ایم ایم ادیبکالملکھاری

بے خبر آدمی ۔۔ ایم ایم ادیب

یہ نہیں کہ وہ آخری یا حتمی سچ ہے ۔مگر وہ پہلا سچ تو ہے ہی ،جو پتھروں کے شہر میں آئینے بانٹنے کی جستجوئے پیہم میں جتاہے۔
اور یہ بھی ایک روز روشن کی طرح حقیقت ہے کہ اسے اپنوں کے ہوتے ہوئے دشمنوں کی ضرورت نہیں ہے ،وہ جو اس کے گرد سازشوں کے حصار کھڑے کر رہے ہیں اور وہ ان سب سے بے خبر ہے ،اقتدار کے ایوانوں ہی میں کیا ،شہروں،شہروں ہی نہیں گلی کوچوں میں بھی نفرت کے سانپ شوکتے پھرتے ہیں ۔پھنکارتے پھرتے ہیں ،مگر وہ بے خبر ہے،ان سانپوں کا خو ف ہر سُو پھیل رہا ہے ،نوکر شاہی اس کی دشمن، سیاستداس کی جان کے درپے،سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا اس کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوارااور وہ بے خبر ہے!
لگتاہے وہ اس خیال میں ہے کہ کوئی ماورائی قوتیں اس کی نگرانی پر مامور ہیں ،اس کے سر پر کوئی غیر مرئی دستِ شفقت ہے جو اسے بچا لینے کے لئے کافی ہے ،جو اس کے راستے کی سب دیواروں کو منہدم کر دیگا، اس کے گرد پتھر تانے ایستادہ
طاقتوں کو پل بھر میں تہس نہس کر کے رکھ دیگا ۔
ایسا نہیں ہے وزیر اعظم عمران خان صاحب ! ایسا ہر گز اور مطلق نہیں ہے ،جنہیں آپ اپنا خیر خواہ گردانتے ہیں وہی آپ کے درپے آزار ہیں ۔
یہ ٹھیک کہ کاغذ کی تلواریں کسی کو چرکا نہیں لگا سکتیں؟
زہر اگلتے قلم اور نفرتیں بکھیرتے لفظ ان زخموں کو کرید رہے ہیں جو آپ کے لگائے ہوئے نہیں مگر آپ کے نامہ اعمال میں ڈالنے کی سعی ہو رہی ہے ،سو دنوں میں کے دن باقی رہ گئے ہیں ؟ جس فصل کے بونے کا آپ نے عزم باندھا تھا وہ” کوڑھ کی کاشت “ کا روپ دھارتی جا رہی ہے ۔
اس دھرتی کے افتادگانِ خاک نے ایک بار ذوالفقار علی بھٹو سے آس لگائی تھی ،انہوں نے جس انقلاب کا وعدہ کیا تھا اسے ادھورا چھوڑ دیا اور ادھورے انقلاب نے بدلے میں ان کی جان لے لی،آپ بھٹو تو نہیں بن سکتے ،مگر انقلاب
اپنے اصول پر سمجھوتہ نہیں کرتا،بھٹو شہید کے نظریئے میں وسعت تھی ،ان کے نامہ اعمال میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا کانامہ تھا ،اس لئے وہ تاریخ میں زندہ و تابندہ ہوگئے ،آپ کے پاس ایسا کوئی کارنامہ نہیں ،آپ نے تاریخ میں زندہ رہنا ہے تو مفلسوں اورناداروں کا ہاتھ تھام لیں ان کے بازو مضبوطی سے پکڑ لیں جن کی کٹڑیوں کو اعظم سواتیوں سے خطرہ ہے ،جو ترقیاتی اداروں کی دیوہیکل مشینوں سے لرزیدہ ہیں ،جو ان کے سروں کی چھتیں زمیں بوس کر رہی ہیں ،جو ان کی جواں سال بیٹیوں کے سر ننگے کرنے ان کے باپوں کے بھرم کھولنے پر مصر ہیں۔انسانیت کی تذلیل کا یہ باب کب تک کھلا رہے گا ؟کب تک تنگ گھروں میں سسکیاں گھٹگھٹ کے مرتی رہیں گی؟ کتنی آہوں سے چرخِ پیر کا کلیجہ ٹھنڈا ہوگا؟کون ان کا پرسانِ حال بنے گا ،جو خود کو قسمت کے مارے کہتے ہیں ،بدنصیب و بے کس گردانتے ہیں ، ، جن کے خواب کل بھی تشنہءتعبیر تھے وہ آج بھی اُسی ڈھب سے جی رہے ہیں ،غربت کے سیاہ بادل
ان کے سروں سے چھٹے ہی نہیں ،عام آدی کے جینے کی راہ میں جو کانٹے بچھے تھے انہیں سمیٹنے کی کو ئی کوشش نہیں کی جارہی، سپر سٹورز کے تھڑے پھر سے تعمیر ہوگئے ہیں ،غربا سرکنڈوں کی چھت بنانے سے محروم ٹھہرے کہ کچی اینٹوں کے بھاﺅ آسمان سے باتیں کررہے ہیں ،پھر انہیں تعمیرِ نو کی اجازت ہی کون دیتا ہے ،ان کے پاس تو آپ کے پورٹل پر شکایت لکھوانے کے پیسے بھی نہیں ہیں ،یہ بے وسیلہ لوگ کس سے منصفی مانگیں ؟ کیا انہیں اب بھی آنکھوں پر پٹیاں اور کانوں میں انگلیاں ڈالکر جینا ہے ؟اگر یونہی جینا تھا تو تبدیلی کے خواب کی انگلی کیوں تھمائی تھی،سوئے ہوئے زخموں کو کیوں جگایا گیا ،من مار کر زندگی کرنے والوں کو سراغ زندگی کا سپناکیوں دکھایا؟ حقائق کو حقائق کے ترازو میں تولاجانا چاہیئے ،خوابوں کے ترازو میں میں تول کر تعبیر کی امید کرنا حماقت ہے،حماقت۔
تم غربت کی لکیر نہیں مٹا سکتے نہ مٹاﺅ،مگر غریبوں سے ان کے جینے کا حق تو نہ چھینو،اسی طرح بے خبر رہ کر امور مملکت چلائیں گے تو بے اثر ہوجائیں گے ،
بے خبر آدمی بے اثر ہوتا ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker