ادبلکھاریماہ طلعت زاہدی

چیدہ چیدہ، دیدہ اور شُنیدہ لوگ ۔۔ ماہ طلعت زاہدی

ظ انصاری
یہ تو بہت بعد کی بات ہے،شاید جب میں بی اے میں تھی، شاعر بمبئی(افتخار امام) کا ظ انصاری نمبر سامنے تھا، ظ انصاری نے کسی جگہ اعتراف کیا تھا:
ً میں مقصود زاہدی کو ادب اور سیاست میں بڑا بھائی سمجھتا ہوں ۔
پاپا ایسی باتیں ہمارے سامنے کبھی نہیں دہراتے تھے۔ لیکن اپنے چُھٹپن کا ایک واقعہ مجھے یاد ہے۔ ظ انصاری کا ویو کارڈ ماسکو سے آیا تھا۔ مقصود بھائی میں دہلی جا رہا ہوں، کراچی سے لاہور ریل کا سفر ہوگا، ملتان اسٹیشن پر ملاقات ہو جاۓ گی، تمہارے بچوں کے لئے کیا لاؤں؟
ہماری فرمائش اُنہوں نے پوری کی، بھائی جان کے لئے لتا منگیشکر کا لانگ پلے ریکارڈ اور میرے لئے روسی گڑیا جو ایک زنجیر میں بندھے روسی کتے کو لئے کھڑی تھی۔ وہ گڑیا عرصہ دراز تک مجھے ایک نادید ہ سانتا کلاز کی یاد دلاتی رہی۔ پھر جب روسی شاعر پشکن کا ترجمہ ظ انصاری کی اردو میں پڑھا،تو روسی مضامین دہلی کی زبان میں گھل مِل گۓ اور رگ و پے میں رس گھول گئے۔
نخشب جارچوی
یہ بھی میرے چُھٹپن کا ذکر ہے ڈریم لینڈ سینما میں فلم لگی تھی زندگی یا طوفان ۔ بعد میں بڑوں سے ایک عرصے تک سُنتی رہی کہ اس فلم نے کامیابی کے اگلے پچھلے ریکارڈ توڑ دیئے تھے۔ چھ مہینے تک یہ فلم لگی رہی اور تا دیر یہ سُننے میں آتا رہا کہ بڑے بڑے متقی، باریش بزرگ چُھپ چُھپ کے اس فلم کو دیکھنے جاتے رہے۔
اس فلم کی ہیروئن نوتن ،ہیرو پردیپ کمار تھے۔ اور فلم کے ہدایتکار، گیت نگار تھے نخشب جارچھوی۔ ان صاحب سے منسوب یہ بھی ہے کہ کمال امروہی کی فلم محل کا شہرہ آفاق گیت نخشب ہی کے قلم کا شاہکار تھا اور جب یہ گیت آن ائر ہوا، اس وقت تک گلوکار کا نام نہیں لیا گیا تھا، مگر اتنے فون آل انڈیا ریڈیو کو آۓ کہ ریڈیو نے ریکارڈنگ کمپنی سے گلوکارہ کا نام بتانے کی درخواست کی،اور لتامنگیشکر کا نامِ نامی آنا ًفاناً پورے برِ صغیر میں پھیل گیا۔وہ گیت تھا ’’ آۓ گا آنے والا،آۓ گا‘‘
یہ نخشب جارچوی میرے پاپا کے عزیز دوست تھے، تقسیم ِ ہند کے بعد پاکستان آگۓ تھے، ان کا مجموعہ کلام مشعلِ راہ کے نام سے ریختہ میں موجود ہے، ایک شعر تبرُّکاً نذر ہے:وعدے کا اعتبار تو ہے واقعی مجھے
یہ اور بات ہے کہ ہنسی آگئی مجھے
ڈاکٹر اختر حسین راۓ پوری
پاپا کے ساتھ جب میں کراچی میں ان سے ملنے گئی تو وہ اپنے برآمدے میں سائیکل چلا رہے تھے۔ ان کی بیگم حمیدہ اختر خلوص سے ملیں، جب ڈاکٹر اختر حسین صاحب اندر تشریف لائے تو پتہ چلا وہ دیکھنے کی دولت سے محروم ہو چکے تھے۔ یونائیٹڈ نیشنز میں اعلٰی درجے کے عہدوں پر فائز رہے تھے،پھر بھی ان کی آنکھوں کے دو آپریشن ناکام رہے۔ ان کا سیاہ فام بڑا السیشن ان کے قدموں میں نہایت تمیز سے بیٹھا رہا۔ میری نظمیں ڈاکٹر اختر حسین نے اتنی توجہ سے سُنیں کہ آنکھوں والے بھی کیا سُنیں گے میری نظم ’’سمندر استعارہ ‘‘ کی تحسین کی تو ان کی بیگم بولیں: یہ تعریف کم ہی کرتے ہیں ۔چاۓ کھانے کا ذکر اضافی ہے،وہ پاپا سے ترقی پسند نظریات پر گفتگو کرتے رہے ،چلتے ہوئے اپنی خود نوشت ’’ گردِ راہ ‘‘پاپا کو عطا کی، اور مجھ سے کہا لکھنا بند مت کرنا !
گردِ راہ، پڑھنے کے لائق کتاب ہے۔دو خاص واقعات،جو بظاہر معمولی سے ہیں، سُنانا چاہوں گی:
اختر حسین صاحب نے کچھ وقت ہندوستان کے جنگلوں میں سنیاسیوں کے ساتھ بھی گُزارا۔
انہوں نے دورانِ ملازمت افریقہ کے گھنے جنگلات کے بیچ دریا کا ذکر اس حوالے سے کیا کہ کشتی میں ساری رات کا سفر تھا ، گھٹا ٹوپ اندھیرے میں آسمان کے سارے ستارے اتنا نیچے اُتر آۓ تھے کہ ہاتھ بڑھا کر چُھو لیں اور یوں جگرمگر کر رہے تھے کہ ہیرے جواہرات ماند پڑ جائیں۔۔ڈاکٹر اختر حسین راۓ پوری نے مولوی عبدالحق کے ہمراہ اردو لغت ترتیب دینے میں پورا پورا ساتھ دیا، لیکن مرتبین میں ان کا نام نہیں لیا گیا۔ یہ اختر حسین کی ایک اور بڑائی ہے کہ انہوں نے اس کا کوئی ذکر کرنا مناسب نہیں جانا، بعد میں یہ بات انکی بیگم حمیدہ اختر کی خود نوشت کے ذریعے سامنے آئی۔
سبطِ حسن
وہ اُس وقت ”پاکستانی ادب “ کے مدیر تھے۔ ان کی کتاب ”موسٰے سے مارکس تک “ بازار میں آ چُکی تھی۔میں ان سے مل نہیں سکی اور بےتوفیقی یہ کہ ان کو پڑھا بھی نہیں۔ پاپا نے مجھے صابر ظفر کا پہلا مجموعہ ”ابتدا “ لا کر دیا ، اور کہا اس پر کچھ لکھ دو۔ میں نے اس وقت تک نثر نہیں لکھی تھی، خیر پاپا کا حکم بجا لائی اور پاپا نے وہ ٹوٹی پھوٹی تحریر پاکستانی ادب میں بھیج دی۔ رسالے کے علاوہ دو صفحات کا ایک خط مجھ نا چیز کے نام آیا،نہ تو میرے پاس وہ خط محفوظ ہے، نہ وہ تمام متن یاد داشت میں باقی ہے جو اس خط کا رہا ہوگا۔ ہاں ایک جملہ اس خط کا ہمیشہ بجلی کے کوندے کی طرح ذہن میں لپک جاتا ہے،جب میں نثر لکھنے کو قلم اُٹھاتی ہوں، وہ جملہ تھا:
ً نثر لکھتی رہنا

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker