Uncategorized

بین سٹوکس جی پی فارمولا ریس میں پھسل گئے ۔۔ عمران عثمانی

اپنے بیٹ سے بائولرز کے چھکے چھڑوانے اور اپنی گیند بازی سے بڑوں بڑوں کے ہوش اڑادینے والے انگلش آل رائونڈر خود گھوم کر رہ گئے.
کرکٹر سے فارمولا ون ڈرائیور بننے کا ان کا شوق تو پورا ہوا لیکن ریس میں ان کی پوزیشن 18 ویں و آخری رہی. مقابلے میں ٹاپ کے فیراری ڈرائیورز بھی موجود تھے.
کورونا وائرس کی وجہ سے اسپورٹس سرگرمیاں معطل و کھلاڑی قید ہیں. ایسے میں ورلڈ کپ ونر اور 2019 کے تمام بڑے برٹش ایوارڈ و اعزاز اپنے نام کرنے والے جارح مزاج کرکٹر نے ورچیئل فارمولا ون ریس میں شرکت کا فیصلہ کیا تو شائقین حیران بھی ہوئے اور خوش بھی. مقابلے کی تشہیر 96 گھنٹے سے زائد جاری رہی. بین سٹوکس نے اسکے لئے روزانہ 5،5 گھنٹے کی سخت پریکٹس بھی کی.
میلبورن کے البرٹ پارک کو فارمولا ون گرینڈ پرکس ریس کا مرکز بنایا گیا. فیراری ڈرائیور چارلس لیکلرک نے میدان مارلیا.
یہ ایک فرضی ریس تھی جو عالمی شہرت یافتہ ڈرائیورز نے اپنے گھروں سے کمپیوٹر پر بیٹھ کر کھیلی. بین سٹوکس نے اسکے باوجود اگلی ریس کیلئے کوالیفائی کرلیا ہے اور ساتھی کرکٹر سٹور براڈ کو بھی دعوت دی ہے.
سٹوکس نے تجربے کو بہتر قرار دیا اور کہا کہ گھر میں چند گھنٹے اچھے اور خاموشی سے گزرے اور بیوی کو آرام سے کام کرنے کا موقع بھی ملا اور غیر ضروری باتوں سے بچنے کا موقع بھی خوب رہا.

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker