تہران : ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای گذشتہ سات ماہ کے دوران اب دوسری بار روپوش ہو گئے ہیں۔ انھیں بخوبی اندازہ ہے کہ انھیں ذاتی طور پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ مستقبل قریب میں اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ وہ اپنے گھر کے صحن میں چہل قدمی کرتے پائے جائیں یا گھر کی بالکونی پر سکون سے فرصت کے لمحات گزار پائیں۔
اور ایسا اس لیے ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران میں مظاہرین کی حمایت کے لیے مزید ممکنہ اقدامات پر بات کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قاسم سلیمانی اور ابو بکر البغدادی کا حوالہ دیا ہے۔
قاسم سلیمانی، جو مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے سب سے اہم عسکری حکمت کار سمجھے جاتے تھے، تین جنوری 2020 کو بغداد ایئرپورٹ کے قریب امریکی صدر (ٹرمپ) کے حکم پر ڈرون حملے میں مار دیے گئے تھے۔ جبکہ داعش کے سربراہ ابو بکر البغدادی 27 اکتوبر 2019 کو شمالی شام میں امریکی کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔
خامنہ ای حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ کے انجام کو بھی فراموش نہیں کر سکتے۔ حسن نصراللہ 27 ستمبر 2024 کو بیروت کے ایک رہائشی ٹاور میں اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ ہونے والے ایک مشاورتی اجلاس کے دوران اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک کر دیے گئے تھے۔
اسی طرح، رواں سال جنوری میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی امریکی فورسز کے ہاتھوں ڈرامائی گرفتاری بھی خامنہ ای کے ذہن میں محو نہیں ہوئی ہو گی۔
یاد رہے کہ گذشتہ اتوار کو ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای پر کسی بھی قسم کا حملہ ایرانی قوم کے خلاف جنگ تصور کیا جائے گا۔
امریکی صدر ٹرمپ اِس وقت ایران کے خلاف اپنے اگلے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔ سنیچر کے روز ٹرمپ نے امریکی جریدے پولیٹیکو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ’ایران میں نئی قیادت تلاش کرنے کا وقت آ گیا ہے۔‘
تاہم اگر 86 سالہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو کسی امریکی فوجی کارروائی کے نتیجے میں ملک کے سیاسی منظر نامے سے ہٹا دیا جائے تو ایران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سالہا سال سے آیت اللہ خامنہ ای ایرانی عوام کے ایک مخصوص طبقے کے لیے ناپسندیدہ شخصیت رہے ہیں۔ ملک بھر میں مظاہرین اُن کے اقتدار کے خاتمے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق وہ ملک کے لیے ‘تباہ کن’ رہنما ثابت ہوئے ہیں۔
اپنے 36 سالہ اقتدار کے دوران خامنہ ای نے مسلسل امریکا اور مغرب مخالف پالیسیوں کو فروغ دیا ہے اور اس دوران ایران نے اپنی بقا کے لیے روس اور چین پر انحصار کیا۔ ان کی جوہری پالیسی نے ایران کو بھاری قیمت، پابندیوں اور عوامی مشکلات کے سوا کچھ نہیں دیا۔

