میں پاپا کی انگلی پکڑے گلی میں جا رہی تھی،ابھی بولنا شروع نہیں کیا تھا، قد اتنا بڑا تھا کہ پلنگ کے پاۓ تک پہنچتا ہوگا۔ ایک پھلوں کی ریھڑی دیکھ کر پاپا رکے اور سودا کرنے لگے ، میرا قد اِتنا نہیں تھا کہ ریڑھی پر رکّھی چیزیں دیکھ سکوں، لیکن کونے میں رکھی سرخ بیروں کی ڈلیا یا ٹوکری مجھے نظر آ گئی تھی، سرخ چھوٹے بیر مجھے بچپن میں بہت پسند تھے، میں نے اوپر کو ہو کر ، بلکہ سر اٹھا کر،تقریباً اچک اور اچھل کر بہ دِقّت تمام ایک بیر اٹھا لیا، ابھی اِس فتح سے گزری ہی تھی کہ پاپا کا تھپّڑ میرے رخسار پہ تھا، پھر میں ہِچکِیوں اور سِسکِیوں کے ساتھ رو رہی تھی، ریڑھی بان بیچارہ پاپا کے آگے ہاتھ جوڑ رہا تھا، صاحب بچہ ہے آپ کو مارنا نہیں چاہئے تھا ، میں تو خود اسے دے دیتا ،آپ نے معصوم بچے کو کیوں تھپّڑ لگایا۔۔۔مجھے خواب سا یاد ہے پاپا مسکرا رہے تھے، اب سوچتی ہوں ، شاید وہ دل میں مطمئن تھے کہ یہ تھپّڑ آخری رہے گا۔۔اور ایسا ہی ہوا۔۔
منگل, مئی 5, 2026
تازہ خبریں:
- جے یو آئی ( ف ) کے رہنما مولانا محمد ادریس قتل : چارسدہ میں شدید احتجاج ، سڑکیں بلاک
- جنوبی وزیرستان میں بارود سے بھری گاڑی میں دھماکہ، ایک ہلاک، 14 زخمی,متعدد کی حالت نازک
- کیا مصنوعی ذہانت تباہی کا سبب بن سکتی ہے؟ شہزاد عمران خان کا کالم
- آہ پروفیسر حفیظ الرحمن : صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر کی یاد نگاری
- کالعدم تنظیم کا مواد تقسیم کرنے کا الزام : یوٹیوبر سعد بن ریاض جیل منتقل
- نام ور ماہرِ تعلیم ، مصنف اور محقق حفیظ الرحمان خان طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے
- محبت میں ناکامی جماعتِ اسلامی : رضی الدین رضی کا 38 برس پرانا کالم
- ایک نئی جنگ کا اندیشہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- پشاور زلمی نے پی ایس ایل 11 کا ٹائٹل جیت لیا : حیدر آباد کے خواب چکنا چور
- پاک افغان تعلقات اور عالمی تشویش : سید مجاہدعلی کا تجزیہ

