لاہور : پنجاب حکومت نے 8 مئی سے صوبے میں مکمل لاک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا۔ لاک ڈاؤن کا فیصلہ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا۔
لاک ڈاؤن کے دوران صوبے میں نقل وحرکت محدود کرنے کیلئے ہر قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ اور سیاحتی مقامات، بند رہیں گے۔ شہروں کے داخلی اور خارجی راستوں پر چیک پوائنٹس قائم کیے جائیں گے، ان چیک پوائنٹس پر پولیس، رینجرز اور فوج تعینات کی جائے گی۔ وزیرصحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھاکہ کورونا وباء پر قابو پانے کیلئے اگلے 15 سے 20 دن نہایت اہم ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کہ کہ کورونا پر قابو پانے کیلئے حکومتی کوششوں کا ساتھ دیں اور عید سادگی سے منائیں، احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔ دوسری جانب چیف سیکرٹری پنجاب نے ہدایت کی کہ عید کی چھٹیوں کے دوران پارکس اور دیگر سیاحتی مقامات کو مکمل بند رکھا جائے۔
پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران چار ہزار سے زیادہ افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ 119 افراد اس وائرس کے باعث ہلاک بھی ہوئے ہیں۔ خیال رہے کہ تین اپریل کو ملک میں پہلی مرتبہ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد کو ویکسین لگائی گئی تھی۔ اس وقت ملک میں ویکسینیشن کا عمل جاری ہے اور 40 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو ویکسین لگائی جا رہی ہے۔
فیس بک کمینٹ

