کالملکھاریمحمد اسلام تبسم

انقلاب ۔ انقلاب۔ انقلاب : چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی ۔۔ اسلام تبسم

آئے روز دنیا کے کسی نہ کسی حصے سے انقلاب کی خبریں آتی رہتی ہیں جو کہ صحیح معنوں میں انقلاب نہیں ہوتا ، بلکہ یہ محض فوجی بغاوت یا سیاسی نظام کی تبدیلی ہوتی ہے اور اس طرح کی تبدیلی کو انقلاب کا نام دینا غلط ہے ۔ گزشتہ کچھ عرصے سے ہمارے ملک میں بھی انقلاب کا چرچا ہے اور عوام کو یہ” خوشخبری“ دی جا رہی ہے کہ انقلاب کا عمل اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک یہ سارا نظام تبدیل نہیں ہو جاتا ۔ یعنی دوسرے لفظوں میں وہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ اس جمہوری حکومت کے خاتمے تک ا س طرح کی محاذ آرائی جاری رہے گی۔اس وقت عوام کے ذہنوں میں ایک ہی سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا اس مبینہ انقلاب کے بعد اس ملک کے بیس کروڑ عوام کے حقوق بحال ہو جائیں گے ؟ ملک سے غربت، جہالت اور بیروزگاری کا خاتمہ ہو جائے گا ؟ کیا اس عظیم ”انقلاب “ کے بعد غیرت کے نام پر عورتوں کے قتل کا سلسلہ بند ہو جائے گا؟ او ر کیا عوام کو انصاف ملے گا؟ اب عوام یہ بات اچھی طرح جان چکی ہے کہ یہ گورکھ دھندا ہے۔ وہ طبقہ جو اب تک عوام کا استحصال کرتا آیا ہے آج وہی طبقہ عوام کو دھوکہ دینے کے لئے انقلاب کی بات کر رہا ہے۔عوام کو روٹی کپڑا اور مکان چاہئے، اُنہیں نہ تو انقلاب سے کوئی غرض ہے اور نہ” نیا پاکستان“ کے نعرے سے کوئی مطلب۔عوام تو یہ چاہتے ہیں کہ اُن کے بنیادی مسائل حل ہوں اور کوئی اُن کی عزت نفس کو مجروح نہ کرے۔ قیام پاکستان کے بعد سے اب تک یہی ہوتا آرہا ہے کہ ملک میں جب بھی کوئی جمہوری حکومت آتی ہے تو جمہوریت دشمن عناصر متحد ہو کر اُس کے حلاف محاذ آرائی شروع کر دیتے ہیں، اُن کے اس طرز عمل سے ملک کو سوائے نقصان پہنچنے کے کچھ نہیں ہوتا،اور اس طرح فوج کو اقتدار میں آنے کا موقع ملتا ہے ۔ اگر 1970کے انتخابات میںعوامی لیگ کی جیت کو تسلیم کر لیا جاتا تو شائد پاکستان دو لخت نہ ہوتا۔اسی طرح اپوزیشن نے 1977 میں ہونے والے الیکشن کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا ، جس کے نتیجے میں فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا جو ساڑھے گیارہ سال تک جاری رہا۔دنیا کے دوسرے حصوں کی طرح ہمارے ہاں بھی ہر طرح کی سیاسی تبدیلی کو انقلاب کا نام دیا جاتا ہے، جو کہ غلط ہے ۔ سیاسی نظام کی تبدیلی یا فوجی بغاوت انقلاب نہیں بلکہ کوُ (qoup)کہلاتا ہے ۔ پاکستان اور تیسری دنیا کے پسماندہ ملکوں میں جتنی بھی تبدیلیاں رو نما ہوئیں ، اسی qoup یا فوجی بغاوت کے ذریعے ہی ہوئیں ۔ ایسی تبدیلی میں صرف اقتدار ایک شخص سے دوسرے شخص کو منتقل ہو جاتا ہے ، باقی معاشرتی ڈھانچہ اُسی طرح برقرار رہتا ہے۔یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے پرانے زمانے میں بادشاہت ایک خاندان سے دوسرے خاندان میں منتقل ہوتی تھی اور باقی سارا نظام اُسی طرح برقرار ر ہتا تھا۔اس طرح کی تبدیلی فوج اور سیاسی قوت کے اتحاد سے عمل میں آتی ہے، چونکہ یہ تبدیلی خفیہ سازش اور باقاعدہ منصوبہ مندی کے تحت عمل میں لائی جاتی ہے ،اس لئے اس میں عوام کی حمایت یا شمولیت بالکل نہیں ہوتی۔اس تبدیلی کے ” رہنما “ اکثر مسیحا کے روپ میں آتے ہیں اور عوام میں مقبولیت حاصل کرنے کے لئے نئی نئی اصلاحات کرتے ہیں ، عوام کو سنہری مستقبل کے خواب دکھائے جاتے ہیں اور اُن سے روزگار ، تعلیم اور انصاف کی فراہمی کے وعدے کئے جاتے ہیں۔ سڑکوں اور گلی محلوں کی صفائی ہوتی ہے ، انصاف کے لئے جگہ جگہ عدالتیں قائم ہوتی ہیں اور دُکانوں پر اشیائے خورد و نوش کے نرخ نامے آویزاں کئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری دفاتر میں اوقات کارکی بابندی پر زور دیا جاتا ہے ، ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعے اخلاقیات اور حب الوطنی کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ، لیکن یہ سب کچھ تھوڑے عرصے کے لئے ہوتا ہے پھر رفتہ رفتہ حالات پرانی ڈگر کی طرف لوٹ آتے ہیں اور عوام کو پھر سے اُنہی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انقلاب صرف سیاسی ہی نہیں بلکہ سماجی اور معاشرتی ڈھانچے کی مکمل تبدیلی کا نام ہے، یہ تبدیلی اچانک نہیں آتی بلکہ اس کے لیئے ایک طویل عرصہ درکار ہوتا ہے، اس دوران مقاصد کے حصول کے لئے جدوجہد جاری رہتی ہے۔ انقلاب کے محرک ہمیشہ عوام ہوتے ہیں اور وہی اس کے لئے قربانیاں دیتے ہیں اور جدوجہد کرتے ہیں ،لیکن اس کا فائدہ ہمیشہ خواص اُٹھاتے ہیں ۔ مثال کے طور پر انقلاب فرانس کے موقع پر عوام نے بے پناہ قربانیاں دیں ، لیکن انقلاب کے بعد بھی وہاں جاگیردارانہ نظام کو برقرار رکھا گیا ۔ زمینیں اُمراءکے پاس تھیں او ر اُنہیں تمام مراعات حاصل تھے۔ فوج ،عدالتیں اور مذہبی ادارے اُن کی خیر خواہی کرتے تھے ، جبکہ مزدور اور غریب طبقہ مسلسل قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہواتھا۔اگر انقلاب کی قیادت عوام کے ہاتھ میں رہے تو ایسا انقلاب طبقاتی نظام کو ختم کر کے عدل و انصاف اور مساوات و بھائی چارے کو جنم دیتا ہے ۔ اس لیئے صحیح انقلاب وہ ہے جو عوام کو اُن کے حقوق واپس دلائے اور معاشرے میں عدل و مساوات قائم کرے۔اس لئے عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ انقلاب کے ذریعے جو تبدیلی رونما ہوتی ہے وہ ان کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے۔ عوام یہ سمجھتے ہیں کہ صرف انقلاب ہی اُن کے مسائل کا واحد ہے۔یونان میںسیاسی نظام کی تبدیلی انقلاب کہلاتی تھی، وہاں سیاسی نظام مسلسل ایک دائرے میں زیر گردش رہتے تھے ، یعنی کبھی بادشاہت ہوتی ، پھر آمریت آجاتی اس کے بعد جمہوریت اور پھر کچھ عرصہ بعد دوبارہ بادشاہت آجاتی تھی، اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہتا تھا۔اُس زمانے میںبادشاہت کو بہترین نظام سمجھتا جاتا تھا۔ عظیم مفکر ارسطو نے بھی بادشاہی نظام کی تعریف کی ہے۔اس نظام میں تمام تر ذمہ داریاں فرد واحد کو سونپ دی جاتی تھیں، بادشاہ کی یہ ذمہ داری ہوتی تھی کہ وہ ملک میں امن وامان قائم کرے، بیرونی حملہ کی صورت میں عوام کی حفاظت اس طرح کرے جیسے ایک چرواہا اپنے بھیڑ بکریوں کی حفاظت کرتا ہے۔ہمیشہ کی طرح اُس دور میں بھی جاگیردار اُمراءاور مذہبی پیشواجمہوری نظام کے خلاف تھے کیونکہ جمہوری نظام میں عوم کی حکمرانی ہوتی ہے اور لوگوں کو حکومتی نظام چلانے کا موقع مل جاتا تھا اس لئے وہاں جمہوریت قائم ہوتے ہی اُمرا اور مذہبی پیشوا جمہوریت کے خلاف جوڑ توڑ اور سازشوں کے جال بننا شروع کر دیتے تھے۔ اس طرح کچھ ہی عرصہ بعد دوبارہ باشاہت یا آمریت آجایا کرتی تھی کیونکہ بادشاہ ظالم وجابر ہونے کے باوجود اُمرا اور مذہبی پیشواو¿ں کے مفادات کا تحفظ کرتے تھے ، اُن کی ہمیشہ یہ خواہش ہوتی تھی کہ بادشاہی نظام برقرار رہے اس لئے وہ بادشاہی نظام کو مضبوط کرنے میں پیش پیش رہتے تھے۔ہمارے ہاں بھی کچھ اسی قسم کی صورتحال دیکھنے میں آ تی ہے۔قیام پاکستان سے قبل یہاں کے اُمراء، جاگیردار اور مذہبی رہنما ﺅ ں کی بڑی تعداد انگریزوں کی حامی تھی ، اُنہوں نے اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر اُن سے وفاداری نبھاتے ہوئے خود کو جدجہد آزادی سے دور رکھا۔دوسری جنگ عظیم کے دوران جاگیردار اپنے اپنے علاقوں میں اس بات کی ترغیب دیتے تھے کہ وہ انگریز سامراج کے ہاتھ مضبوط کریں ، اسی میں اُن کی بھلائی ہے۔بعض علاقوں میں تو جاگیرداروں کے تعاون سے نوجوانوں کو جبراً فوج میں بھرتی کیاجاتا تھا۔قیام پاکستان کی تحریک میں عوام نے بھر پور طریقے سے حصہ لیا اور قربانیاں پیش کیںلیکن پاکستان کے قیام کے بعد اقتدار ایسے لوگوں کے حصے میں آگیا جو ہمیشہ سے عوام کا استحصال کرتے آئے ہیں۔اب تک اس ملک میں جتنے بھی حکمران آئے ہیں اُنہوں نے عوام کی بجائے خواص کے مفادات کو ترجیح دی ہے۔کوئی بھی انقلاب ایک دم نہیں آتا بلکہ اس کے لئے طویل عرصہ درکار ہوتا ہے، اس دوران حالات و واقعات انقلاب کی راہ ہموار کرتے ہیں اور حالات کے سازگار ہوتے ہی انقلاب پھوٹ پڑتا ہے۔ کوئی بھی انقلاب اُس وقت تک نہیں آتا جب تک عوام میں سیاسی شعور بیدار نہ ہو جائے۔انقلاب فرانس کے وقت جرمنی، پولینڈ اور اسپین کے عوام کی حالت فرانس کے عوام سے کہیں زیادہ خراب تھی ،لیکن اُن میں سیاسی شعور نہ تھاجبکہ فرانس کے عوام سیاسی طور پر بیدار ہو چکے تھے اس لئے اُنہوں نے اپنے حقوق کے حصول کے لئے جد وجہد تیز کر دی اور انقلاب لانے میں کامیاب ہو گئے۔ اس وقت ہمارے ملک کے عوام میں سیاسی شعور نہ ہونے برابر ہے ، عوام کی اکثریت ناخواندہ ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے حقوق سے واقف نہیں اورنہ ہی اُن میں سیاسی شعور ہے۔ ایک طرف تو وہ جاگیردار سرمایہ دار اور نام نہاد مذہبی رہنماؤں کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں تو دوسری طرف آئے دن ہونے والے خود کش حملوں اور دہشت گردی کے واقعات نے ملک کی معیشت کو خاصا کمزور کر دیا ہے، اس لئے یہ وقت عَلم بغاوت بلند کرنے اور انقلاب کے نام پر عوام کو خوفزدہ کرنے کا نہیں بلکہ دانشمندی کا تقاضایہ ہے کہ عوام کے مسائل کی طرف توجہ دی جائے۔ عوام پہلے ہی سیاستدانوں کی محاذآرائی سے نالاں ہیں ، اس طرح کی محاذ آرائی سے جمہوریت کو ایک مرتبہ پھر خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، اگر آپ عوام کو اُن کے دیرینہ مسائل سے نجات دلا کر اُن کا دل جیتنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس سے بڑا انقلاب اور کیا ہوگا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker