خاور نعیم ہاشمیکالملکھاری

تاریخ نے بولنا شروع کر دیا ۔۔ خاور نعیم ہاشمی

کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ سنگین غداری کیس میں سابق آرمی چیف ریٹائرڈ اور جلا وطنی میں سخت بیمار پرویز مشرف کو سزائے موت کے فیصلے والا سین گزر چکا ہے اور سزائے موت کے تفصیلی فیصلے کا سین اتنا زیادہ پھیل چکا ہے کہ اگلا سین سسپنس بن چکا ہے، لگتا ہے کہ سسپنس والا تیسرا سین نمودار ہونے میں کم از کم ایک ہفتہ تو لگے گا ، لیکن میں اس تھیوری کو نہیں مانتا میرے خیال میں تو جو فیصلے ہو چکے وہ بدلے نہیں جائیں گے، پرویز مشرف سزا کیس میں نا شائستہ اور نا زیبا ریمارکس ضرور حذف ہو جائیں گے، فیصلے نہ بدلے جانے کا یقین مجھے نئے چیف جسٹس آف پاکستان کی وہ تقریر سن کر ہوا جو انہوں نے اپنے منصب کا حلف اٹھانے سے ایک دن پہلے سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس میں کی۔
چیف جسٹس گلزار احمد کے خطاب کا خلاصہ یہ تھا” آئین پاکستان ایک زندہ و جاوید دستاویز ہے سپریم کورٹ( ماضی میں بھی) قانون کی حکمرانی ، آئین کے تحفظ اور آزاد عدلیہ کے چیلنجز سے نبرد آزما ہوتی آئی ہے“ نئے چیف جسٹس صاحب نے ماضی کا حوالہ میرے خیال میں پرویز مشرف کے دور سے دیا ہے، کیونکہ71 سالہ عدلیاتی ماضی میں تو یہ بات فٹ نہیں آتی، بے شک سپریم کورٹ ہی ” نظریہ ضرورت“ کو بار بار تحفظ دے کر جمہوریت کی جڑیں بھی کاٹتی رہی ہے۔ ٭٭٭٭٭
بلا شبہ خصوصی عدالت کے تین میں سے ایک جج نے سزا سے پہلے انتقال کر جانے کی صورت میں پرویز مشرف کی لاش کو اسلام آباد کے ڈی چوک میں لا کر گھسیٹنے اور اسے تین دن تک لٹکائے جانے کا جو ”حکم“ صادر کیا ہے وہ سترھویں صدی کے ایک برطانوی آمر اولیور کرامویل کی لاش کو دی گئی سزا سے سو فیصد مماثلت رکھتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ تاریخ اسلام میں بھی دفن شدہ لاشوں کو قبروں سے نکال کر چوراہوں میں لٹکانے کے کئی ایسے بیہودہ واقعات رقم ہیں، میرے خیال میں فیصلے میں انہی مثالوں کی تقلید کی، ان کے فیصلے کو کسی اندرونی یا بیرونی سازش سے جوڑنا”ٹھوس ثبوت”،سامنے لائے بغیر غلط ہوگا، یہ بات اپنی جگہ بہت بڑا سچ ہے کہ پاکستان کو جن اندرونی اور بیرونی ریشہ دوانیوں کا سامنا ہے اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا، برطانوی آمر اولیور کرامویل نے 1653 ء میں سول حکومت کو تحلیل کرکے پارلیمنٹ توڑ دی تھی، اپنے اس اقدام کے پانچ سال بعد وہ مر گیا تھا، اس کے دوسال بعد چارلس اول کے بیٹے نے حکومت بنانے کے بعد سب سے پہلا جو حکم جاری کیا وہ اولیور کرامویل کی لاش کو قبر سے نکالنے کا تھا، قبر سے لاش نہیں ہڈیوں کا خستہ حال ڈھانچہ برآمد ہوا تھا، جسے پہلے زنجیروں سے جکڑا گیا اور پھر اس ڈھانچے کو ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں ایک بڑے چوک میں پھانسی دیدی گئی، ڈھانچے کی ساری ہڈیاں چورا چورا ہو کر مٹی کی طرح زمین پر بکھر گئی تھیں، صرف کھوپڑی بچی تھی جو اگلے چوبیس سال تک ویسٹ منسٹر ہال کے باہر کھمبے سے لٹکی دکھائی دیتی رہی، پھر یہ کھوپڑی مختلف ہاتھوں میں جاتی رہی، قارئین کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اولیور کرامویل کی اس کھوپڑی کو تین سو سال بعد یعنی1960 ء میں دوبارہ دفنایا گیا تھا۔ ٭٭٭٭٭
پرویز مشرف کو آئین معطل کرنے اور ایمرجنسی لگانے والے فاضل جج کے بارے میں طرح طرح کے گمان کئے جا رہے ہیں، فیصلے کے مخالفین ان کے سیاسی اور خاندانی پس منظر کو بھی ڈھونڈ رہے ہیں، ان پر اپوزیشن جماعتوں کا ایجنٹ ہونے کا بھی الزام عائد کیا جا رہا ہے، نیوز چینلز کے کئی پروگرامز میں مہمانوں سے مضحکہ خیز سوالات کئے جا رہے ہیں، جناب! یہ وہی ہیں جنہوں نے عالمی عدالت انصاف میں بھارت کی جانب سے اپنے جاسوس کلبھوشن یادیو کی حوالگی کیس میں پاکستان کی وکالت کی تھی اور بھارتی موقف کو باطل ثابت کیا تھا۔ ان کا تعلق رحیم یار خان سے ہے لیکن انہوں نے تعلیم پشاور سے حاصل کی، ان کے کلاس فیلوز اور قریبی دوستوں کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھی کا دوران تعلیم کبھی کسی سیاسی یا مذہبی جماعت سے کوئی تعلق نہیں رہا وہ طلبہ تنظیموں کی سرگرمیوں سے بھی ہمیشہ دور رہے، بلا شبہ پرویز مشرف کیس کے تفصیلی فیصلے میں ان کے غیر ضروری ریمارکس نے ایک آئین شکن کو کچھ لوگوں کی نگاہ میں” ہیرو“ بنا دیا ہے لیکن مجموعی طور پر یہ فیصلہ آمریت کا ہمیشہ کے لئے راستہ بند کر دینے والا فیصلہ ہے اور جمہوریت پسند اسے سراہ بھی رہے ہیں اور اسے قومی سطح پر سراہے جانے کی ضرورت ہے، آج ہماری خوش قسمتی ہے کہ طالع آزماوں کا دور نہیں ہے، فوج جمہوریت کے ساتھ شانہ ملائے کھڑی ہے اور آج حکومت اور فوج نہیں عوام اور فوج ایک پیج پر ہیں، میں آپ کو یہ یاد دلاتا بھی چلوں کہ موجودہ صدر پاکستان جناب عارف علوی بھی ان سرکردہ سیاست دانوں میں شامل ہیں جنہوں نے سب سے پہلے آئین معطل کرنے اور ایمرجنسی لگانے کے جرم میں پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا تھا، خود وزیر اعظم عمران خان تھوڑی سی رفاقت کے بعد پرویز مشرف کو چھوڑ گئے تھے اور انہوں نے اپنا راستہ جدا کر لیا تھا، اس مقدمے کا اگر کوئی سقم ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ مقدمہ صرف ایک ریٹائرڈ جرنیل کے خلاف کیوں درج کرایا گیا، اس سقم کے ذمہ دار صرف اور صرف مدعی نواز شریف ہیں، جرم اجتماعی طور پر ہوا تھا تو پھر باقیوں کو کیوں شامل مقدمہ کیوں نہ کیا گیا؟ چوہدری شجاعت حسین تو اعلانیہ کہہ بھی چکے ہیں کہ پرویز مشرف کے اقدامات میں ہم بھی شامل تھے،،اس کی وجہ میرے نزدیک یہ ہے کہ نواز شریف نے مقدمہ آئین معطل کرنے والے کے نہیں ، اپنے،، مجرم،، کے خلاف درج کرایا تھا، اس شخص کے خلاف درج کرایا تھا جس نے انہیں معزول کرکے گرفتار کر لیا تھا اور ہاتھوں کو پشت کی جانب موڑ کر ہتھکڑیاں لگائی تھیں، ورنہ آئین کا معطل ہوجانا بھلا اس شخص کے لئے کیا معنی رکھتا ہے جو خود آئین شکنوں کی گود میں بیٹھ کر اقتدار میں آیا تھا۔ ٭٭٭٭٭
سبکدوش ہوجانے والے چیف جسٹس آف پاکستان جناب آصف سعید کھوسہ یقیناً اپنے پیش رو ثاقب نثار کی طرح کے،، غیر ضروری متحرک،، چیف جسٹس نہیں تھے، ان کا تحرک ان کے جاتے جاتے دو بڑے فیصلوں میں ہی دکھائی دیا، آج صرف ان کے دوسرے تفصیلی فیصلے کے چرچے ہیں لیکن ان کے پہلے والے تفصیلی فیصلے کو حکومت نے ،، بہت آسان،، لیا ہوا ہے، سپریم کورٹ کا حکم ہے کہ افواج پاکستان کے سربراہ کی مدت ملازمت اور توسیع کے حوالے سے چھ ماہ کے اندر اندر قانون سازی کر لی جائے، لیکن شاید حکومت کا خیال ہی ہے کہ کھوسہ صاحب کے چلے جانے کے بعد بات ،، آئی، گئی،،، ہوجائے گی، اس حوالے سے جب وفاقی وزیر فیصل واوڈا سے سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا،،،، کرپٹ اپوزیشن کے ساتھ اسمبلی میں بیٹھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،،، اس جواب کا مطلب صاف صاف یہ ہے کہ اس معاملے پر قانون سازی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اگر یہی حکومتی سوچ ہے تو یہ بچوں والی سوچ ہے اور بچوں والی ہی ضد ہے، جو کسی ادارے کے حق میں نہیں ہے، میرے اندازے کے مطابق اگر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بیٹھ کر حکومت اپوزیشن کے سامنے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا بل رکھے تو وہ اکثریت رائے سے پاس ہوجائے گا، حکومتی رویہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ موجودہ حکومت کے نزدیک دونوں ایوان بے وقعت ہیں، قانون سازی آرڈی ننسوں کے ذریعے کرنے میں کوئی حرج نہیں، یہ سوچ جمہوریت کی نفی کرتی ہے، خود پاکستان تحریک انصاف کے ووٹرز اور سپورٹرز کبھی اس سوچ کو پروان نہیں چڑھنے دیں گے۔۔۔۔۔ یاد رکھا جائے کہ عدلیہ کے فیصلوں نے نہیں اب خود تاریخ نے بولنا شروع کر دیا ہے۔
( بشکریہ : روزنامہ 92 نیوز )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker