حامد میرکالملکھاری

حامد میرکا کالم:گالی دیجیے لیکن خبردار! سچ بولنا منع ہے

کسی بھی صحافی کا سب سے بڑا ہتھیار اس کا سوال ہوتا ہے لیکن پاکستان جیسے ممالک میں جب کوئی صحافی سوال کے ہتھیار کا بے دریغ استعمال کرنے لگے تو پھر اس کے ساتھ کچھ ایسا ہوتا ہے کہ وہ خود خبر بن جاتا ہے۔
اب میری ہی مثال لے لیجیے۔ کبھی میری گاڑی کے نیچے بم نصب کر دیا جاتا ہے، کبھی مجھ پر گولیوں کی بوچھاڑ کر کے خون میں نہلا دیا جاتا ہے، کبھی مجھ پر جھوٹے مقدمات بنائے جاتے ہیں اور کبھی مجھ پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔ مجھے کئی مرتبہ خبر بنایا گیا۔ دوسرے الفاظ میں بار بار سبق سکھانے کی کوشش کی گئی اور جب میں خبر بنا، تو مجھے سوالات پوچھنے کی بجائے بہت سے سوالات کے جواب دینا پڑے۔
اٹھائیس مئی دو ہزار اکیس کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر ایک صحافی اسد طور پر حملے کے خلاف ایک مظاہرہ تھا۔ اس مظاہرے میں میری تقریر کے بعد جیو نیوز نے مجھے اپنے سب سے پرانے ٹاک شو کیپیٹل ٹاک کی میزبانی سے روک دیا۔ یہی نہیں بلکہ روزنامہ جنگ میں مجھے کالم لکھنے سے بھی روک دیا گیا۔
ان پابندیوں کے بعد مجھے بہت سے سوالات کا سامنا تھا۔ کچھ سوالات کے جوابات میں نے دے دیے۔ کچھ سوالات کے جواب دینے سے مجھے پاکستان کی مختلف صحافتی تنظیموں نے روک دیا تاکہ میرے لیے مزید قانونی پیچیدگیاں پیدا نہ ہوں۔ اس لیے کہ کئی شہروں میں میرے خلاف بغاوت کے مقدمات درج کیے جانے کی درخواستیں دائر کرائی جا چکی تھیں۔
کچھ درخواستوں میں الزام لگایا گیا کہ حامد میر نے پاکستانی فوج کے جرنیلوں کے نام لے کر ان کی توہین کی ہے۔ یہ الزام بالکل غلط تھا۔ لہٰذا صحافتی تنظیموں کے اصرار پر میں نے اس الزام کی وضاحت بھی کر دی کہ میں نے کسی کا نام نہیں لیا اور نہ ہی فوج سے بحیثیت ادارہ میری کوئی لڑائی ہے۔
کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ شاید یہ وضاحت کسی خفیہ سمجھوتے کا نتیجہ ہے اور میں فوری طور پر کیپیٹل ٹاک میں دوبارہ نظر آؤں گا۔ لیکن میں جیو نیوز کی اسکرین سے بدستور غائب ہوں اور مختلف عالمی اخبارات میں کالم لکھ رہا ہوں۔
کل دوپہر میں واشنگٹن پوسٹ کے لیے کالم لکھ کر فارغ ہوا، تو مجھے مختلف دوستوں نے فون کرنا شروع کر دیے۔ ہر کوئی پوچھ رہا تھا کہ آپ ٹی وی دیکھ رہے ہیں؟ میں ٹی وی نہیں دیکھ رہا تھا۔ میں نے فوراﹰ اپنا ٹی وی آن کیا، تو اسکرین پر قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کا منظر تھا۔ حکومت اور اپوزیشن کے ارکان ایک دوسرے کو گندی گالیاں دے رہے تھے۔ معاملہ گالیوں تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ بھاری بھر کم بجٹ دستاویزات کو پتھروں کی جگہ استعمال کر کے ایک دوسرے کو زخمی کیا جا رہا تھا۔ مہذب ترین الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں بلکہ مرغوں کی لڑائی تھی۔
پوری پاکستانی قوم نے نہیں بلکہ پوری دنیا نے مرغوں کی یہ لڑائی کافی دیر تک لائیو دیکھی۔ کسی نے اس لڑائی کا لطف اٹھایا اور کسی نے اس افسوس ناک واقعے پر دکھ کا اظہار کیا۔ میرا اس سارے معاملے سے کوئی براہ راست تعلق نہیں تھا لیکن مجھ سے بہت سے سوالات کیے جا رہے تھے۔ امریکا سے ایک ڈاکٹر دوست نے فون پر کہا کہ تم نے تو اسلام آباد میں پریس کلب کے سامنے ایک ایسی تقریر کی تھی، جس میں صحافیوں کے خلاف حملوں پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے تمہاری زبان سے کچھ سخت الفاظ نکل گئے تھے۔ نہ تمہاری تقریر کسی ٹی وی چینل نے دکھائی، نہ کسی اخبار میں شائع ہوئی۔ صرف سوشل میڈیا تک محدود رہی۔ تمہاری تقریر میں نہ گالی تھی نہ کسی کا نام۔ لیکن تم پر پابندی لگ گئی۔ قومی اسمبلی میں دیکھو کیا ہوا ہے؟ حکومت اور اپوزیشن کے لیڈرانِ کرام ایک دوسرے کو گندی گالیاں دے رہے تھے، جنہیں ٹی وی پر پوری دنیا نے دیکھا۔ ان ‘بدتمیزوں‘ کے خلاف کوئی کارروائی کرے گا یا نہیں؟
سوال سن کر میں نے چند لمحوں کے لیے سوچا اور پھر دوست کو جواب دیا کہ ہو سکتا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی کچھ ارکان کا چند دنوں کے لیے ہاؤس میں داخلہ بند کر دیں لیکن انہیں بجٹ بھی پاس کرانا ہے۔ وہ زیادہ لمبی سزا نہیں دے سکتے۔
یہ فون بند ہوا تو کراچی سے ایک بزرگ صحافی نے فون پر اپنے مخصوص انداز میں پوچھا کہ میاں آپ نے تو کسی کو گالی نہیں دی تھی، پھر بھی آپ نے اپنے لہجے پر معذرت کر لی تھی۔ مگر ہمارے یہ منتخب نمائندے تو مسلسل ایک دوسرے کو گندی گالیاں دے رہے ہیں۔ کیا آپ کے ٹی وی چینلز ان گالیاں دینے والوں کو بھی اپنی اسکرینوں سے غائب کر دیں گے؟
یہ فون بند ہوا، تو لاہور سے ایک نوجوان وکیل نے فون پر کہا کہ یہ کیسا نیا پاکستان ہے، جس میں ایک دوسرے کو سرعام گالیاں دینے کی اجازت ہے اور اگر کوئی صحافی یہ مطالبہ کرے کہ میرے ساتھیوں پر حملے بند کرو ورنہ ہم بھی کسی کا نام لیں گے، تو اس پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔ آپ یہ ملک چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟ میں نے اس نوجوان سے کہا کہ ملک چھوڑنا اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔ تو نوجوان نے قدرے تلخی سے کہا، ”پھر بھگتو غداری کے الزامات۔‘‘
فون بند ہوا، تو میں سوچنے لگا کہ جو لوگ یہ الزام لگاتے ہیں کہ میں پاکستان کے اداروں کو بدنام کرتا ہوں، وہ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ مجھ پر لگائی گئی پابندی نے پاکستان کو زیادہ بدنام کیا ہے۔
پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کو ریگولیٹ کرنے والے ادارے پیمرا نے میرے خلاف کوئی نوٹس جاری نہیں کیا۔ کسی عدالت سے مجھ پر پابندی کا کوئی حکم نہیں آیا، لیکن پاکستان کے سب سے بڑے چینل نے مجھے نامعلوم دباؤ پر آف ایئر کر دیا۔ مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں کوئی قانون نہیں ہے، بس جس کے پاس لاٹھی ہے، وہی بھینس کا مالک ہے۔
مجھ ناچیز کو پاکستان میں سینسرشپ کی ایک جیتی جاگتی مثال بنانے والوں سے گزارش ہے کہ آپ تو افغانستان میں امن قائم کرانے نکلے ہیں۔ طالبان اور امریکا کے مذاکرات کرانے کا کریڈٹ بھی لیتے ہیں۔ افغانستان میں امن ضرور قائم کروائیں، لیکن پہلے پاکستانی پارلیمان میں تو امن قائم کرا دیں۔
ارکانِ پارلیمان بھی ایک دوسرے سے الجھ رہے ہیں۔ صحافیوں کو بھی ایک دوسرے سے لڑایا جاتا ہے اور ججوں کو بھی ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ تاریخ سے مثالیں پیش کرنے کا وقت نہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جس ملک کی پارلیمان، عدلیہ اور میڈیا مضبوط نہ ہوں، وہاں کوئی ادارہ مضبوط نہیں رہ سکتا۔ پاکستان میں گالی دینے کی آزادی ہے اور سچ بولنے پر پابندی ہے۔ یہ پابندی پاکستان کو مضبوط نہیں کمزور بنائے گی۔
(بشکریہ: ڈی ڈبلیو اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker