خاور نعیم ہاشمیکالملکھاری

یار نہ وچھڑے۔۔خاور نعیم ہاشمی

کسی کی کیا اوقات ہے ، یہ جانچنا کسی کو بھی زیب نہیں دیتا ، عشق اوراوقات یہ دونوں علیحدہ علیحدہ مضامین ہیں، لیکن آج میں ان اخلاقیات کی حدود سے باہر نکلنا چاہ رہا ہوں ، آج میں ان مٹھی بھر لوگوں کو خراج تحسین پیش کرکے ہزاروں دوست احباب کو ناراض کرنے کا رسک لینا چاہتا ہوں، کیوں ؟ میری مرضی…میری زندگی میں ہمیشہ اچھے لوگ آتے رہے، مجھے وہ دوست ملتے رہے جو دوست کی تعریف پر پورے اترتے ہیں، وہ احباب جو آپ کو کبھی ٹھوکر نہیں لگنے دیتے، کسی کھائی میں نہیں گرنے دیتے، میری زندگی کا ایک رخ یہ بھی رہا کہ میں نے دشمن کو کبھی احساس نہیں ہونے دیا کہ میں اس کی حقیقت سے واقف ہوں اور جانتا ہوں کہ وہ مجھے کب کب اور کہاں کہاں سے نقصان پہنچائے گا، میں دشمنوں کی دشمنیاں ہمیشہ سے انجوائے کرتا چلا آیا ہوں، ایک بڑا واقعہ تو تین سال پہلے ہی وقوع پذیر ہوا، ایک آدمی جس کے اندر میرے خلاف غصے اور نفرت کا طوفان تھا، مجھے کہنے لگا، آؤ، سمندر میں نہانے چلتے ہیں، میں تو کبھی نہر میں بھی نہیں نہایا تھا، لیکن اس کی مان لی، وہ مجھے اپنے جیسے کئی دوستوں کے ساتھ سمندر پر لے گیا، اس دن طوفانی ہوائیں چل رہی تھیں، درخت جڑوں سمیت اکھڑ رہے تھے، پانی میں بہت طغیانی تھی، میں اس دوست کے ساتھ جس کے بارے میں مجھے سو فیصد پتہ تھا کہ وہ کسی نہ کسی مقام پر مجھے مارنا چاہتا ہے، سمندر میں اتر گیا، سمندری لہریں سرکش تھیں وہ اپنے دوسرے ساتھیوں سمیت سمندر سے باہر نکل گیا، میں خود کو بچانے کیلئے ہاتھ پاؤں مار رہا تھا،اسے باہر نکلتے دیکھا تو میں نے چلاتے ہوئے اسے مخاطب کیا۔ مجھے کون نکالے گا؟ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھنے کی زحمت بھی گوارا نہ کی اور اپنے راستے پر چلتے چلتے بولا، اپنے بچنے نہ بچنے کا فیصلہ خود کرلو… میں نے بچنا تھا ، میں بچ گیا۔ اس ٹائپ کے لوگ سب کی زندگی میں آتے جاتے رہتے ہیں، ان سے کنارہ کشی کبھی نہیں کرنی چاہئے، یہ لوگ تو ہوتے ہیں ہم لوگوں کو اونچا اڑانے کیلئے۔ ٭٭٭٭٭ آج کے کالم میں آپ کو اپنے ایک ایسے دوست سے ملواتا ہوں ،جس کا تعلق دوستوں کی اس نسل سے ہے جو عمر بھر کڑی دھوپ میں آپ کا سایہ بنے رہتے ہیں، جن خوش قسمت لوگوں کو ایسے اچھے دوست مل جاتے ہیں وہ دنیا کے ہر دکھ، ہر مرض سے محفوظ رہتے ہیں، انہیں نہ کبھی کوئی بیماری لاحق ہوتی ہے اور نہ وہ کبھی کسی حکیم یا ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں، منیر چوہدری سے میری ملاقات انیس سو چھہتر کے آخری دنوں میں ہوئی تھی، اس کا اوکاڑہ میں ذاتی کاروبار تھا، وہاں سے وہ ایک بڑے اخبار سے بھی وابستہ تھا، پورے شہر میں اس کی عزت تھی ، احترام تھا، وہ فل ٹائم سماجی ورکر بھی تھا، گرایجویٹ تھا، بہت خوش لباس بھی، وہ کسی دنیاوی لت میں بھی مبتلا نہ تھا، مقامی پریس کلب کا صدر بھی منتخب ہوا، شادی شدہ تھا، گھریلو ذمہ داریاں بھی احسن طریقے سے نبھاتا دکھائی دیتا، 1977ء میں مارشل لاء نافذہوا تو مارشل لاء کی عملی سطح پر مخالفت میری اور اس کی دوستی کی سانجھ بنی، میں صحافیوں اور اخباری کارکنوں کی تنظیموں کا ممبر تھا اور وہ ممبر نہ ہونے کے باوجود لمحہ لمحہ میرے ساتھ کھڑا تھا اور دامے، درمے، سخنے آزادی صحافت کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا تھا، مجھے جیلوں میں جانے کی عادت ہوگئی تو اس نے ہر ممکن کوشش کی کہ وہ بھی جیلیں کاٹ کر آزادی جمہور کی لڑائی میں اپنا حصہ ڈالے، مگر میں اسے منع کر دیتا، مجھے جیل سے باہر کسی ایک شخص کی ضرورت تھی۔ ٭٭٭٭٭ 1980ء کے شروع ہونے میں تین چار ماہ باقی تھے، سینکڑوں دوسرے لوگوں کی طرح مجھے بھی بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، لیکن مجھ پر کوئی گھریلو یا ایسی سماجی ذمہ داریوں کا بوجھ بھی نہیں تھا، ایک وقت وہ آگیا کہ نہانے کیلئے صابن تک خریدنے کے پیسے نہ رہے، کوئی مہمان آنے کی صورت میں باورچی خانے میں بھی کچھ نہ ہو ، ہماری گلی میں پرچون کی دو چھوٹی چھوٹی دکانیں تھیں، میں نے چھوٹی چھوٹی ضرورت کی اشیاء ان دکانوں سے ادھار لینا شروع کر دیں، دو چار ہفتوں کے بعد مجھے اپنے بند ہوجانے والے اخبار سے تنخواہوں کے بقایاجات کی مد میں کچھ روپے ملے تو میں ادھار چکانے ان دکانداروں کے پا س گیا، پہلے دکاندار نے ادھار کا کھاتہ چیک کرکے بتایا کہ میں نے اس کا کوئی ادھار نہیں دینا، میرا حساب بیباک ہے، بات سمجھ میں نہ آئی، دو دن پہلے ہی میں نے اس دکان سے ادھار دال لی تھی، اب میں دوسری دکان کی جانب روانہ ہوا جو گلی کے اختتام پر تھی، وہاں سے بھی مجھے وہی جواب ملا جو پہلے دکاندار نے دیا تھا، یہاں میں اڑ گیا، آپ ٹھیک کہتے ہوں گے کہ میرا حساب بے باک ہے لیکن مجھے یہ تو بتا دیا جائے کہ حساب چکایا کس نے ؟ دکاندار میرے سوال کا جواب دینے سے کترا رہا تھا اور میں غصے کی حالت میں اپنے سوال کا جواب چاہ رہا تھا۔ بالآخر دکاندار بہت آہستگی سے بولا، آپ کا ایک دوست ہے جو ہر دوسرے دن محلے میں آتا ہے اور پوچھتا ہے کہ صاحب نے کسی کے پیسے تو نہیں دینے؟ یہ تھا منیر چوہدری جو مجھ سے بارہ تیرہ سال بڑا ہے، حج کر چکا ہے، لمبی داڑھی رکھی ہوئی ہے، ساری فیملی لاہور شفٹ ہو چکی ہے لیکن وہ اوکاڑے کو اس لئے نہیں چھوڑ رہا کہ وہ آج بھی مقامی لوگوں کی خدمت کے مشن پر ہے، اس نے جس میڈیا ہاؤس کی 37 سال خدمت کی‘ اسے وہاں سے ایک دانشور میاں بیوی نے نکلوا دیا ہے اور اپنے مسلک کے ایک آدمی کو وہاں رکھوا دیا ہے، یہ اس لئے ممکن ہوا کہ میں اس ادارے میں نہیں رہا تھا ورنہ کسی سیٹھ اور کسی سیٹھانی کی جرأت تھی کہ وہ منیر چوہدری کو اس کی ملازمت سے محروم کراتا، اسے جس ادارے سے میری دوستی کے الزام میں نکالا گیا وہاں اسے میں نے بھرتی نہیں کرایا تھا وہ پراسس کے تحت انٹرویو کے بعد سلیکٹ ہوا تھا۔ ٭٭٭٭٭ اب منیر چوہدری کا ایک اور واقعہ 2002ء میں پاکستان سے پہلے نجی نیوز چینل کا آغاز ہوا تو میرے سمیت دو درجن کے قریب صحافی ٹیلی صحافت کی چار ماہ کی ٹریننگ کیلئے کراچی گئے، جہاں دو سو سے زیادہ صحافیوں نے امریکہ سے آنے والے گوروں سے ٹریننگ لی تھی، لاہور سے جانے والے ہم سب دوستوں کو ایک ہی ہوٹل میں ایک ساتھ ٹھہرایا گیا تھا، ہمارے کراچی پہنچنے کے اگلے ہی دن منیر چوہدری بھی وہاں ہمارے پاس آ گیا، اس نے وہاں اپنے لئے اپنے پیسوں سے کمرہ بک کرایا اور پھر اس نے وہ فرائض انجام دینا شروع کر دیے جو اس نے اپنے لئے خود تفویض کئے تھے، وہ روزانہ ہمارے کلاسز اٹینڈ کرنے کیلئے روانگی سے پہلے ہم سب کو حلوہ پوڑی، نان ،چنے، یا سری پائے کا ناشتہ کراتا، وہ ہم سب کی جرابیں دھوتا، جوتے پالش کرتا، اور ہماری لباس دھلوا کر یا استری کراکے لاتا اور ہمیں ہماری مرضی کے کھانے بھی کھلاتا… اللہ سب کو منیر چوہدری جیسے عظیم دوستوں سے نوازے اور اسے دوستیاں نبھانے کیلئے طویل عمر عطا فرمائے۔ آمین ۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker