کالملکھارینجم سیٹھی

نجم سیٹھی کا کالم:عمران حکومت: پانی کہاں مرتا ہے؟

تین دن تک ایوان چلانے کے بعد سپیکر قومی اسمبلی، اسد قیصر پارلیمنٹ کا اجلاس ملتوی کرنے پر مجبور ہوگئے۔ وجہ یہ تھی کہ حکومتی بنچوں نے قائد حزب اختلاف، شہباز شریف کو 2021ء کے بجٹ پر تقریر کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اراکین قومی اسمبلی کی طرف سے بازاری رویہ دیکھنے میں آیا۔ ایک دوسرے پرگالیوں کی بوچھاڑ کی گئی، آستین چڑھا کر ایک دوسرے کی طرف لپکے، بجٹ کی کاپیاں مخالف بنچوں کی طرف برسائیں۔ اس پر سپیکر قومی اسمبلی کو سات اراکین کے ایوان میں داخلے پر پابندی لگانی پڑی۔ تاہم اس کارروائی کے دوران سپیکر کے متعصبانہ طرزعمل نے حزب اختلاف کو اُن کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر مجبور کر دیا۔
جب نظر آ رہا تھا کہ حکومتی اراکین حالات خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں تو سپیکرقومی اسمبلی، اسد قیصر نے کوئی مداخلت نہ کی اور صورت حال کو بگڑنے دیا۔ اُس کے بعد تادیبی کارروائی کے طور پر حز ب اختلاف کے چار جب کہ حکومت کے صرف تین اراکین پر پابندی لگائی حالاں کہ بہت سے حکومتی اراکین کا جارحانہ رویہ صاف دکھائی دے رہا تھا۔ اس پر کچھ سوالات اٹھتے ہیں۔
یہ ماضی کی روایت رہی ہے کہ حز ب اختلاف وزیر خزانہ کی بجٹ کی تقریر میں مداخلت کرتی ہے۔ حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان تلخی اس حد تک موجود ہے کہ صدور مملکت کو بھی نہیں بخشا جاتا۔ قومی اسمبلی کے سپیکروں اور صدور کی غیر جانب داری کے تصورات مدت ہوئی تحلیل ہو چکے کیوں کہ ان مناصب پر فائز افراد آئین کی روح کی پیروی نہیں کرتے۔ اس سب کے باوجود کم از کم قائد حزب اختلاف کو ایوان میں مختصر سی تیزو تند تقریر کی اجازت دی جاتی تھی تاکہ ناقابل احتساب حکومتوں کے پیہم جبر کا سامنے کرنے والی اپوزیشن کے جذبات کچھ ٹھنڈے ہوجائیں۔
افسوس گزشتہ چند دنوں کے دوران پیش آنے والے واقعات میں یہ روایت بھی آئینی جمہوریت کی قبر میں دفن کردی گئی۔ حکومت نے غیر معمولی جارحانہ انداز میں حزب اختلاف پرچڑھائی کر دی۔ ہمیں اس پر حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ اس ہائبرڈ نظام کو مسلط کرنے والی اسٹبلشمنٹ اس ”جمہوری“ غیر فعالیت پر دل ہی دل میں ہنس رہی ہوگی اور اس کی جگہ حقیقی جمہوریت کی بجائے کوئی آمرانہ مزاج صدارتی نظام لانے کی خفیہ منصوبہ سازی کررہی ہوگی۔
اور پھر یہ بھی کہ ہمیں قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے غیر جمہوری رویے پر حیران نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ یہ پارلیمنٹ کے باہر بھی حزب اختلاف کے ساتھ انتہائی جارحانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ درحقیقت عمران خان اور اُن کے حامی کھل کر کہتے ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو ملکی سیاست سے ختم کرنا اور ایک پارٹی پر مشتمل نظام قائم کرنا اُن کا ہدف ہے۔ اس لیے اُنہوں نے ریاست کے تمام طاقت ور بازوؤں، جیسا کہ نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر وغیرہ کو پیپلز پارٹی اور ن لیگ سے تعلق رکھنے والے ہر لیڈر کی سرکوبی کے لیے کھل کر استعمال کیا ہے تاکہ عمران خان اور تحریک انصاف کے مقابلے پر ملک میں کوئی اپوزیشن لیڈر یا پارٹی نہ بچے۔
اب اُنہوں نے پارلیمنٹ میں قائد حزب اختلاف کو اپنا ہدف بنایا ہے کیوں یہاں حکومت کا کمزور پہلو بجٹ ہے۔ حزب اختلاف کا ہدف بھی یہی ہے کیوں کہ یہ کروڑوں پاکستانیوں کی زندگیوں کو متاثر کرتا ہے۔ لوگ گزشتہ تین سال کے دوران تحریک انصاف کی مایوس کن معاشی کارکردگی پر مشتعل ہیں۔ اس کی وجہ سے کمرتوڑ مہنگائی، بے روزگاری، آمدنی میں یک لخت کمی اور غربت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔
قائد حزب اختلاف شہباز شریف ویسے بھی بوجوہ عمران خان کے بے پناہ اشتعال کا بطور خاص نشانہ ہیں۔ وہ عمران خان سے کہیں بہتر منتظم ہیں۔ اور پھر وہ ذاتی طور پر اسٹبلشمنٹ کے لیے زیادہ قابل قبول بھی ہیں کیوں کہ وہ عمران خان کی نسبت کم تنک مزاج اور امور ریاست میں کہیں زیادہ تجربہ کار ہیں۔ درحقیقت خارجہ پالیسی کے معاملے میں پاکستان مسلم لیگ ن شہباز شریف کی قیادت میں عمران خان کی تحریک انصاف سے کہیں بہتر گورننس اور اسٹبلشمنٹ کے لیے تزویراتی طمانیت کا باعث بن سکتی ہے۔ عمران خان جانتے ہیں کہ اگر اسٹبلشمنٹ نواز شریف کے ساتھ کوئی ایسی ڈیل کرسکے جس کے تحت وہ اگلے پانچ سال تک سیاست سے دور رہیں او ر اس دوران شہباز شریف مسلم لیگ ن کے ووٹ بنک سے فائدہ اٹھالیں تو اسٹبلشمنٹ بلاتامل اُنہیں (عمران خان) چلتا کردے گی۔
یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی ڈیل کا تاثر ملتا ہے، جیسا کہ شہباز شریف کو ضمانت پر رہا ئی یا بیرونی ملک روانگی کی اجازت، تو عمران خان اُن کے خلاف فوراً بدعنوانی کے نئے کیس کھول کر اُن کے سامنے کوئی رکاوٹ کھڑی کر دیتے ہیں۔ حالیہ دنوں شہباز شریف کے اسٹبلشمنٹ نواز بیانیے کو مسلم لیگ ن کے اندر خطرناک حد تک پذیرائی ملی۔ اس سے پہلے نواز شریف کے اسٹبلشمنٹ مخالف بیانیے کے بعد پی ڈی ایم سے پیپلز پارٹی اور اے این پی الگ ہوچکے تھے۔ تحریک انصاف کی حکومت کو لانگ مارچ اور اجتماعی استعفوں کے ذریعے رخصت کرنے کی حکمت عملی بھی سرد خانے میں تھی۔ اپوزیشن ابہام کا شکار دکھائی دیتی تھی۔
قومی اسمبلی کا موجودہ تعطل سازش کی تھیوریوں کا نتیجہ ہے جن سے تحریک انصاف خطرہ محسوس کر رہی ہے۔ خیال کیا جارہا ہے کہ حکومت کو گھر بھیجنے کا اس سے بہتر اور کوئی وقت نہیں کہ اس بجٹ منظور کرنے سے روک دیا جائے کیوں کہ اس کا مطلب عدم اعتماد ہوگا۔ اس صورت میں نئے قائد ایوان کا انتخاب ہوگا اور تازہ عام انتخابات کرائے بغیر اسلام آباد میں نئی حکومت کا قیام عمل میں آجائے گا۔ تحریک انصاف کے اسمبلی میں اراکین کی تعداد اتنی کم ہے کہ اگر اسٹبلشمنٹ جہانگیر ترین کے فاورڈ بلاک کو اشارہ کردے تو اور وہ اپوزیشن سے مل کر بجٹ کو منظور ہونے سے روک سکتا ہے۔ اس طرح حکومت ختم ہوجائے گی۔ سازش کی تھیوریوں پر یقین کرنے والے کچھ حقائق کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن سے اُن کے شکوک وزنی دکھائی دیتے ہیں۔ اس وقت نواز شریف اور مریم نواز اسٹبلشمنٹ پر تنقید نہیں کر رہے ہیں۔ شہباز شریف اور بلاول بھٹو ہاتھ ملا چکے ہیں۔ رہی سہی پی ڈی ایم اپنے طور پر کچھ نہیں کرنے جا رہی۔ عدالتوں کا رویہ اچانک اور غیر متوقع طور پر شہباز شریف کے حق میں ”نرم“ ہو گیا ہے۔ حزب اختلاف کی سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پریشان کن ہے۔ اس دوران اسٹبلشمنٹ میں بھی رواں ماہ اہم تقرریاں اور تبادلے ہونے جا رہے ہیں۔ عمران خان کے لیے یہ سب شواہد خوش آئند نہیں ہیں۔
چاہے عمران خان نے اسٹبلشمنٹ کی ممکنہ سازش یا منصوبہ بندی یا پاکستان مسلم لیگ ن کی خفیہ چالبازیوں کا درست اندازہ لگایا ہے یا نہیں، ایک بات طے ہے کہ وہ کوئی چانس نہیں لے رہے ہیں۔ شبہاز شریف وہ واحد لیڈر ہیں جو اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مل کر اُن کا تختہ الٹ سکتے ہیں۔ اس دوران خوش حال طبقے کے لیے بنایا گیا بجٹ ان کا کمزور پہلو ہے۔ اس پر وہ کسی تنقیدی بحث کی اجازت دینے کے متحمل نہیں ہوسکتے تاکہ وہ غریب افراد کی آنکھوں میں دھول جھونک سکیں۔ اس وقت پارلیمنٹ خطرناک امکانات اور ناپسندیدہ نتائج سے عبارت ہے۔ عمران خان امید کررہے ہیں کہ وہ حزب اختلاف کو تاؤ دلا کر اجلاس کی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے پر مجبور کردیں تاکہ وہ کسی مخالفت کے بغیر بجٹ کو من مانی کرتے ہوئے منظور کر کے عدم اعتماد کی تحریک کو ٹال دیں۔
(بشکریہ: فرائیڈے ٹائمز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker