تہران : ایران میں بدھ کی شب محرم کے سلسلے میں ہونے والی ایک اعلی سطح کی تقریب میں ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی موجودگی کے بغیر ان کی رہائش گاہ امام خمینی حسینیہ میں منعقد ہوئی۔ یہ تقریب ہر سال رہبر اعلیٰ کی موجودگی میں منعقد ہوتی تھی۔ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد سے علی خامنہ ای کی عوام کی نظروں سے غیر موجودگی نے عوام کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے۔
صرف کورونا وائرس وبائی مرض کے دوران صحت کے ضوابط کی وجہ سے تقریب ہجوم کے ساتھ منعقد نہیں کی گئی تھی اور آیت اللہ خامنہ ای امام خمینی کے روضہ حسینیہ میں اکیلے نمودار ہوئے۔ آیت اللہ خامنہ ای اسرائیل اور ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے تقریباً 22 دن سے روپوش ہیں اور معمول کے برعکس انھوں نے ہلاک ہونے والے اعلیٰ ترین فوجی کمانڈروں کے جنازوں میں بھی شرکت نہیں کی۔ یہ تقریب جو گذشتہ کئی برس سے مختلف انداز میں منعقد ہوتی تھی اس میں کئی فوجی کمانڈروں کے ساتھ انتظامیہ اور عدلیہ کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔ تقریب میں کئی بچوں کو بھی لایا گیا جنھوں نے مقتول کمانڈروں کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔
ایران کے سرکاری میڈیا نے خامنہ ای کی غیر موجودگی کا ذکر نہیں کیا ہے اور جس طرح سے ملکی میڈیا میں خبریں شائع ہوئی ہیں اس سے ان کی غیر موجودگی کو معمول پر لانے کی کوشش کی عکاسی ہوتی ہے۔
لبنان میں ایران کے ثقافتی مشیر اور آیت اللہ خامنہ ای کے قریبی ساتھی کامل باقر زادہ نے تقریب میں ایران کے رہبر اعلیٰ کی غیر موجودگی کو ’تحفظ پسندانہ نظریہ‘ کی پاسداری قرار دیا ہے۔ انھوں نے مشرق نیوز کے ایک نوٹ میں لکھا کہ اس ’تقریب سے غیر حاضری کوئی نادر، بے مثال یا عجیب واقعہ نہیں ہے، درحقیقت یہ ان کے معمول کے کردار اور روایت سے وابستگی ہے، جو اپنے ذاتی مفادات پر محافظ ٹیم کی ماہرانہ رائے کو ترجیح دینا ہے۔‘13 جون کو اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے جو 12 دن تک جاری رہے جس کے بعد جنگ بندی ہو گئی لیکن علی خامنہ ای کا عوام کے سامنے نہ آنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان کی زندگی اب بھی خوف میں گزر رہی ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اسرائیل کے چینل 13 کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم خامنہ ای کو ختم کرنا چاہتے تھے، لیکن ایسا کرنے کا آپریشنل موقع پیدا نہیں ہوا۔‘اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے اپنی تقاریر میں بھی کہا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کو ’قتل‘ کرنے سے جنگ کے خاتمے میں مدد مل سکتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل ایران جنگ کے درمیان کہا تھا کہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کہاں چھپے ہوئے ہیں لیکن ان کا ’ابھی‘ انھیں قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز نے دو نامعلوم امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ دی تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی رہنما کے قتل کے اسرائیل کے منصوبے کو ویٹو کر دیا تھا۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
فیس بک کمینٹ

