بھارتی کرکٹ بورڈ کی 14 اپریل سے آئی پی ایل کے آغاز کی امیدیں ابھی سے دم توڑنے لگی ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا کی سب سے بڑی و مہنگی ترین لیگ کااصل شیڈول( 29 مارچ سے آغاز) پہلے ہی متاثر ہوچکا ہے۔ بھارتی بورڈ نے ملکی و عالمی سطح پر چلتی تازہ ترین صورتحال کا ادر اک کرتے ہوئے 14 اپریل سے آغاز کی کوششیں چھوڑدی ہیں اور اس کے لئے جولائی سے ستمبر کے درمیان خالی ونڈو کی تلاش شروع کردی ہے۔
صورتحال کی سنگینی میں اس وقت بھی اضافہ ہوا جب غیر ملکی کرکٹرز نے اگلے ماہ بھارت آنے سے انکا ر کرتے ہوئے آئی پی ایل کھیلنے سے معذرت کر لی ۔ بھارتی بورڈ ان خطوط پر بھی غور کر رہا ہے کہ آئی پی ایل بھارت سے باہر کسی ایسے ملک میں کرادی جائے جو سب سے قبل کورونا فری ملک ڈکلیئر ہو لیکن یہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ وہ ملک اپنے متاثرہ شیڈول کو پہلے دیکھے گا ،اسی طرح بھارت اپنے ملک میں بھی اتنی طویل لیگ جو لائی سے آگے نہیں کرواسکے گا اسلئے کہ غیرملکی پلیئرز دستیاب نہ ہونگے۔
تجزیاتی طور پر پیش گوئی کرنا اور نتیجہ اخذ کرنا آسان ہے کہ بھارت کی آئی پی ایل لیگ اس سال ممکن نہ ہوسکے گی اور اس کا اختتامی اعلامیہ منسوخی کا ہوگا اور یا پھر 55دن کے طویل دورانیہ کے ایونٹ کو مختصر کرکے 25 سے 33 روز میں کرایا جائے گا ۔
ماضی میں یہی آئی پی ایل ملک سے باہر ہوچکی ہے جب 2009 میں 37دن کا ایونٹ جنوبی افریقہ میں ہوا تھا۔ ایونٹ کے انعقاد کیلئے کورونا وائرس کی کمر ٹوٹنا ہی کافی نہیں ہوگا بلکہ اس کا یکسر ختم ہونا ہی اتنی طویل لیگ کے منعقد ہونے کا سبب ہوگا ۔
آئی پی ایل کی منسوخی سے منتظمین کو صرف براڈ کا سٹنگ کی مد میں 500ملین ڈالرز کا نقصان ہوگا
فیس بک کمینٹ

