پاکستان کے محنت کش عوام کی بڑی اکثریت اسٹیبلشمنٹ کی مخالف ہے۔ اس کا اظہار وہ کم و بیش ہر الیکشن میں فوج مخالف جماعتوں کو ووٹ دے کر کرتی ہے۔ یہاں میں اس حقیقت پر بات نہیں کر رہا کہ کم و بیش ہر الیکشن دھاندلی زدہ ہوتا ہے اور محنت کش طبقے کا ووٹ اکثر اپنی پسندیدہ جماعت کو حکومت دلوانے میں ناکام رہتا ہے۔
پاکستان کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں کسی نہ کسی دور میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ رہی ہیں۔ میں 2010 سے 2022 تک، جبری طور پر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بندش تک، ان پلیٹ فارمز پر متحرک رہا اور محنت کش طبقے کی ترجمانی کی کوشش کرتا رہا۔ اس تمام عرصے میں، مجھے پاکستان تحریک انصاف کے ہمدردوں کی جانب سے غلیظ تبصروں اور ان باکس پیغامات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ پیغامات صرف عمران خان کی مخالفت کے جواب میں نہیں بلکہ زیادہ تر میری اسٹیبلشمنٹ مخالف پوسٹوں اور تبصروں پر دیے جاتے تھے۔ ان میں چند جملے مجھے یاد ہیں: “یہ پاک فوج ہے جس کی وجہ سے تم رات کو چین کی نیند سوتے ہو”، “فوج اس ملک کا واحد منظم ادارہ ہے، اگر یہ ختم ہو جائے تو پاکستان کا وفاق بکھر جائے گا”، “ادارے مضبوط ہوں گے تو پاکستان مضبوط ہوگا”۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ان جملوں میں غلاظت کہاں ہے۔ تو جناب، وہ ان کے آگے پیچھے ہوتی تھی، لیکن وہ میں نے تحریر نہیں کی کیونکہ میرا قلم اس کی تاب نہیں لا سکتا۔
2022 میں عمران حکومت کے خاتمے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کا بیانیہ یکسر تبدیل ہو گیا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ فوج کی سب سے بڑی حمایتی اور حمایت یافتہ یہ جماعت اب اینٹی اسٹیبلشمنٹ بن چکی ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کا انداز وہی رہا: ننگی گالیاں، غیر مصدقہ پوسٹیں، اور مخالفین کی مسلسل ٹرولنگ۔ فرق صرف اتنا آیا کہ پہلے ان کا نشانہ فوج مخالف طبقہ تھا، اور اب خود فوج اس کے زیرِ عتاب آ چکی ہے۔
میں عام طور پر X (سابقہ ٹویٹر) پر نہیں جاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں فیس بک سے بھی بڑے اور بدبودار گٹر ابل رہے ہوتے ہیں اور ماحول شدید متعفن ہوتا ہے۔ میں یہ ماحول دیکھ کر الجھ جاتا ہوں اور اپنے ذہنی سکون کے لیے اسے چھوڑ دیتا ہوں۔ X کا بہترین اور پرسکون استعمال یہ ہے کہ آپ کوئی بامقصد بات پوسٹ کر کے نکل آئیں۔ وہاں اسکرولنگ نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ اس سے طبیعت بوجھل اور منتشر ہو جاتی ہے۔
اگرچہ سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کا نشانہ فوج نظر آتی ہے، لیکن بغور مشاہدہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ شاید ایسا نہیں۔ ان کا اصل ٹارگٹ دراصل فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ہیں۔ ان کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز ان کا سب سے بڑا ہدف دکھائی دیتی ہیں۔ تحریک انصاف نے جو گندگی سوشل میڈیا پر پھیلائی ہے یا جس ماحول کو پروان چڑھایا ہے، وہ اب پاکستانی سوشل میڈیا کا عمومی مزاج بن چکا ہے۔ یعنی ان کے مخالفین بھی اسی رنگ میں رنگ چکے ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کو ہم نے اسی اور نوے کی دہائی میں محترمہ بینظیر بھٹو اور پیپلز پارٹی کے بارے میں اخلاق باختہ پروپیگنڈا کرتے دیکھا ہے، لیکن اس کی شدت وہ نہیں تھی جو آج کے سوشل میڈیا دور میں نظر آ رہی ہے۔ عمران خان اور بشریٰ بیگم پچھلے آٹھ سالوں میں کئی دقیانوسی حرکات کرتے ہوئے واضح طور پر دکھائی دیے ہیں، مگر اس کے باوجود ان کے خلاف اخلاق سے گری ہوئی پوسٹیں کسی طور مناسب نہیں۔ مسلم لیگ (ن) کا بشریٰ بیگم کے بارے میں پروپیگنڈا اتنا اثر انگیز ہے کہ پی ٹی آئی کے صاف ستھرے مخالفین بھی اس کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں، اور ہمیں اچھے خاصے شفاف لوگ بھی یہ غلیظ پوسٹیں شیئر کرتے نظر آتے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں ہم دیکھتے ہیں کہ نہ صرف پی ٹی آئی اپنے فوج پرست بیانیوں سے پیچھے ہٹی ہے، بلکہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی بھی مکمل طور پر فوج اور اسٹیبلشمنٹ دوست جماعتیں بن چکی ہیں۔ اگرچہ ان جماعتوں کے کوئی واضح نظریات نہیں، لیکن پیپلز پارٹی کی اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست کی ایک طویل تاریخ ہے جو جدوجہد اور قربانیوں سے عبارت ہے۔ آج کی پیپلز پارٹی اور بلاول بھٹو جس طرح کھل کر فوج اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی چاپلوسی کرتے دکھائی دیتے ہیں، اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ آئینی ترامیم کے ذریعے دستور پاکستان کے ساتھ جس طرح کھیلا جا رہا ہے، وہ قابلِ مذمت ہے۔
پاکستان کے ترقی پسند عناصر موجودہ سیاسی حالات میں بھی اسٹیبلشمنٹ مخالف جماعت اور ان کے قائد عمران خان پر ہونے والے جبر کی مذمت کر رہے ہیں۔ لیکن تحریک انصاف، اپنے دعووں کے باوجود، عملاً سیاست میں فوج کے کردار کی مخالف نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی تحریک انصاف کی امیدیں فوج ہی سے وابستہ ہیں۔ اس کی تازہ مثال ایک انصافی صحافی صابر شاکر کی حالیہ ٹویٹ ہے، جس میں وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے استعفے اور ملک کے استحکام کے لیے فوج کی باگ ڈور کسی دوسرے جنرل کے سپرد کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہیں یقیناً امید ہے کہ دوسرا جنرل تحریک انصاف کا ہمدرد ہوگا اور وہ عمران خان کو رہا کروا کر پارٹی پر جبر کا خاتمہ کر دے گا۔لیکن پھر بھی کوئی امید بر نہیں آتی
فیس بک کمینٹ

