اختصارئےلکھاریماہ طلعت زاہدی

پہلا اور آخری تھپّڑ .. ماہ طلعت زاہدی

میں پاپا کی انگلی پکڑے گلی میں جا رہی تھی،ابھی بولنا شروع نہیں کیا تھا، قد اتنا بڑا تھا کہ پلنگ کے پاۓ تک پہنچتا ہوگا۔ ایک پھلوں کی ریھڑی دیکھ کر پاپا رکے اور سودا کرنے لگے ، میرا قد اِتنا نہیں تھا کہ ریڑھی پر رکّھی چیزیں دیکھ سکوں، لیکن کونے میں رکھی سرخ بیروں کی ڈلیا یا ٹوکری مجھے نظر آ گئی تھی، سرخ چھوٹے بیر مجھے بچپن میں بہت پسند تھے، میں نے اوپر کو ہو کر ، بلکہ سر اٹھا کر،تقریباً اچک اور اچھل کر بہ دِقّت تمام ایک بیر اٹھا لیا، ابھی اِس فتح سے گزری ہی تھی کہ پاپا کا تھپّڑ میرے رخسار پہ تھا، پھر میں ہِچکِیوں اور سِسکِیوں کے ساتھ رو رہی تھی، ریڑھی بان بیچارہ پاپا کے آگے ہاتھ جوڑ رہا تھا، صاحب بچہ ہے آپ کو مارنا نہیں چاہئے تھا ، میں تو خود اسے دے دیتا ،آپ نے معصوم بچے کو کیوں تھپّڑ لگایا۔۔۔مجھے خواب سا یاد ہے پاپا مسکرا رہے تھے، اب سوچتی ہوں ، شاید وہ دل میں مطمئن تھے کہ یہ تھپّڑ آخری رہے گا۔۔اور ایسا ہی ہوا۔۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker