خاور نعیم ہاشمیکالملکھاری

نیک دل مزدور حسیناؤں کا جذبہ۔۔خاور نعیم ہاشمی

فنکار برادری نے کینسر کے مرض میں مبتلا کامران کامی نامی نوجوان گلوکار کے علاج کی رقم جمع کرنے کیلئے چیریٹی شو کا اہتمام کیا تو مجھ سے رابطہ کرکے کہا گیا کہ آپ مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوں، ایک نیک مقصد کے لئے ہونے والی اس تقریب میں جانے سے انکار نہ کر سکا ، لیکن یہ ضرور سوچتا رہا کہ کامران کامی ہے کون سا گلوکار، جس کا نام کبھی نہیں سنا، انٹر نیٹ پر تلاش شروع کی تو وہاں اس کے تین گانے مل ہی گئے،آواز اچھی لگی، پرفارمنس بھی بری نہ تھی، اس نوجوان بیمار گلوکار کے لئے تقریب کے تمام تر انتظامات، میگھا جی نے کئے ’’زنجیر‘‘ کے غلام مصطفی، ایس۔ ڈبلیو رضوی المعروف ٹائیگر شاہ، صغریٰ صدف، جرار رضوی، ناصر بیراج، ارشد نسیم بٹ اور طارق طافو نے اس نیک کام میں میگھا کا ہاتھ بٹایا، تقریب میں ایک سو سے زیادہ آرٹسٹ موجود تھے جن میں آدھی سے زیادہ خواتین تھیں اور یہ سب آرٹسٹ وہاں پرفارمنس دینے کیلئے پہنچے ہوئے تھے، خواتین آرٹسٹوں نے تقریب میں آنے سے پہلے یقیناً بیوٹی پارلرز میں بھی وقت بتایا ہو گا، سبھی عمر کی یہ خواتین شہزادیاں لگ رہی تھیں، قیمتی اور جدید تراش خراش کے لباس زیب تن کر رکھے تھے، ان کے لباسوں اور میک اپ پر جتنے پیسے لگے ہوں گے اتنی رقم سے کینسر کے سو مریضوں کو زندگی کی جانب لوٹایاجا سکتا تھا، لیکن یہ سب نیک دل آرٹسٹ خواتین ایک اعلیٰ و ارفع مقصد کے لئے اپنی قیمتی مصروفیات سے وقت نکال کر وہاں پہنچی تھیں اس لئے قابل صد تحسین تھیں، گو کہ مریض گلوکار کے علاج کیلئے جتنی رقم درکار تھی وہاں موجود شرکائے تقریب نے اس سے زیادہ رقم عطیہ میں دی، لیکن میرے خیال میں وہاں کئی لوگ ایسے بھی تھے جو چاہتے تو اس امدادی رقم میں کئی گنا اضافہ بھی ہو سکتا تھا، تقریب میں کچھ مہمان ایسے بھی تھے جو لندن،کینڈا، امریکہ ،آسٹریلیا جیسے امیر ممالک میں سیٹل ہیں ، ان چار چھ لوگوں میں سے کسی نے دس ہزار دیے اور کسی نے پندرہ ہزار، ایسے کئی دوسرے تارکین وطن ہمارے بھی دوست ہیں جو سال دو سال بعد پاکستان آتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ رقص و سرود کی محفلوں میں تو لاکھوں لٹا دیتے ہیں لیکن جب ان کی توجہ کسی مستحق کی جانب مبذول کرائی جائے تو ان کے ہاتھ جیب کی طرف جاتے ہوئے کانپتے ہیں، لیکن سارے امیر تارکین وطن ایک جیسے بھی نہیں ہیں، جیسا کہ اس تقریب میں آنے والے دوست، کسی نے کم دیا یا زیادہ لیکن ان کے ہاتھ جیب کی طرف جاتے ہوئے کانپے نہیں تھے، جس کینسر کے مریض نوجوان فنکار کی مدد کے لئے یہ تقریب منعقد کی گئی، اگلے دن میں نے فون پر اس کا انٹر ویو لیا اور اس کے حالات جان کر دل بہت دکھی ہوا، کامران کامی کوئی بڑا یا نامور گلوکار نہیں ہے، اس کے یوٹیوب پر جو چار گیت دیکھے جا سکتے ہیں، ان گیتوں کا ایک ایک مصرعہ میں یہاں لکھ رہا ہوں۔ دل گمشدہ ، تجھے ڈھونڈوں کہاں؟کہیں مل جا آ کے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اکھ متراں دی، تیرے اُتے تن سال دی۔۔۔ ساڈے پیار نوں نہ کریں اگنور سوہنئے، نئیں لبھنا نذیر جیا ہور سوہنئے۔ کامران کامی کا باپ پٹواری تھا لیکن ٹھگ پٹواری نہیں، کئی سال پہلے وہ تین بچوں اور اہلیہ کو سوگوار چھوڑ کر اللہ کو پیارا ہو گیا، کامران کامی نے محنت مزدوری کرکے ایف اے تک تعلیم حاصل کی، وہ مختلف جگہوں پر سیلز مین کے طور پر کام کرتا رہا، فورٹریس اسٹیڈیم میں کپڑے کی ایک دکان پر بھی کام کیا، ایک ریکارڈنگ کمپنی میں ساؤنڈ پروفنگ کا کام کرتا رہا، گانے کا شوق تھا، استاد انوار حسین گلو سے تربیت لینا شروع کردی، پہلی بار ایک گانا ’’جیا لاگے نہ‘‘ ریکارڈ کرایا تو موسیقی کے حلقوں میں اس کی آواز کو سراہا گیا، پھر مختلف اسٹیج آرٹسٹوں کے معاون کے طور پر ان کے ساتھ بھی رہا، اس نے میگھا جی کے ساتھ بھی پرفارم کیا، میگھا نے اس کی حوصلہ افزائی کی، اسے گانے پر اکسایا، یو ٹیوب پر جو دو تین گیت پاپولر ہوئے اس کام میں بھی اس کی حوصلہ افزائی کی، کامران کامی نے میرے پوچھنے پر انکشاف کیا کہ اسے ان گانوں سے تھوڑی سی شہرت تو ضرور ملی لیکن آج تک ایک روپے کی کمائی نصیب نہیں ہوئی، اس کی ماں نے اسکی شادی کرادی تھی اب اس کے چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہیں، گھر کے اخراجات چلانے کے لئے وہ ابتک چھوٹی چھوٹی مزدوریاں کرتا رہا ہے اسگریٹ کے دھویں سے بھی الرجک کامران کامی کینسر کا مریض کیسے بن گیا، وہ مہلک مرض جس نے اس کا سب کچھ اجاڑ دیا۔۔۔۔۔کامران کامی بتاتا ہے کہ سات ماہ پہلے وہ رات گئے ایک نجی میوزک پروگرام سے اپنی موٹر سائیکل پر واپس گھر جا رہا تھا کہ راستے میں اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا، حادثہ بہت سنگین تھا اس کا اپینڈکس پھٹ گیا اور جسم کے نازک حصے سے ملحق ایریا میں خون جم گیا ، اس کے دماغ کو بھی اس حادثہ نے متاثر کیا، اس کے علاقے کے ایک یورالوجسٹ نے اسی ایریا کے نجی اسپتال میں ریفر کر دیا، اسپتال والوں نے چیک اپ کے نام پر پہلے اس سے دو ہزار روپے لئے اور پھر بتایا کہ اگر وہ پنتالیس ہزار روپوں کا بندوبست کر لے تو تین دن بعد اس کا آپریشن کیا جائے گا ، ماں اور دوسرے رشتہ داروں نے پیسوں کابندوبست کیا توآپریشن کے نام پر اس کے جسم کے نازک حصے سے جڑا ہوا ایک عضو بھی کاٹ دیا گیا کیونکہ وہاں خون جم چکا تھا، اس کی کیمو تھراپی بھی شروع کر دی، اسی اسپتال والوں نے بائیوپسی کے نام پر گیارہ ہزار وصول کئے اور اس کے بعد اسے کینسر زدہ قرار دے کر فارغ کر دیا، اس کے بعد وہ شوکت خانم اسپتال لے جایا جاتا ہے، جہاں ڈاکٹروں نے اسے بتایا کہ چونکہ اس کی کیمو تھراپی پہلے کی جا چکی ہے لہذا وہ اب اسے ایڈمٹ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، چودہ ہزار روپے کے مزید خرچے کے بعد کامی جان چکا تھا کہ وہ کینسر کے مرض کا شکار ہوچکا ہے، وہ بڑی مشکلوں اور سفارشوں سے دوسرے اسپتال میں داخل ہوا، اب علاج کے لئے اس کی جیب میں تھوڑی سی رقم بھی موجود ہے جو چیریٹی پروگرام میں جمع ہوئی، لیکن اب اسے پیسوں سے زیادہ کسی ایسے مسیحا کی ضرورت ہے جو اسے واقعی انسان سمجھ کر زندگی کی طرف لوٹا سکے، اس سارے عمل کے دوران وہ اپنی ایک آنکھ کی بینائی سے بھی محروم ہو چکا ہے، میگھا اور اس کی ساتھی تمام خواتین آرٹسٹس مبارکباد کی مستحق ہیں کہ انہوں نے کامران کامی کی عملی مدد کی حالانکہ یہ تمام ظاہری حسینائیں بھی بنیادی طور پر مزدور خواتین ہیں، بہت جاندار، بہت شاندار اور خوشبودار دکھائی دینے والی شو بز کی اکثر خواتین کی کہانیاں بھی کامران کامی جیسی کہانیاں ہی ہوتی ہیں لیکن افسوس ہم ان خواتین کے چہرے دیکھتے تو ہیں ان کے چہرے پڑھتے نہیں۔ اس تقریب میں ماضی کی اسٹیج آرٹسٹ رخسار، نادیہ علی، اکثر بیرونی دوروں پر رہنے والی نرمل شاہ، سب سے زیادہ حسین نظرآنے والی عینی طاہرہ، جوجی علی خان ، خلیل حیدر، ،طارق طافو، شیری نیازی، رباب علی، اور طلحہ طافو نے دل سے فن کا مظاہرہ کیا اور داد کے ساتھ دعائیں بھی سمیٹیں، حاضرین مجلس میں سینئر صحافی، طفیل اختر دادا، ہدایت کار و مصنف پرویز کلیم، اداکار راشد محمود بن نازش کاشمیری، ڈاکٹر سعدیہ،سلطان روحیل، غلام مصطفی، ڈاکٹر منور، ڈاکٹر زینب، ڈاکٹر شیراز، اور دوسرے احباب نے بھی شرکت کی۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker