آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے عمران خان کے بیان کو تحریک انصاف کی لیڈر شیریں مزاری نے ’غیر ضروری ‘ قرار دیا ہے اور فواد چوہدری اور اسد عمر نے وضاحتی بیانات میں کہا ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ نے فوجی قیادت کی حب الوطنی کے بارے میں کوئی بات نہیں کی ۔ حالانکہ اقتدار کی ہوس میں عمران خان کا طرز عمل قومی سلامتی کے لئے خطرہ بنتا جارہا ہے۔
تحریک انصاف کی وضاحتوں کے باوجود پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا جاری کردہ بیان صاف اور دو ٹوک ہے۔ اس میں گزشتہ رات فیصل آباد میں تقریر کے دوران عمران خان کے ریمارکس کو سختی سے مسترد کیا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ پاک فوج کی سینئر قیادت کے بارے میں ہتک آمیز اور انتہائی غیر ضروری بیان پر پاکستان آرمی میں شدید غم و غصہ ہے۔ ایک ایسے وقت میں پاک فوج کی سینئر قیادت کو متنازع بنانے کی کوشش انتہائی افسوسناک ہے جب پاک فوج، قوم کی سیکیورٹی اور حفاظت کے لیے ہر روز جانیں قربان کر رہی ہے۔آرمی چیف کی تعیناتی کے لئے آئین میں واضح طریقہ کار موجود ہے۔ اس کے باوجود سینئر سیاستدانوں کی جانب سے اس عہدے کو متنازع بنانے کی کوشش انتہائی افسوسناک ہے۔ پاک فوج کی اعلیٰ قیادت کو سیاست میں ملوث کرنے کی کوشش اور آرمی چیف کی تعیناتی کے طریقہ کار کو متنازع بنانا ، پاکستان اور فوج کے مفاد میں نہیں ہے‘۔
فیصل آباد میں تقریر کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ ’ آصف زرداری اور نواز شریف اپنی پسند کا آرمی چیف لانا چاہتے ہیں کیونکہ انہوں نے پیسا چوری کیا ہوا ہے۔ یہ ڈرتے ہیں کہ یہاں کوئی تگڑا اور محب وطن آرمی چیف آگیا تو وہ ان سے پوچھے گا۔ اس ڈر سے یہ حکومت میں بیٹھے ہیں کہ اپنی پسند کا آرمی چیف مقرر کریں۔ یہ لوگ سیکیورٹی رسک ہیں۔ یہ دو لوگ ملک کے غدار ہیں۔ کسی صورت ملک کی تقدیر ان کے ہاتھ میں نہیں ہونی چاہیے۔ اس ملک کا آرمی چیف میرٹ پر ہونا چاہئے۔ کسی کی پسند کا آرمی چیف نہیں ہونا چاہئے‘۔ عمران خان کی ان باتوں سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ تحریک انصاف کے قائد فوج کی اعلیٰ قیادت کے بارے میں شبہات رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ بعض جنرل موجودہ اتحادی حکومت کے ہمدرد ہیں اور ایسے کسی جنرل کے آرمی چیف بننے کی صورت میں عمران خان کی سیاسی پوزیشن کو نقصان ہوگا۔ حالانکہ پاک فوج گزشتہ کچھ عرصہ سے واضح کررہی ہے کہ وہ سیاسی معاملات میں مداخلت کرنا نہیں چاہتی اور اب ملکی سیاست سے دور رہنے کی پالیسی پر سختی سے قائم ہے۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ اپریل میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی اسی لئے کامیاب ہوسکی تھی کیوں کہ فوج نے ان کی سرپرستی سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔
عمران خان نے اقتدار سے محرومی کے بعد امریکی سازش کا راگ الاپنے کے تھوڑی دیر بعد ہی پاک فوج کو براہ راست اس تبدیلی کا ذمہ دار کہنا شروع کردیا تھا۔ انہوں نے فوجی ترجمان کی طرف سے غیر جانبداری کے مؤقف کا مضحکہ اڑانے کے لئے فوج کے لئے ’نیوٹرلز‘ کی اصطلاح کا استعمال شروع کیا اور دعویٰ کیا کہ نیوٹرل تو صرف جانور ہوتے ہیں۔ انسانوں کو اللہ نے اچھے اور برے میں تمیز کرنے کے لئے پیدا کیا ہے ۔ عمران خان کے اس فلسفہ کے مطابق ’فوج کو موجودہ حکومت کو گرانے اور نئے انتخابات کروانے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہئے‘۔ اس حوالے سے کی جانے والی بیان بازی پر تحریک انصاف کو بیشتر اوقات اپنی پوزیشن واضح کرنا پڑی ہے کہ وہ پاک فوج کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس وقت ملک پر حکمرانی کرنے والے ’ٹولے‘ کے خلاف جد و جہد کررہی ہے ۔
تاہم فوج کے بارے میں تازہ ترین بیان پر صرف وزیر اعظم شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے لیڈر آصف علی زرداری ہی نے شدید رد عمل ظاہر نہیں کیا بلکہ تحریک انصاف کے وفادار صدر عارف علوی نے بھی اس بیان سے اتفاق نہیں کیا۔ پشاور میں میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ آرمی چیف سمیت پوری فوج محب وطن ہے جن کی حب الوطنی پر شک نہیں کرنا چاہیے۔ عمران خان نے آرمی چیف کے حوالے سے جو بات کی وہ خود وضاحت کریں ۔ میں کوئی کنفیوژن پیدا نہیں کرنا چاہتا۔ جو بات کرتا ہے ضروری ہے کہ وہ خود ہی اس کی وضاحت بھی کرے‘۔ صدر مملکت کے علاوہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بھی آج عمران خان کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی کا معاملہ نمٹاتے ہوئے فیصل آباد میں دیے گئے بیان پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے میں ’عدالتوں سے ریلیف کی امید نہ کی جائے‘۔
سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے عمران خان کے اتوار کے جلسے سے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے اس بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا آپ چاہتے ہیں عدالت انہیں فری لائسنس دے دے؟ جس سیاسی لیڈر کی فالونگ ہوتی ہے اس کے الزام کا اثر بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اتوار کو جو کچھ کہا گیا اس کا کوئی جواز پیش کیا جا سکتا ہے۔ ہر شہری محبِ وطن ہے اور خاص طور پر مسلح افواج کے بارے میں اس طرح کا بیان دے کر آپ ان کا مورال ڈاؤن کرنا چاہتے ہیں۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اس قسم کی غیر آئینی بات اور اشتعال انگیزی آزادی اظہار رائے نہیں ہے ۔کیا کسی آرمی جنرل کی حب الوطنی پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے؟ آپ چاہتے ہیں آپ ایسی باتیں کریں اور پھر پیمرا کنٹرول بھی نہ کرے؟ پہلے آپ خود تو طے کر لیں آپ کرنا کیا چاہتے ہیں؟ ہر شہری محب وطن ہے۔ کسی کے پاس یہ سرٹیفکیٹ دینے کا اختیار نہیں۔ مسلح افواج کے بارے میں جو شہید ہو رہے ہیں اس طرح کی بات کیسے کی جا سکتی ہے؟ اس طرح کے بیان سے آپ اپنے لئے مشکلات پیدا کریں گے۔ آپ دشمنوں کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟
صدر مملکت کے بیان اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے ریمارکس کی روشنی میں دیکھا جائے تو تحریک انصاف کی وضاحتیں ناقابل فہم اور ذمہ داری قبول کرنے سے گریز ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت اس بیان کو درست ثابت کرنے کی بجائے ، یہ اعتراف کرے کہ اس بیان کا لب و لہجہ درست نہیں تھا اور ملکی سیاسی لیڈروں پر تنقید کے لئے اس معاملہ میں فوج کو غیر ذمہ دارانہ طریقہ سے گھسیٹنے کی کوشش کرنا درست رویہ نہیں تھا۔ اگر تحریک انصاف ایسی سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرتی تو شاید آئی ایس پی آر بھی اس بیان پر شدید رد عمل نہ دیتا۔ اب بھی عمران خان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ غیرمشروط طور سے اپنے کہے پر پوری قوم سے معافی مانگیں۔ عمران خان ہر کسی کی عیب جوئی کرتے ہیں لیکن اب انہیں جاننا چاہئے کہ وہ خود بھی انسان ہیں ، کوئی اوتار نہیں ہیں۔ ان سے بھی غلطیاں سرزد ہوتی ہیں۔ فیصل آباد میں دیا گیا بیان ایسی ہی سنگین غلطی ہے جس کے عمران خان کی سیاست پر دوررس اور تشویشناک اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔عمران خان کا یہ بیان بھی قابل مذمت ہے کہ موجودہ حکومت میں شامل لوگوں کی حب الوطنی مشکوک ہے۔ یا یہ کہ وہ ملکی سالمیت کے لئے خطرہ ہیں۔ بیان میں شدت پیدا کرنے کے لئے یہ کہنا کہ حکومت کسی ایسے جنرل کو آرمی چیف بنانا چاہتی ہے جو ان کی ’چوری‘ پر سوال نہ کرے، صریحاً فوج کی موجودہ سینئر قیادت کے بارے میں شبہات پیدا کرنے کی سوچی سمجھی کوشش ہے۔ اس بیان سے ایک ہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ کچھ جنرل کرپشن کے حامی ہیں اور کچھ اس کے خلاف ہیں۔ عمران خان کا خیال ہے کہ موجودہ حکومت بدعنوانی کو قبول کرنے والے کسی جنرل کو آرمی چیف بنائے گی تاکہ ان کی اپنی چوری محفوظ رہے۔ یہ بیان فوجی افسروں کی دیانت اور ملک و قوم سے وفاداری پر سنگین سوال سامنے لاتا ہے۔ اس لئے تحریک انصاف کی یہ وضاحت درست نہیں ہے کہ عمران خان نے کسی فوجی افسر کی حب الوطنی پر شک نہیں کیا۔
ایک طرف عمران خان ملک میں شفاف جمہوری نظام کی بات کرتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ موجودہ حکمران شکست کے خوف سے انتخابات سے بھاگ رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی وہ فوج کو اپنی حمایت میں اکسا کر ملک میں جمہوری عمل کا راستہ بھی مسدود کرنا چاہتے ہیں۔ اس تضاد بیانی سے وہ اپنے ’فین کلب ‘ کو تو خوش کرسکتے ہیں لیکن ملکی آئین و جمہوریت سے وابستگی کے بارے میں شبہات پیدا کررہے ہیں۔ انہیں خود غور کرنا چاہئے کہ ملک کا آئین فوج کو سیاست سے دور رہنے کا پابند کرتا ہے۔ پھر کس’ کار خیر ‘کے نام پر وہ فوج کو سیاسی انجینئرنگ پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس مؤقف کو کیوں ملکی آئین کی صریح خلاف ورزی تصور نہ کیا جائے۔ فیصل آباد میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے یہ اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ شہباز حکومت کوئی ایسا آرمی چیف لگا دے گی جو ان کی بدعنوانی پر سوال نہیں اٹھائے گا۔ لیکن کیا وہ بتا سکتے ہیں ملکی آئین کی کون سی شق کسی بھی آرمی چیف کو ملکی سیاسی قیادت کے کردار کی چھان پھٹک کا اختیار دیتی ہے؟ یادش بخیر عمران خان نے جب تحریک عدم اعتماد سے بچنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا تو دیگر مقاصد کے علاوہ ان کے پیش نظر بھی یہی تھا کہ وہ نومبر میں اپنی مرضی کا آرمی چیف لگا ئیں گے تاکہ مزید ایک مدت کے لئے آرام سے ملک پر حکومت کرسکیں۔ اب اگر شہباز شریف یہی آئینی حق استعمال کریں گے تو اس میں فوجی جرنیلوں کی نیک نامی پر بلا تخصیص سوالیہ نشان لگانا کس حد تک جائز ہوسکتا ہے؟ عمران خان میرٹ اور سینارٹی کی بنیاد پر آرمی چیف لگانے کا جو مشورہ اب دے رہے ہیں، اپنے حکومت کے دور میں تو انہیں یہ ارادہ ظاہر کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ بلکہ 2019 میں سپریم کورٹ کے اعتراض کے باوجود جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع دینے کے لئے انہوں نے انہی ’چوروں‘ کی پارٹیوں کے ساتھ مل کر آرمی ایکٹ میں ترامیم منظور کروائی تھیں۔ آرمی چیف کی تقرری کے لئے ضرور سینارٹی کا اصول طے ہونا چاہئے لیکن یہ معاملہ سیاسی رسہ کشی کی بجائے مفاہمانہ ماحول میں ہی طے ہوسکتا ہے۔
بدقسمتی سے عمران خان نے اسٹبلشمنٹ کا آلہ کار بن کر پہلے سیاست دانوں کی کردار کشی کے لئے چور لٹیرے کو عام محاورے کی شکل دی ۔ اب کسی ثبوت اور عدالتی فیصلے کے بغیر یہ نعرہ زبان زد عام کیا جاچکا ہے کہ فلاں فلاں چور ہے۔ اس بے بنیاد سیاسی نعرے کا سہارا لے کر عمران خان نے نہ صرف حکومت اور فوج میں افتراق پیدا کرنے کی کوشش کی ہے بلکہ فوج میں بالواسطہ بدگمانی اور انتشار کا بیج بھی بویا ہے۔ درحقیقت یہی طرز عمل قومی سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ آصف زرداری کے اس بیان کی صداقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ عمران خان ایک فتنہ کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ اقتدار کی ہوس میں وہ ہر روایت، قانون اور ادارے کو بھینٹ چڑھانے پر آمادہ ہیں۔ محض مقبولیت کے گمان میں اس سیاسی رویہ کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔ عمران خان ضرور ملکی سیاست میں کردار ادا کریں لیکن وہ جھوٹے نعروں اور الزام تراشی کے ذریعے دوسروں سے یہ حق واپس نہیں لے سکتے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

