اہم خبریں

رنجیت سنگھ اور راجہ داہر میرے ہیرو نہیں : ڈاکٹر حمید رضا صدیقی کا خصوصی انٹرویو

ملتان ( رضی الدین رضی سے ) نامور ماہرتعلیم،سابق ڈائریکٹر کالجز ملتان و سابق چیئرمین بورڈ ملتان وڈیرہ غازی خان ،تحریک پاکستان کے کارکن اور مورخ پروفیسر ڈاکٹر حمید رضا صدیقی نے کہا ہے کہ رنجیت سنگھ یا راجہ داہر میرے ہیرونہیں ہیں ۔رنجیت سنگھ کو مثالی حکمران کہاجاتا ہے لیکن یہ دعوی کرنے والے اس کے مظالم کو بھول جاتے ہیں۔ میرے ہیروتو نواب مظفرخان سدوزئی ہیں جنہوں نے اپنے بیٹوں سمیت اپنی جان ملتان پر واردی تھی۔
ان خیالات کااظہارانہوں نے گردوپیش یو ٹیوب چینل کے نئے سلسلے مکالمہ میں معروف کالم نگار اور کمپیئر اظہر سلیم مجوکہ کو خصوصی انٹرویو کے دوران کیا۔ ڈاکٹر حمید رضا صدیقی نے کہاکہ میں زمانہ طالب علمی سے ہی سیاستدانوں کو ملتارہا ۔جمہوریت کے لئے جدوجہد میں شریک رہا اور میں نےاپنے عہد کے نامور سیاستدانوں اورہنماﺅں کو بہت قریب سے دیکھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ہمارے ہاں دانستہ طورپر سیاست کو منافقت اور بے ایمانی کانام دے دیاگیا۔حقیقت یہ نہیں ہے ۔سیاست انتہائی دانشمندی کے ساتھ ملکی معاملات کوچلانے کانام ہے۔ انہوں نے کہاکہ قائداعظم محمد علی جناح اور محترمہ فاطمہ جناح میرے آئیڈیل رہے۔ محترمہ فاطمہ جناح غیرمحسوس انداز میں نوجوانوں کی تربیت کرتی تھیں۔ ایک بار ہم وقت لیے بغیر ان سے ملاقات کے لیے پہنچ گئے تو انہوں نے ملنے سے انکار کردیا۔ہمیں بہت دیر انتظارکروایا اور پھرجب ملیں تو انہوں نے کہاکہ کسی سے وقت لیے بغیر ملنے جانا مناسب نہیں ہوتا۔ اسی طرح ایک مرتبہ میں نے آٹو گراف مانگا تو انہوں نے آٹو گراف بک کے بغیر آٹوگراف دینے سے انکارکردیا۔انہوں نے کہاکہ میں کسی کاغذ پر آٹو گراف نہیں دوں گی۔پھر جب وہ اگلے دورے پر آئیں تو میں آٹوگراف بک لے کر ان کے پاس گیا اور انہوں نے اس پر دستخط کردیئے۔
ڈاکٹر حمید رضا صدیقی نے بتایا کہ محترمہ فاطمہ جناح نے مجھے نصیحت کی تھی کہ غلط کو غلط کہنا سیکھیں ۔جب ہم نے کہاکہ اس سے کیا فرق پڑے گا تو انہوں نے کہاکہ جب آپ بڑے ہوں گے تو آپ کومعلوم ہوگا کہ غلط کو غلط کہنا کتنا مشکل کام ہے۔اگر ہم غلط کو غلط کہنا ہی سیکھ لیں تو بہت سی درستی ہوسکتی ہے۔
اس موقع پر معروف صحافی ، شاعر اور گردو پیش ویب سائٹ اور چینل کے مدیر رضی الدین رضی نے کہا کہ آنے والے دنوں میں کئی اور شخصیات کے مکالمے چینل سے ٹیلی کاسٹ کیے جائیں گے ۔ان انٹرویوز کے ذریعے ہم نئی نسل کے لیے معلومات کا ایک خزانہ محفوظ کر رہے ہیں ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker