خاور نعیم ہاشمیکالملکھاری

حکومت بدلی ہے نظام نہیں۔۔خاور نعیم ہاشمی

جب کراچی میں ستر کلفٹن سے چند گز دور مرتضی بھٹو کو قتل کیا گیا اوربی بی نے جو اس وقت وزیر اعظم تھیں سرکاری ٹی وی پر خطاب کیا اور بے ساختہ آنسو بہائے تو اس پر میں نے اپنے تحفظات سے انہیں واشگاف الفاظ میں آگاہ کیا تھا، میرا موقف یہ تھا کہ آپ کا بھائی آپ کی وزارت عظمیٰ میں پراسرار طور پر قتل ہوا آپ کو سرکاری ٹی وی پر جانے کی بجائے وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہوجانا چاہئے تھا، یہ بی بی کا آخری دور حکومت تھا، اس کے بعد بی بی کو کرپشن اور دیگر الزامات میں وزارت عظمیٰ سے فارغ کیا گیا۔ میں تین چار اور سینئر دوستوں کے ہمراہ اسلام آباد میں بی بی کے گھر پہنچا، دوپہر کا وقت تھا، ابھی بات چیت شروع ہی ہوئی تھی کہ بی بی کے بچے اسکول سے واپس آگئے، بی بی معذرت کرکے اٹھیں اور بچوں کے لباس تبدیل کرانے اور انہیں کھانا کھلانے میں مصروف ہو گئیں، اس کام میں زیادہ سے زیادہ تیس منٹ صرف ہوئے تھے، انہوں نے ایک بار پھر معذرت کی اور گفتگو دوبارہ شروع ہو گئی، اسی دوران ننھا بلاول ماں کی گود میں آ گیا، بی بی نے بلاول کو پیار کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ بلاول کہتا ہے کہ وہ بڑا ہو کر جرنیل بنے گا، جب میں پوچھتی ہوں کہ کیوں؟ تو کہتا ہے جرنیل سیاستدانوں سے زیادہ پاور فل ہوتا ہے،،،بینظیر شہید نے اس دن ہمیں بہت کچھ بتایا ،ایسی باتیں بھی کیں جو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا، وہ ایک انگلی اٹھا کر کہہ رہی تھیں کہ مجھے واش روم جانے کیلئے بھی ان کی اجازت درکار ہوتی تھی، انکی گفتگو کا لب لباب یہ تھا کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے وزیراعظم کو ریاستی اداروں کے سامنے سر نگوں رہنا پڑتا ہے، یہاں وزیر اعظم ہاﺅس میں وزیر اعظم کی حیثیت ایک قیدی سے زیادہ نہیں ہوتی، یہ تمہید میں نے یہاں اس بے بنیاد خدشے کے پیش نظر باندھی ہے کہ کہیں آج کا پاپولر وزیر اعظم آجکل قیدی تو نہیں، یقینا نہیں ہوگا، کیونکہ فواد چوہدری ایک سے زیادہ مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ جتنے اچھے اور پائیدار تعلقات عمران خان کی حکومت اور فوج کے درمیان ہیں ویسے تعلقات ماضی میں کبھی حکومت کے ساتھ نہیں رہے، یہ ایک حقیقت بھی ہے اور کھلا سچ بھی۔ فواد چوہدری کو ہم پچھلے چھ ماہ سے اپوزیشن کی زبان بولتے ہوئے دیکھ رہے تھے، جن جن جماعتوں اور سیاستدانوں پر وہ برسوں سے جو جو الزامات لگا رہے تھے، اقتدار میں آنے کے بعد بھی انہوں نے وہی پرانی ڈیوٹی سنبھالے رکھی، ہم لوگ کہتے تھے ، بھائی آپ لوگ اقتدار میں آ چکے ہو اب کچھ کرکے دکھاﺅ، کرپٹ سیاستدانوں کے فیصلے اب عدالتوں پر چھوڑ دو، مگر انہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی تھی، لیجئے، اب کفر ٹوٹا ہے خدا خدا کرکے، جمعرات کو پہلی بار انہوں نے ایک با اختیاراور با وقار وزیر کے طور پر گفتگو کی۔ انہوں نے اپنی حکومت کے ابتدائی چھ ماہ کی ناکامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ جو مڈل کلاس یعنی سفید پوش طبقہ انہیں اقتدار میں لایا وہ ان کیلئے کچھ نہیں کر سکے الٹا تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس لگ گیا ہے اور ہم خراب معاشی صورتحال کے باعث ابھی تک ان کیلئے کچھ نہیں کر سکے۔ ابھی اقتدار بدلا ہے نظام نہیں بدلا، مالی مسائل نے ہمارے ہاتھ باندھ رکھے ہیں۔
٭٭٭٭٭ اب تھوڑی سی بات ہوجائے عمران خان کے قریب ترین ساتھی اور پنجاب کے سینئر وزیر علیم خان کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری کی، سب لوگ ایک ہی خیال ظاہر کر رہے تھے کہ علیم خان کو دکھاوے کے لئے پکڑا گیا ہے، اس گرفتاری کا مقصد اپوزیشن کے بڑے بڑے ناموں کو گرفتار کرنا ہے، میں یہ تھیوری نہیں مانتا، ہاں، میں یہ ضرور مان لوں گا کہ عمران خان علیم خان کی گرفتاری سے لاعلم تھے اور انہیں علیم خان کے پکڑے جانے کا علم ان کے گرفتار ہوجانے کے بعد ہوا، علیم خان پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے سب سے مضبوط امیدوار تھے، ان کی اس خواہش کے سامنے جہانگیر ترین ایک مضبوط دیوار تھے، جنوبی صوبہ پنجاب اگر معرض وجود میں آ جاتا تو پھر علیم خان جہانگیر ترین سے ٹکرا جاتے، علیم خان نے پی ٹی آئی کی کامیابی اور حکومت سازی میں بے دریغ پیسہ بہایا، مگر کیا کیجئے کہ عمران خان سمیت موجودہ حکومت کا ایک آدمی بھی سیاست کے اسرار و رموز سے واقف نہیں، سوائے پرویز الٰہی اور چوہدری سرور کے، علیم خان پر کرپشن اور آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کے کئی الزامات کی اسی طرح تفتیش ہوگی، جیسے حمزہ شہباز، ان کے والد اور ان کے تایا سے کی گئی، اس تفتیش کی کہانیاں اسی طرح میڈیا میں آئیں گی جیسے دوسروں کی آئیں، ان کے خلاف تو یہ ایک الزام بھی بہت ہے کہ ان کے اثاثہ جات میں صرف ایک سال میں اکتالیس کروڑ روپے کا اضافہ ہوا، حالانکہ یہ وہ سال تھا جب وہ کمائی نہیں سیاست میں انوسٹمنٹ کر رہے تھے، ہاں! ایک بات اور یاد رکھی جائے، عمران خان عام انتخابات میں مطلوبہ نشستیں حاصل نہ کرنے کے بعد کھلا اشارہ دے چکے ہیں کہ انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم میں گھپلے ہوئے ہیں اور وہ ان معاملات کی تحقیقات کرائیں گے، یہ گرفتاری بھی اسی پس منظر میں ہو سکتی ہے۔
٭٭٭٭٭ اب مکالمہ عمران خان صاحب سے۔۔۔۔ جناب وزیر اعظم صاحب جس دن سانحہ ساہیوال وقوع پذیر ہوا، اس دن آپ بیرونی دورے پر روانہ ہو رہے تھے، آپ نے فرمایا تھا کہ اس واقعہ پر ان کا دل دکھی ہے، واپس وطن آ کر آپ خود اس سانحہ کی تحقیقات کی نگرانی کریں گے، آپ واپس آ گئے تو آپ کا دکھی دل کیوں اس دکھ سے آزاد ہوگیا؟ سانحہ ساہیوال پر کئی تحقیقاتی رپورٹیں سامنے آ چکی ہیں، پولیس کے سارے جھوٹ بے نقاب ہو چکے ہیں، یہاں تک کہ فرانزک رپورٹ نے بھی ثابت کر دیا ہے کہ مقتولین کی کار سے پولیس پر ایک بھی گولی نہیں چلائی گئی تھی، پولیس کی کار کو جو چھ گولیاں لگی تھیں وہ بھی سرکاری اسلحہ سے چلائی گئی تھیں، دو عورتوں سمیت چار بے گناہوں کو قتل کرکے ان کی لاشیں تھانے میں پہنچائی گئی تھیں تاکہ انہیں دہشت گرد قرار دیا جا سکے، پھر تھانے اور اسپتال کے سی سی ٹی وی کیمرے بھی خراب کر دیے گئے تھے، ڈرائیور ذیشان کو ہزار کوششوں کے باوجود دہشت گرد ثابت نہ کیا جا سکا،سانحہ کے تمام شواہد ضائع کئے جا چکے ہیں، مقتول خلیل اور ذیشان کے خاندان اب خود خطرے میں دکھائی دے رہے ہیں، اب تو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو بھی یہ ریمارکس دینا پڑ رہے ہیں کہ سانحہ ساہیوال کے ریکارڈ میں ٹمپرنگ کی گئی تو سارے پولیس افسر جیل میں ہونگے، جس ایس پی نے فائرنگ کا حکم دیا تھا وہ آزاد گھوم رہا ہے، پولیس کے خلاف جو ایف آئی آر کاٹی گئی وہ ابھی تک بے نامی ہے،جن چار لوگوں کو درجنوں گولیاں ماری گئیں ان کے خلاف جو ایف آئی آر کاٹی گئی وہ بھی اب تک موجود ہے، جے آئی ٹی مقتولین کے لواحقین سے کہہ رہی ہے کہ قتل کئے جانے والوں کے خلاف ایف آئی آر ختم نہیں کی جائے گی، پنجاب حکومت بھی ملزم پولیس اہلکاروں کی پشت پناہی کرتی دکھائی دے رہی ہے، عدالتیں یہ کہنے پر مجبور ہو گئی ہیں کہ اس معاملے پر عدالتی کمیشن بنانے کا حکم دیا جا سکتاہے۔ جناب وزیر اعظم! آپ کہاں کھڑے ہیں؟ کیا ہم یہ تصور کر لیں کہ آپ بھی ایک پولیس اسٹیٹ کے سربراہ ہیں اور سب ٹھیک چل رہا ہے؟ عمران خان صاحب اس قوم نے ستر سالہ دو جماعتی نظام کو پاش پاش کرکے آپ کو اقتدار کی مسند پر بٹھایا ، اگر آپ بھی موجودہ نظام کی چھتری تلے بیٹھ گئے تو پھر اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔
٭٭٭٭٭ میں نے اپنے پچھلے کالم میں اداکارہ روحی بانو کی ترکی کے کسی اسپتال میں موت کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا تھا اور خدشہ ظاہر کیا تھا کہ وہ لاہور میں ہی مری یا مار دی گئی؟ وجہ اس کی جائیداد پر قبضہ کرنا ہو سکتی ہے، روحی بانو ایک چلتی پھرتی نعش تھی اور لاشوں کا علاج نہیں ہوا کرتا، اگر کوئی اسے ایک مہنگے ملک میں لے بھی گیا تھا تو وہ اس کی نعش لے کر واپس کیوں نہ آیا اور اگر روحی بانو کی مشتبہ بہن نے حکومت سے اسکی نعش واپس لانے کی درخواست کی تھی تو اس پر کیا کارروائی کی گئی، ہمیں ہمارے سوالوں کے تسلی بخش جواب نہ ملے تو ہم خود روحی بانو کی نعش کو تلاش کرکے دکھائیں گے۔
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker