ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری و تبادلے کے معاملے میں شروع ہوئی بحث ابھی رُکی نہیں۔
(ن) لیگ کی قیادت نے اس حوالے سے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا، مریم نواز، شاہد خاقان اور احسن اقبال کا موقف ہے کہ حکومت اداروں کو متنازعہ بنارہی ہے۔
اس تقرری و تبادلے کو لے کر سوشل میڈیا پر بھی تیسری "جنگ عظیم” برپا ہے۔ حب الوطنی کے برتن "کھڑک” رہے ہیں۔ تجزیوں اور پیشنگوئیوں کی بہاریں ہیں۔ کہا گیا کہ اسلام آباد میں مطلع صاف نہیں ہے ’’کچھ بھی ہوسکتا ہے‘‘۔ یہ ماننا پڑے گا کہ حکومت کے دانا وزیروں اور مشیروں نے اس حوالے سے جو پھلجڑیاں چھوڑیں ان سے بدمزگی بڑھی۔
ایک بات کی تکرار بہت ہوئی ’’فوج اور سول حکومت ایک پیج پر ہیں‘‘۔
کسی عقل مند نے ان پھلجڑی فروشوں کو یہ نہیں سمجھایا کہ "پیج ایک ہی ہوتا ہے اور وہ دستوری طور پر سول حکومت کا”
اس پیج پر جو باقی لکھا ہوتا ہے وہ دو طرح کا ہے اولاً سول حکومت کی سیاسی و انتظامی ذمہ داریاں اور ثانیاً اس کے ماتحت محکموں اور اداروں کا کردار۔
ہم بھی کیا لوگ ہیں تجزیوں کے میدان میں دانش کے گھوڑے دوڑاتے ہوئے اتنی سی تمیز نہیں کرپاتے کہ ادارے اور محکمے میں کیا فرق ہے۔
خیر رونق لگی ہوئی ہے اچھی خاصی رونق ہے ، حکمران جماعت کے قائدین کے بیانات سے یہ تاثر بناکہ مسئلہ ’’فیثا غورث‘‘ نے آن لیا ہے ماہرین ’’فال اور حال‘‘ نکالنے کے لئے جنتریوں، فال ناموں اور حال ناموں کے قدیم و جدید نسخے لئے بیٹھے ہیں۔
اس رونق میلے کے دوران مریم نواز نے کہا ’’عمران خان جادو ٹونے سے کام لیتے ہیں، وہ اپنے جادو ٹونے کا درست استعمال کریں۔ مہنگائی اور دوسرے مسائل کو کم کرانے کے لئے جادو ٹونے اور جنات کی مدد لیں‘‘
ڈنگر ڈاکٹر نے جواباً ان پر ’’سیاسی چڑیل‘‘ کی پھبتی کسی۔ درود شریف والے علی محمد خان سے لے کر ملیکہ بخاری تک اور زرتاج گل سے فرخ حبیب تک سارے دانے بینے میدان میں کودے اور ’’کشتوں کے پشتے‘‘ لگاتے چلے گئے۔
ویسے وزیراعظم کو چاہیے ایک جے آئی ٹی بنوائیں اور تحقیق کرائیں کہ مریم نواز نے ان کی نصف بہتر کو ہدف تنقید بنایا تھا یا خود ان کے لشکریوں نے خاتون اول کو اس معاملے میں گھسیٹا؟
ان دنوں ہمارے کچھ وائسرائے مزاج صحافی اور چند دوسرے ایک بار پھر آئی ایس آئی کے سیاسی کردار کا ملبہ ذوالفقار علی بھٹو پر گرانے میں مصروف ہیں۔ حالانکہ یہ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ سیاسی کردار فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور بلکہ اس سے قبل شروع ہوچکا تھا۔ ایوبی دور سے قبل کے چند معاملات میں بھی خفیہ ایجنسیوں کے کردار بارے بہت کچھ لکھا جاچکا۔ چار فوجی آمروں نے خفیہ ایجنسیوں سے کیسے کام لیا یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔
جو ایجنسی خود بیگم نصرت بھٹو کا ٹیلی فون ٹیپ کرتی رہی ہو اس کے اس کردار بارے بات کرتے ہوئے وائسرائے سمیت دوسروں کے ’’پَر جلتے‘‘ ہیں۔ بھٹو صاحب بھی اسی سماج میں سے اُٹھے انسان تھے یقیناً ان سے غلطیاں بھی سرزد ہوئیں لیکن ایسا بھی نہیں کہ ساری غلطیاں ان کے کھاتے میں ڈال کر عنداللہ ماجور ہوا جائے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایجنسیوں کے سیاسی کردار کے حوالے سے بھٹو صاحب کے لتے لینے میں مصروف خواتین و حضرات میں سے اکثر وہ ہیں جنہوں نے ایجنسیوں کی فراہم کردہ دستاویزات پر تحقیقاتی صحافت کے جھنڈے گاڑے ان میں سے بعض کے دہنوں سے آج بھی سیاستدانوں کے لئے توپ کے گولے نکلتے ہیں۔
کیا مجال کہ کسی دن یہ اس اخلاقی جرات کا مظاہرہ کریں کہ جس تنویر زمانی اور ایان علی کو زرداری کی منکوحات ثابت کرکے بچہ پیش کرنے اور بچہ ’’ڈھونڈ‘‘ لینے کی سائنس لڑاتے تھے ان دونوں کے ’’اصل‘‘ مالکوں کا نام بھی لے لیں۔
معاف کیجئے بات اصل موضوع سے کچھ دور نکل گئی ہم موضوع کی طرف پلٹتے ہیں۔
ہمارے ملتانی ایم این اے عامر ڈوگر ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری و تبادلے کے حوالے سے دیئے گئے اپنے انٹرویو کی بدولت پارٹی نوٹس کا سامنا کررہے ہیں۔ واقفان حال جانتے ہیں کہ عامر ڈوگر نے وہی بات کہی جو درست تھی پھر نوٹس نوٹس کھیلنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
اس سوال کا جواب بہت سادہ ہے، ہر جماعت میں دھڑے بندی ہوتی ہے، ساعت بھر کے لئے رکئے، گزشتہ روز پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی طرف جاتے ہوئے مخدوم شاہ محمود قریشی سے صحافیوں نے پوچھا ’’آپ وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ہیں؟‘‘ مخدوم صاحب مسکراتے ہوئے یہ کہہ کر آگے بڑھ گئے کہ تم شرارتی ہو شرارت کرو گے ۔
چند لمحے بعد ان صحافیوں کے ہاتھ ہمارے دوست وزیر دفاع پرویز خٹک چڑھے ان سے پوچھا گیا کہ نوٹیفکیشن کب جاری ہوگا؟ انہوں نے آہستہ سے پشتو میں کہا ’’پرے دا‘‘ (چھوڑو یار) اور آگے بڑھ گئے، مسکرا وہ بھی رہے تھے۔
ویسے سوال بنتا پرویز خٹک سے ہی تھا وہ وفاقی وزیر دفاع ہیں۔ انہوں نے چھوڑو یار کہنے پر کیوں اکتفا کیا اس پر ان کے حوالے سے جو بات تحریر نویس تک پہنچی وہ یہ ہے ’’پرویز خٹک سمجھتے ہیں اس معاملے پر اطلاعات کی دنیا میں شروع ہوئی بحث اور بیان بازی درست نہیں‘‘
سادہ لفظوں میں یہ کہ ضروری نہیں ہر معاملے پر بحثیں اٹھائی جائیں مگر کیا کیجئے کہ ہماری لاہوری صحافت کا پیٹ افواہوں اور جگاڑوں سے بھرتا ہے۔ صرف لاہوری صحافت ہی نہیں بلکہ صحافت کا اب عمومی مزاج یہی بن گیا ہے۔ خبروں کو مرضی کا رنگ دینا، مثال کے طورپر گزشتہ روز امریکی سفارتکاروں نے لاہور میں متعدد سیاستدانوں سے ملاقاتیں کیں لیکن لاہوری صحافت کے جاتی امرا ایڈیشن سے منسلک صحافیوں نے صرف ایک ملاقات کی خبر دی جو مریم نواز اور شہباز شریف سے ہوئی۔
خیر اس کی بھی ایک وجہ ہے اس وجہ پر پھر کبھی ان سطور میں بات کرلیں گے۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کہتے ہیں
’’حالات بالکل ٹھیک ہیں، جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہمیشہ سول حکومت کو ادارہ جاتی سپورٹ دی، مخصوص طبقہ جوکھیل کھیلناچاہتا تھا وہ اس میں ناکام ہوا، اہم عہدوں پر تقرری سے قبل ملاقاتیں عمومی روایت کا حصہ ہیں، اسے متنازعہ بنانا نامناسب ہے‘‘۔
معاف کیجئے گا لگ بھگ چار دہائیوں سے ایسا دیکھا، سنا نہیں کہ وزیروں کے وفود ملاقاتوں کے لئے مارے مارے پھرتے ہوں۔ یوں کہہ لیجئے کہ وزراء کی اڑھائی گھنٹے کی ملاقات نے ایک ملاقات کا دروازہ کھولا ہو۔
لال حویلی والے شیخ رشید احمد فرمارہے ہیں آئی ایس آئی چیف کی تعیناتی کے لئے انٹررویو کی بات وزیراعظم نے نہیں کی۔ اچھا وزیراعظم نے اس معاملے میں جو کچھ کہا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ جمعرات کو انہوں نے حکمران اتحاد کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’ہم چاہتے تھے کہ موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی کام جاری رکھیں لیکن آرمی چیف نے بتایا کہ آرمی ایکٹ میں اس کی گنجائش نہیں‘‘۔
اب پوچھئے دانش کے گھوڑے دوڑاتے وائسرائے مزاجوں، درباریوں، جاتی امرائیوں اور خود سرکاری ترجمانوں سے کہ وہ وزیراعظم کے اس ارشاد پر کیا کہتے ہیں۔
عرض کرنے کا مقصد یہی ہے کہ وزیراعظم کے پرنسپل اور ملٹری سیکرٹری ہر دو کے ساتھ وزیر دفاع کو یہ بات انہیں پہلے بتادینی چاہیے تھی کہ فوج میں تقرریوں اور تبادلوں کے حوالے سے آرمی ایکٹ کیا کہتا ہے۔
اب چلتے چلتے دو خبریں، اولاً یہ کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے مریم نواز کی اپیلوں کی روزانہ سماعت کے حوالے سے نیب کی درخواست مسترد کردی ہے جبکہ اسلام آباد کی ہی ایک احتساب عدالت نے آصف علی زرداری کی بریت کی درخواست مسترد کردی۔
(بشکریہ:روزنامہ بدلتا زمانہ )
فیس بک کمینٹ

