبر انسان ہو،تمہیں معلوم نہیں کہ نسیم شاہد تو مدت ہوئی طائر لاہوتی بن چکے“۔اپنی لاعلمی پر افسوس ہوا۔تفصیلات دریافت کیں توکہنے لگے وہ بھی تو ادبی سرقہ کرتے ہیں ۔ثبوت میں انہوں نے وہ پتھردکھائے جونسیم شاہد کے شعری مجموعے ”آئینوں کے شہر میں پہلا پتھر“پر اخبارات میں برسے تھے اور ان کی متعدد غزلوں پر سرقے کاالزام لگایاگیاتھا۔ہم نے مجوکہ سے کہاکہ بھائی یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہوگی ورنہ نسیم شاہد کے بارے میں تو ہم نے سنا ہے کہ جب ان کے مجموعہ کلام کے لیے مزید غزلوں کی ضرورت پڑی توانہوں نے ایک ہی رات میں 20غزلیں کہیں اور مقررہ وقت پر کتاب مارکیٹ میں لے آئے۔ہمارے اس جواب پر اظہرسلیم مجوکہ بہت ناراض ہوئے اور کہنے لگے اگر نسیم شاہد اتنے ہی زودگوتھے تو پھرانہوں نے شاعری سے توبہ کیوں کرلی اوراب اپنے شعری مجموعے کو بچپن کی غلطی کیوں قراردے رہے ہیں۔ ان دنوں افسر ساجد کاایک مضمون ”ملتان کا ادبی منظرنامہ“بھی زیربحث ہے۔اکبر علی خان نامی ایک قاری نے افسر ساجد کے مضمون کے خلاف ایک مراسلہ تحریر کیا ہے کہ انہو ں نے بہت سے نام نظراندازکردیئے۔اس پر طائرلاہوتی نے خادم حسین کاروپ دھارلیا اور جوابی مراسلہ لکھ کر اپنے دل کی بھڑاس نکال لی۔انہیں تو معمول کے مراسلے سمجھیئے ۔ہمیں حیرت تو انور جمال کے مراسلے پر ہوئی جنہوں نے طاہرتونسوی ،ممتازاطہر ،نسیم شاہد کے ساتھ ساتھ افسر ساجد کے بھی بلاوجہ لتے لے ڈالے۔حالانکہ یہ سب اصحاب انورجمال کے قریبی دوست رہ چکے ہیں۔اب انور جمال نے وضاحت کی ہے کہ متذکرہ خط انہوں نے  سرے سے لکھا ہی نہیں کسی ناہنجار نے انہیں بدنام کرنے کے لیے لکھ ڈالا۔ آخر میں ایک افسوس نام خبر یہ ہے کہ ملتان آرٹس کونسل کے سابق ڈائریکٹر سید فخزالدین بلے کے صاحبزادے آنس معین بلے نے ٹرین کے نیچے آکر خودکشی کرلی۔آنس معین ملتان کے نوجوان شعراءمیں توانا اور منفرد لہجے کے شاعرتھے ۔ان کی عمر 25برس تھی اور وہ یونائیٹڈ بینک میں سیکنڈآفیسر کے طورپر کام کرتے تھے۔مقامی ادیبوں ،شاعروں نے ان کی موت پر گہرے دکھ اورصدمے کا اظہارکیا ہے۔
پندرہ روزہ دید شنید لاہور8مارچ1986

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker