تحریک انصاف پاکستان کی سیاست میں ایک ایسا نام ہے جو دو دہائیوں کی سیاسی جدو جہد ،ایک کرکٹ کے ہیرو کی طلسماتی قیادت ، تبدیلی اور سستے انصاف کے نعرے پر وجود میں آئی تاہم 9 مئی 2023ء کے واقعات اور ان کے بعد کے سیاسی حالات کے حوالے سے ریاستی ردعمل نے اس جماعت کی یکجہتی ،بقا اور سیاسی مستقبل پر متعدد سوالات کھڑے کر دیئے ۔تب سے اب تک واقفان سیاست کے اذہان میں ایک ہی سوال گونج رہا ہے کہ” کیا پی ٹی آئی بکھر پائے گی ؟ ”
پی ٹی آئی کا نظریاتی اثاثہ اورسیاسی بیانیہ فقط بد عنوانی کی سیاست، اسٹیٹسکو کو ریزہ ریزہ کرنے اور ادارہ جاتی شفافیت کا قیام تھا ۔عمران خان کی شخصیت اس بیانیئے کا مرکز و محور تھی۔مگر جب ریاستی اداروں کا اس پر سے اعتماد اٹھ گیا اور مقتدرہ نےاس کی پیٹھ پر سے ہاتھ اٹھا لیااور اس پر قومی املاک پر حملوں کا الزام عائد ہوا تو وہی قوتیں جو اس کے سیاسی عروجمیں ممد تھیں اس کے زوال کے اسباب کا پیش خیمہ بن گئیں ۔پاکستان میں نظریاتی جماعتیں شخصیات کے کرشماتی تاثر کی اسیر رہی ہیں ۔پی ٹی آئی کےحوالے سے یہ تاثر اور رجحان اور بھی زیادہ نمایاں رہا۔عمران خان کے بغیر پی ٹی آئی کا سیاسی وجود محض ایک ” برینڈ نیم ” کے سوا کچھ نہ تھا۔9 مئی کے بعد پارٹی کے اندر تنظیمی ڈھانچے کے حوالے سے انحرافات پیدا ہو گئے ،قیادت کے اندر پھوٹ پڑ گئی۔صف اول کےرہنما قید و بند کی صعوبتوں کا شکار ہوئے ،ان میں سے کئی سیاست سے کنارہ کش ہوگئے ،کچھ نے نئے سیاسی دھڑے بنا لئے (استحکام پاکستان پارٹی ) وغیرہ اور بعض نے خاموشی اوڑھ لی ۔پارٹی تنظیم کا شیرازہ بکھر گیا۔آج 2024ء اور 2025ء کی سیاسی صورت حال میں پی ٹی آئی کے لئے میڈیا کھلی سپورٹ سے عاجز ہے ،الیکشن کمیشن کا رویہ بھی جارحانہ ہےان سب پر مستزاد پارٹی کی اندرونی سازشوں نے پارٹی کی بقا کو سوالیہ نشان بنایا ہوا ہے۔بانی پارٹی پر درجنوں مقدمات چل رہے ہیں جن میں سے متعدد میں سزائیں بھی سنائی جا چکی ہیں ۔وہ طویل عرصے سے پابند سلاسل ہیں ۔قانونی شکنجے نے پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں کو عملا محدود رکھا ہوا ہے اور اندیشہ یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو نااہل قرار دے دیا گیا ،یا ان پر سیاست سے مستقل دست برداری نافذ کر دی گئی تو پارٹی اپنی اصل روح سے محروم ہوجائے گی۔اس حقیقت سے انحراف نہیں کیا جاسکتا کہ پی ٹی آئی آج بھی ایک بڑی عوامی حمایت کی حامل ہے ،خصوصا نوجوانوں، مستورات ،شہری طبقات اور سوشل میڈیا صارفین میں بہت گہری جڑیں رکھتی ہے ۔2024ء 25 کے تمام سروے میں واشگاف الفاظ میں اس امر کا اعادہ کیا جاتا ہے کہ ” عمران خان اب بھی مقبول ترین عوامی لیڈر کے طور پر پہچانےجاتے ہیں "۔اور یہی عوامی طاقت ہی ہے جس نے پی ٹی آئی
کو مکمل طور پر بکھر جانے سے بچایا ہوا ہے ۔
مستقبل کے متوقع امکانات کا جائزہ لیا جائے تو تین ہی صورتیں ہو سکتی ہیں ۔اول عدالتوں کے ذریعے بحالی کا راستہ ہموار ہوجائے ۔بانی پارٹی کسی سیاسی مفاہمت کے ذریعے باہر آئیں اور پارٹی کے شیرازے کو پھر سے سمیٹ لیں۔دوم ۔پارٹی متعدد دھڑوں میں تقسیم ہوجائے” نئی اسٹیبلشمنٹ پی ٹی آئی ” نظریاتی گروپ ٹھہرے اورسوئم ۔یہ کہ پارٹی کو قانونی طور پر کا لعدم قرار دے دیا جائے(کسی امکانی صورت حال کے پیش نظر اور کارکن کسی اور پرچم تلے یک جا ہو جائیں(جس کا امکان کم ہے )۔9 مئی کے واقعے کے بعد تنظیمی
اعتبار سے پی ٹی آئی منتشر ہوچکی ہے ۔فواد چوہدری، اسد عمر،علیم خان اورجہانگیر ترین تو راستے تبدیل کر چکے ۔ان میں سے کچھ نے مصلحت اوڑھ لی ہے تو کوئی خود ساختہ جلاوطنی کے وبال سے دوچار ہے اور شاہ محمود قریشی جیسا معتدل مزاج سیاستدان اپنے پورے خاندان سمیت پارٹی قیادت کے ساتھ حکومت کے غیر اخلاقی ہتھکنڈوں کی زد میں ہے۔ماضی پر نگاہ دوڑائیں تو 1971ء کے بعد مسلم لیگ مشرقی پاکستان میں ریزہ ریزہ ہوکر دفن ہوگئی،اور پیپلز پارٹی 2008ء کے بعد کئی ٹکڑوں میں بٹ گئی،ایسے میں پی ٹی آئی کا بکھرائو یا ریزگی خارج از امکان یا انہونی بات نہیں ہوگی۔قانونی دبائو کا عالم یہ ہے کہ پارٹی کو یکے بعد دیگرے بہت سارے مقدمات کا سامنا ہے ۔سائیفر کیس،توشہ خانہ ،غیر قانونی نکاح اور ریاستی راز افشا کر نے جیسے الزامات نے نہ صرف کپتان کو بلکہ پوری پارٹی کی نقل وحرکت کو محدود اور دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہوا ہے۔سیاسی موئرخ عارف وقار لکھتے ہیں ” قانونی گرفت ،سیاسی طور پر موئثر ہونے کا یہی مہذب راستہ ہے ،پاکستان میں طاقت کا کھیل عدالتوں کے پردے میں کھیلا جاتا رہا ہے”۔جون 2024ء کے گیلپ سروے ،آئی آر آئی اور پلس کنسلٹنٹ کی رپورٹس گواہیاں دے رہی ہیں کہ ” بانی پی ٹی آئی کانام عوامی حافظے سے مٹانا آسان نہیں ہے "۔روایتی میڈیا کا بلیک ائوٹ سوشل میڈیا نے بے اثر کردیا ہےاور ورچوئل مزاحمت نے اس امرپر مہر تصدیق کردی ہے کہ نسل نو کا پلیٹ فارم پارٹی کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔نامور امریکی دانشور اور سیاسی تجزیہ نگار نوم چومسکی کا قول ہے کہ ” جب طاقتور میڈیا چپ سادھ لے تو عوام سوشل میڈیا کو ابلاغ کا ذریعہ بناتے ہیں "۔سیاسی مفاہمت کا راستہ عمران کے رلیف کا آخری راستہ ہے جس سے اس کی تحریک پھر سے زور پکڑ سکتی ہے ،بحال ہوسکتی ہے ۔بصورت دیگر پارٹی اسٹیبلشمنٹ دوست ،وفادار اور نظریاتی دھڑوں میں تقسیم ہو جائے گی۔بہر حال اگر بانی پی ٹی آئی کو سیاست سے مستقل الگ کردیا جاتا ہے ،تب بھی وہ ایک نئی سیاسی قوت کے علامتی مرکز بن سکتے ہیں مطلب یہ کہ پی ٹی آئی بکھر سکتی ہے مگر بانی کے اثر سے جدا نہیں ہو سکتی ،پارٹی کانام ، تنظیم اور عہدے سب کے سب وقتی ہوسکتے ہیں مگر ” جذباتی بیانیہ” جو عام پاکستانی کے دل و دماغ میں پیوست ہوچکا ہے اس کا زائل ہونا یا مٹانا مشکل ہے ۔
فیس بک کمینٹ

