خاور نعیم ہاشمیکالملکھاری

دو واقعات اور میری کم علمیت۔۔خاور نعیم ہاشمی

آئینی اور قانونی ماہر ہونا تو بہت دور کی بات، میں کسی ایک فن میں بھی مہارت نہیں رکھتا،تمام عمر اسی کام میں گزری ہے کہ کوئی خبر آپ کے پاس آئے تو پہلے اس کی اچھی طرح تصدیق کریں اور اس کے بعد اسے بر وقت مشتہرکر دیں، اگر کسی خبر کو عام کرنے میں تاخیر کریں گے تو آپ جرم کریں گے، جو خبریں بر وقت لوگوں تک نہیں پہنچتیں وہ خبریں نہیں رہتیں تاریخ بن جاتی ہیں ،،آج ہم آپ کے سامنے دو واقعات رکھیں گے کہانیوں کی صورت میں، اور اس سے پہلے بات کریں گے آئین کے آرٹیکل 62ون ایف پر، اسی آرٹیکل کے تحت نواز شریف اور جہانگیر ترین کو عمر بھر کے لئے نا اہل قرار دیا گیا اور فیصلے میں کہا گیا کہ یہ تمام عمر کسی عوامی عہدہ پر فائز نہیں ہوسکیں گے، یاد رہے کہ آرٹیکل آئین یاقانون کے کسی اصول کو کہا جاتا ہے، بالآخر عدالت عظمی کے پانچ رکنی بنچ نے اس اصول کی وضاحت متفقہ طور پر کر دی ، فیصلے میں کہا گیا کہ جو صادق اور امین نہیں وہ عمر بھر کے لئے الیکشن لڑنے اور کسی عوامی عہدہ پر فائز رہنے کا اہل نہیں۔ ٭٭٭٭٭ 2013ء کے انتخابی نتائج کے خلاف عمران خان نے2014ء میں اسلام آباد کے ڈی چوک میں دھرنا دیا تھا جو مسلسل چار مہینے جاری رہا، پاکستان تحریک انصاف کے جو لوگ اس الیکشن میں کامیاب ہوئے تھے وہ بھی ان دھرنے میں کپتان کے شانہ بشانہ تھے، مثلاً موجودہ صدر پاکستان عارف علوی کا بھی اس احتجاج میں کلیدی کردار تھا، چونکہ تحریک انصاف والے 2013ء کے انتخابی نتائج کو ہی تسلیم نہیں کرتے تھے لہذا ان کا اسمبلی کے اجلاسوں میں جانے اور اپنی تنخواہیں وصول کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ، پی ٹی آئی کے کپتان عمران خان سمیت سب کا متفقہ فیصلہ تھا کہ جب وہ اسمبلی کو مانتے ہی نہیں تو تنخواہ کیوں وصول کی جائے لیکن دھرنا کے خاتمے کے بعد پی ٹی آئی کے منتخب ارکان اسمبلی نے ایک جانب تو اسپیکر کو اپنے استعفے بھجوا رکھے تھے، دوسری طرف انہوں نے اپنی پچھلی تنخواہیں وصول کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا، عارف علوی صاحب نے اس فیصلے سے اختلاف تو نہ کیا البتہ یہ اعلان ضرور کر دیا کہ وہ اپنی تمام تنخواہوں کی رقم شوکت خانم میموریل اسپتال کو ڈونیٹ کر دیں گے، اب انہیں صدر مملکت منتخب ہوئے بھی نو ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے، اسپتال کا ڈونیشنز وصول کرنے والا عملہ انہیں ریمائنڈر پہ ریمائنڈر بھی دے چکا ہے لیکن تا دم تحریر وہ وصول کردہ تنخواہوں کی رقم انتظامیہ کو موصول نہیں ہوئی، یہ ہماری طرف سے بھی ایک ریمائنڈر ہی ہے، انسان پر جب بھاری ذمہ داریاں پڑتی ہیں تو بہت سارے کام اور بہت ساری باتیں بھول بھی جاتی ہیں۔ ٭٭٭٭٭ سیال کوٹ میں پاکستان تحریک انصاف کا ایک بڑا جلسہ جاری تھا، عمران خان مہمان خصوصی تھے، جب پارٹی کے نوجوان لیڈر عثمان ڈار کا خطاب شروع ہوا تو انہوں نے شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال کے لئے دس لاکھ روپے کی ڈونیشن کا اعلان کر دیا، وہاں پنڈال میں پیپلز پارٹی کو الوداع کہہ کر پی ٹی آئی کو جوائن کرنے والی ایک معروف خاتون سیاستدان بھی تشریف فرما تھیں، عثمان ڈار کے دس لاکھ کے اعلان پر اس خاتون راہنماء نے بھی اسپتال کیلئے دس لاکھ کے عطیہ کی آواز لگا دی، عثمان ڈار نے ایک نظر اس خاتون پر دوڑائی اور نیا اعلان کر دیا،، میری جانب سے اسپتال کے لئے بیس لاکھ کا عطیہ۔۔۔۔ خاتون بھی کہاں پیچھے ہٹنے والی تھیں، انہوں نے بھی دو ملین کی صدا لگا دی، اس واقعہ کو ایک عرصہ گزر چکا ہے ، عثمان ڈار نے تو اسپتال کو بیس لاکھ کا چیک بھجوا دیا تھا، اس خاتون کے عطیہ کا ہنوز انتظار ہے، اب جبکہ وہی خاتون الیکشن ہار جانے کے باوجود ایک اہم ترین حکومتی عہدے پر براجمان ہیں، انہیں بھی ہم ریمائنڈر ہی دے سکتے ہیں۔ چلیں آج پھر ایک اور صحافی دوست سے آپ کو ملواتا ہوں ، مرحوم سہیل ظفر بہت سینئر تھا مجھ سے ، میں اگر اس سے کہیں جیت سکتا تھا تو وہ میدان تھا یاوا گوئی اور پنگے بازی کا، اس کے چہرے پر مسکراہٹ ہر لمحے سجی رہتی تھی لگتا تھا جیسے دکھ اس سے کوسوں دور رہتے ہیں، سہیل ظفر سے میری پہلی ملاقات ستر کی دہائی کے وسط میں ہوئی تھی، وہ ہمارے ایڈیٹر کے یاران خاص میں شامل تھا ، اس گروپ میں خالد چوہدری، انور شاہد، شیخ مظفر، نوید بٹ،بابا چشتی ، مولوی سعید اظہر اور کچھ اور سینئرز بھی ہوا کرتے تھے، میں کم عمری کے باعث اس گروپ کے نجی شب و روز میں شامل نہ تھا، لیکن میں اور سہیل ظفر بے تکلف ہو گئے تھے، دوسری ملاقات میں سہیل ظفر نے مجھے وزنی گالی سے مخاطب کیا تو اچھا لگا، اس کے اس طرز تخاطب کا مطلب تھا کہ وہ میرا دوست بن چکا ہے، اندھا کیا مانگے کے مصداق مجھے ایک اور ایسا دوست مل گیا جس کے ساتھ بے تکی گفتگو ہو سکتی ہو، ، سہیل ظفر تھا بہت وجیہہ اور خوش لباس ۔۔۔ وہ شام کو پی ٹی وی پر کرنٹ افئیرز کا پروگرام کرتا تو ایک بدلا ہوا شخص نظر آتا، مکمل سنجیدہ اور حالات حاضرہ سے مکمل آگاہ دانشور جسے عالمی امور پر بھی پورا عبورحاصل ہو، انیس سو ستتر میں میں مارشل لا ء کی ضیاء الحقی ہوئی تو سب اتھل پتھل ہو گیا، حالات کی سنگینیوں سے باہر نکلنے کے لئے ہم نے کبھی کبھار دوستوں کی گٹ ٹو گیدر شروع کر دی، ایسی محفلوں کی رونق ہوا کرتا ہمیشہ سہیل ظفر،، ، ایک بار شاہد محمود ندیم اپنی اہلیہ مدیحہ گوہر کے ساتھ ہماری ایک دعوت میں آئے تو بہت حیران تھے کہ ہم لوگ مارشل لاء کی سختیاں بھی جھیل رہے ہیں اورمعمول کی زندگی بھی گزار رہے ہیں ، میں نے کہا کہ ہم تو جیلوں اور عقوبت خانوں میں بھی میلے لگا لیتے ہیں، جیسے شاہی قلعہ اور لال قلعہ میں رات کو جب ایجنسیوں کے لوگ اپنے اپنے گھروں میں چلے جاتے اور نگرانی کے لئے صرف پولیس والے باقی رہ جاتے تو ہم سب ضمیر کے قیدی اپنی اپنی کوٹھریوں سے محفل موسیقی شروع کر دیتے، جب میری باری آتی تو مجھے یہ گیت گانا بہت اچھا لگتا تھا۔ رات بھر کا ہے مہماں اندھیرا، کس کے روکے رکا ہے سویرا۔۔۔۔۔ ایک بار میں حیدر آباد جیل کی یاترا سے واپس لاہور پہنچا تو کامریڈز نے ایک محفل موسیقی رکھ لی، سہیل ظفر بھی مدعو تھا، وہ مکمل موڈ میں تھا،کسی کو بات نہیں کرنے دے رہاتھا، سب تنگ آ گئے اس سے، سارے حربے آزمائے گئے، مگر بے سود، قریب ہی جواد نظیر کا گھر تھا، ہم لوگ اسے بہانے سے اس گھر میں لے گئے , ایک کمرے میں بٹھایا اور باہر سے تالہ لگا دیا، جب ہم واپس پارٹی میں لوٹے تو وہ وہاں ہم سے پہلے پھر موجود تھا، یہ معمہ آج تک نہیں حل ہو سکا کہ وہ بند گھر سے نکلا کیسے ؟ اس پارٹی کے شرکاء آج بھی ملتے ہیں تو ایک دوسرے سے یہ سوال ضرور کرتے ہیں۔۔۔ ایک بار وہ گھر واپسی کے لئے اپنی گاڑی ریورس کر رہا تھا، آگے پیچھے بھی گاڑیاں کھڑی تھیں، جب کافی دیر تک وہ کامیاب نہ ہوا تو قریب کھڑے تین چار لڑکوں سے کہنے لگا,, کیا تم میری ہیلپ کرو گے؟ ایک لڑکے نے کہا ،،، ہم گاڑی ریورس ہی نہیں کرینگے آپ کو آپ کے گھر بھی چھوڑ آئیں گے، اگر آپ واپسی کے لئے ہمیں ٹیکسی کا کرایہ دیں،،،، سھیل ظفر مان گیا، ایک لڑکا ڈرائیو کرنے لگا، اس کے ساتھ سھیل ظفر بیٹھا اور عقبی نشست پر دوسرے دو لڑکے تھے ، سہیل ظفر پورے راستے ان بچوں کی تعریفیں کرتا رہا، ہیلپ کرنے پر انہیں شاباش دیتا رہا، تحائف دینے کے وعدے وعید بھی کئے جب گاڑی سھیل ظفر کے گھر کے دروازے پر رکی، پہلے وہ اور پھر لڑکے گاڑی سے نیچے اترے، اب سھیل ظفر نے انہیں واپسی کا کرایہ اور انعام و اکرام دینا تھا مگر یہ کیا ؟ سہیل ظفر نے شور مچا دیا، ڈاکو، ڈاکو، ڈاکو، بچاؤ بچاؤ۔ اور لڑکوں نے خوفزدہ ہو کر وہاں سے دوڑ لگا دی۔ میں نے اس واقعہ کی بابت اس سے دریافت کیا تو جواب ملا،،،،، جیب خالی تھی اور کیا کرتا ؟
(بشکریہ: روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker