یوم یک جہتی کشمیر پر صدر عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو اجاگر کیا ہے اور اقوام عالم کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں کشمیر یوں کے حق استصواب کو یقینی بنانا چاہئے تاکہ وہ اپنی خواہشات کے مطابق اپنے مستقبل کافیصلہ کرسکیں۔ پاکستانی قیادت کشمیر کے حوالے سے عالمی برادری کو ایک ایسے وقت میں اس کی ذمہ داریاں یاد دلوانے کی کوشش کررہی ہے جب کشمیر کے بارے میں پاکستان کی اپنی پالیسی غیر واضح ہے اور اس پر شبہات کا سایہ ہے۔
پاکستانی لیڈروں کی طرف سے کشمیر پر تند و تیز اور سخت بیان دینے کی روایت بہت پرانی ہے۔ کبھی اس مقصد کے لئے ایک ہزار سال تک جنگ لڑنے کا اعلان کیا گیا اور کبھی ملک کو ایٹمی دھماکوں کے بوجھ میں دبا کر کشمیر کے لئے پاکستان کی دفاعی اور حملہ کرنے کی صلاحیتوں میں اضافہ کا دعویٰ کیا گیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی بیان بازی کے علاوہ لائن آف کنٹرول پر ایک دوسرے کے خلاف بے مقصد گولہ باری کے ذریعے بھی درحقیقت یہی بیان دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ دونوں ملک اپنے مؤقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ تاہم گزشتہ سال کے شروع میں ایل او سی پر جنگ بندی کو یقینی بنانے کا معاہدہ کیا گیا ہے جس پر ابھی تک عمل درآمد ہورہا ہے۔ یہ معاہدہ دونوں ملکوں کی فوجی قیادت کے درمیان ہاٹ لائن پر رابطہ کے ذریعے ہؤا تھا جس میں علاقے میں کشیدگی کم کرنے کے لئے 2003 کے معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنانے کا اعلان کیا گیا تھا۔
یہ جنگ بندی ابھی تک برقرار ہے اگرچہ دونوں ملکوں کی فوج اس سوال پر بھی بیان بازی کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ جنگ بندی یقینی بنانے میں کس کا ’پلہ بھاری‘ تھا۔ معاملہ کی حساسیت اور اس پر بیان بازی کی حد تک برتری برقرار رکھنے کی خواہش کا اندازہ حال ہی میں بھارتی آرمی چیف کے اس بیان سے بھی کیا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ’ گزشتہ سال فروری میں طے پانے والا جنگی معاہدہ بھارتی عسکری بالادستی کی وجہ سے ممکن ہؤا تھا‘۔ گویا انہوں نے یہ دعویٰ کرنے کی کوشش کی کہ بھارتی فوج نے پاکستان کو جنگ بندی پر مجبور کردیا تھا۔ یہ بیان کشمیر میں تصادم کی صورت حال سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی احمقانہ کوشش کے سوا کچھ نہیں تھا۔ اسی لئے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے جوابی بیان میں کہا کہ ’بھارتی آرمی چیف کا یہ دعویٰ کہ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی اس لئے ہے کہ انہوں نے طاقتور پوزیشن سے بات چیت کی تھی، واضح طور پر گمراہ کن ہے‘۔ پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی پر صرف ایل او سی کے اطراف بسنے والے کشمیریوں کے تحفظ کے حوالے سے پاکستان کے خدشات کے باعث اتفاق کیا گیا تھا۔ کسی کو اسے (جنگ بندی کو) اپنی طاقت اور دوسرے کی کمزوری سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے‘۔
اس بات میں شبہ نہیں ہے کہ جنگ سے گریز کے کسی بھی معاہدے کو کسی فریق کی کمزوری نہیں سمجھنا چاہئے۔ اس سے معاملات تو طے نہیں ہوتے لیکن باہمی اعتماد کی فضا خراب ہوتی ہے جو پیچیدہ اور مشکل مسائل کے حل میں رکاوٹ بنتی ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستانی فوج اور سیاسی قیادت نے تواتر سے یہ اعتراف کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا کوئی فوجی حل موجود نہیں ہے۔ یعنی پاکستان یہ ماننے لگا ہے کہ بھارت کے ساتھ جنگ کرکے کشمیر کا قبضہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ بھارت کی طرف سے اس حوالے سے ایسے ہی بیان تو سننے میں نہیں آئے لیکن ’سرجیکل اسٹرائیک‘ جیسے بھونڈے دعوؤں کے ذریعے بالواسطہ طور سے یہ اعتراف ضرور کیا جاتا ہے کہ بھارت کو بھی اندازہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ کسی نئی جنگ کی صورت میں بھارت کو شدید اور ناقابل تلافی نقصان کے لئے تیار رہنا چاہئے۔
یہ حقیقت تو اب عالمی طور سے تسلیم کی جاچکی ہے کہ کسی مسئلہ کو میدان جنگ میں مقابلے بازی سے حل نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی تازہ مثال افغانستان سے امریکی و اتحادی افواج کے انخلا اور طالبان کے کابل پر قبضہ کی صورت میں مشاہدہ کی جاسکتی ہے۔ طالبان اور پاکستان کے کچھ حلقے تو اسے امریکی شکست سے تعبیر کرتے ہیں لیکن افغانستان کو اس وقت جن حالات کا سامنا ہے اور امریکہ سے امداد کے لئے جس طرح سفارتی منت سماجت کی جارہی ہے، اس سے یہی سبق حاصل ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے موجودہ دور میں جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ امریکہ اور اس کے حلیف ملکوں نے بھی یہ سبق سیکھ لیا ہے کہ20 برس کے دوران کھربوں ڈالر صرف کرکے اور بیش قیمت انسانی جانوں کے ضیاع کے باوجود افغانستان میں صورت حال جوں کی توں ہے۔ اب بھی وہاں انسانی حقوق کی بحالی اور اس ملک کو دہشت گردوں سے محفوظ رکھنے کی سفارتی و سیاسی کوششیں ہورہی ہیں۔
اس تناظر میں پاکستان کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لئے جنگ سے گریز کا اعلان کسی کمزوری کا اعتراف نہیں بلکہ حقیقت حال تسلیم کرنے کا جراتمندانہ طریقہ ہے۔ پاکستان بھارت کے مقابلے میں عسکری لحاظ سے کم تر صلاحیت کا حامل ضرور ہے اور اسلحہ و بارود کی خریداری کے لئے اس کے پاس دستیاب وسائل بھی کم ہیں لیکن جنگ کی صورت میں پاک فوج دشمن کو نقصان پہنچانے کی ویسی ہی صلاحیت رکھتی ہے جس سے بھارتی فوج بیش قیمت ہتھیاروں اور کثیر فوجی تعداد کے سبب بہرہ ور ہے۔ کسی جنگ کی قیمت دونوں اطراف میں شہری آبادیوں کو جانی نقصان اور معاشی وسائل سے محرومی کی صورت میں ادا کرنا پڑے گی۔ کسی لیڈر، ملک یا فوج کی طرف سے جنگ سے انکار درحقیقت اس کی ہلاکت خیزی کا اعتراف ہے۔ یہ اعتراف بیشتر صورتوں میں جنگ سے بچنے کا راستہ ہموار کرتا ہے۔
اس کے باوجود پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی فضا کشیدہ ہے اور مسائل پر بات کرنے کی راہ ہموار نہیں ہوپائی۔ دونوں طرف کے سیاسی لیڈر زمینی حقائق کا ادراک رکھنے کے باوجود عوام کے سامنے اس کا اعتراف کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ دونوں ملکوں میں سیاسی لیڈروں نے گزشتہ ستر برس میں عوام کو ایک دوسرے کے خلاف نفرت پر آمادہ کیا ہے ۔ اب اس خود ساختہ نفرت نے مصالحت اور پیش رفت کے راستے روکے ہوئے ہیں۔ ان حالات کو یوم یک جہتی کشمیر یا کسی بھی دوسرے حوالے سے تند و تیز بیانات جاری کرکے یا ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا کر تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستانی صدر اور وزیر اعظم کو یوم یک جہتی کشمیر پر ضرور کشمیری عوام کے حق خود اختیاری کی حمایت کرنی چاہئے لیکن بھارتی قیادت پر حملے کرتے ہوئے یہ احساس بھی کرنا چاہئے کہ بین السطور مواصلت و مصالحت کی کوششیں بھی کی جارہی ہیں۔ اگرچہ سیاسی لیڈر مخالف فریق کی طرف سے سخت الفاظ سننے کے عادی ہوتے ہیں، پھر بھی غیر محتاط الفاظ بعض اوقات مشکلات پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ مثال کے طور پر وزیر اعظم عمران خان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’ بھارت کشمیریوں کے خلاف جنگی جرائم میں ملوث ہے ۔ نسل کشی جیسا گھناؤنا اقدام کیا جارہا ہے۔ اس علاقے میں مسلمان آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے اقدامات بھی کئے گئے ہیں‘۔ اس سخت اور براہ راست بیان کے بعد اگر کچھ عرصے میں موجودہ حکومت ہی بھارتی لیڈروں کے ساتھ مفاہمت کی طرف مائل دکھائی دے گی تو اس کے حامی ہی ان جوشیلے بیانوں کا حوالہ دے کر حیرت کا اظہار کریں گے۔
دونوں ملکوں کے درمیان مفاہمت و مواصلت کا ایک اشارہ ملک کے ممتاز صنعتکار میاں محمد منشا نے گزشتہ دنوں لاہور چیمبر آف کامرس کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیا ہے۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان بیک ڈور ڈپلومیسی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر معاملات درست سمت میں گامزن رہیں تو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ایک ماہ کے اندر پاکستان کا دورہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان دشمنی کے خاتمہ اور تجارتی فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسی طرح اس علاقے میں غربت کے خاتمے اور خوشحالی کا راستہ ہموار کیا جاسکتا ہے۔ اس بیان پر سوشل میڈیا پر ضرور مباحث ہوئے ہیں لیکن سرکاری طور پر اس ’خوش فہمی‘ کی تردید کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ اب اس امید افزا صورت حال کا مودی کو انسانیت دشمن قرار دینے جیسے بیانات سے موازنہ کیا جائے تو عام پاکستانی کی بے چینی اور بے یقینی میں اضافہ ناگزیر ہے۔ خاص طور سے اگر واقعی ایسے حالات رونما ہوجائیں کہ عمران خان کو ایک نہیں تو چند ماہ میں نریندر مودی کا اسلام آباد ائیرپورٹ پر استقبال کرنا پڑے۔
یوں تو اگست 2019 میں مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بارے میں بھارتی حکومت کے اقدامات پر عمران خان کے مخالفین برملا یہ کہتے ہیں کہ بھارتی حکومت یہ انتہائی اقدامات پاکستان کے ساتھ کسی نہ سطح پر افہام و تفہیم کے بغیر نہیں کرسکتی تھی۔ لیکن تحریک انصاف کی حکومت نے بظاہر ان اقدامات پر سخت مؤقف اختیار کیا ہے اور اس وقت تک بھارت کے ساتھ مذاکرات سے انکار کیا جارہا ہے جب تک مودی سرکار 5 اگست 2019 کے اقدامات واپس نہیں لیتی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ پاکستانی مؤقف درحقیقت مقبوضہ کشمیر کی بھارت نواز سیاسی پارٹیوں کے نقطہ نظر سے ہم آہنگ ہے اور اس میں کشمیر میں آزادی کی جد و جہد کرنے والے گروہوں کی رائے شامل نہیں ہے۔
حال ہی میں پاکستان نے جس پانچ سالہ نئی قومی سلامتی پالیسی کا اعلان کیا ہے ،اس میں ملکی معیشت کو ترجیح دینے کا ذکر کرتے ہوئے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تجارتی اور کمرشل تعلقات کو فروغ دینے کا عزم کیا گیا ہے۔ اسی پالیسی کے مطابق پاکستان کم از کم ایک سو سال تک کسی بھی مسلح تصادم سے گریز کرے گا تاکہ ملکی معیشت کو عوامی بہبود اور عسکری صلاحیت کی بہتری کے لئے مضبوط و مستحکم کیاجاسکے۔ معاشی ترقی کایہ راستہ بھارت کے ساتھ وسیع البنیاد مصالحت کے بغیر طے نہیں ہوسکتا۔ دشمنی و تصادم کا رشتہ ختم کرنے کی سرکاری پالیسی کے باوجود بھارتی لیڈروں کے خلاف سخت اور تند و تیز بیانات کا نہ تو کوئی جواز ہے اور نہ ہی اس طرح مقررہ اہداف حاصل کئے جاسکیں گے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

