آنچلافسانےلکھاریمہر سخاوت حسین

مخدوم صاحب کی بیٹی ۔۔ مہر سخاوت حسین

مخدوم ہاؤس کے صحن میں بیٹھی وہ حبس میں سانس لینے کی کوشش کر رہی تھی -اس پوری زندگی ایک تکلیف دہ اور مصنوعی طرزحیات کے خلاف خاموش لیکن پر اثر احتجاج تھی. مخدوم خاندان کی کچھ اپنے ہی اصول و ضوابط اور روایات تھیں جن کی پاسداری کرنامخدوم خاندان کے ہر فرد پر اور خصوصا عورتوں پر لازمی تھا -زندگی کے ماہ و سال بیت گئے -وقت بدل گیا مگر نہ بدلے تو مخدوم خاندان کی روایات نہ بدلی – زنیرہ جب اپنے خاندان کی روایات اور اصول و ضوابط کا محاسبہ کرنے بیٹھی تو یکدم اسے اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہوا -مخدوم پر خدا کی خاص رحمت تھی -زنیرہ کے والد ڈیڑھ مربع کے مالک تھے -مخدوم شہاب الدین کا گاؤں میں معزز ین میں شمار ہوتا تھا لہذا گاؤں کے لوگوں نے انھیں اپنا سرپنچ منتخب کیا ہوا تھا-اور یوں سر پنچ کی کرسی شہاب الدین کے پاس تھی – مخدوم شہاب الدین پرانی روایات میں جکڑے انسان تھے جنھیں اپنے باپ دادا کے اصول پسند تھے -مخدوم شہاب الدین کی 4بیٹیاں اور 2 بیٹے تھے سب سے بڑے 2 بیٹے عاصم اور عاقب تھے اور بیٹیوں میں سب سے بڑی زنیرہ دوسرے نمبر پر زوبیہ تیسرے نمبر پر فروا اور چھوتھے نمبر پر فریحہ تھی -مخدوم شہاب الدین اپنے گاؤں کے علاوہ آس پاس کے دو تین گاؤں کے بھی سر پنچ تھے -دیہات کے لوگ انھیں اپنا منضف سمجھتے اور ان کے پاؤں دھو دھو کر پیتے – کسی بھی قسم کی نوعیت کا مسئلہ کیوں نہ ہو فیصلہ مخدوم شہاب الدین کی عدالت میں ہی سنایا جاتا -مجال ہو کہ گاؤں کا کوئی مسئلہ کبھی عدالت پہنچا ہو – مخدوم ہاؤس کی اپنی ہی کڑی روایات تھیں- جن کی پاسداری کرنا ہر فرد پر لازم تھا -مخدوم ہاؤس کے کڑے اصولوں میں ایک اہم اصول لڑکیوں پر تعلیم کے دروازے برس ہا برس سے بند تھے -لیکن یہ اصول صرف خواتین پر لاگو تھا مخدوم خاندان کے چشم و چراغ اور وارثوں کو اس اصول سے استثنی حاصل ہے -مخدوم خاندان کے چشم وچراغ اپنا تعلیم سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے چاے شوق ہو یا نہ ہو بہر حال تعلیم ان کے لئے لازمی قرار دی جا چکی تھی – وہ ملک کے معروف کالجوں میں زیر تعلیم تھے. مخدوم ہاؤس کی خواتین کا حال مخدوم خاندان کی زمینوں پر کام کرنے والے مزارعے کی بیٹی سے تعلیمی معاملات میں کچھ مختلف نہ تھا. جسے تعلیم محض اس لئے نہ دلوائی کہ وہ آزاد اور باغی ہو جائیں. دوسری اہم وجہ خاندانی رسم و رواج اورانا تھی-مناسب قدو قامت کی لڑکی جو ہر وقت مخدوم خاندان کی اس روایت کے بارے میں سوچتی رہتی جس میں لڑکیوں کی تعلیم محض ایک آزادی تھی -اور زنیرہ مخدوم پہلی لڑکی تھی. جس نے اپنے خاندان کی اس فرسودہ سوچ کے خلاف آواز اٹھائی -وہ باغی نہیں تھی اسے اپنے خاندان کی عزت و ناموس کی فکر تھی مگر اسے اختلاف تھا اس فرسودہ روایات پر جو لڑکیوں کے تعلیم کے خلاف تھی -اس کی ذات میں کچھ کر جانے کی جستجو تھی -اسے تعلیم حاصل کرنے آرزو تھی جو مسلسل بڑھتی جارہی تھی – یہ وہ زنیرہ تھی جس نے اپنے والد کے سامنے ہاتھ جوڑے منت سماجت کی کہ اسے تعلیم حاصل کرنے سے نہ روکا جائے -مگر مخدوم ہاؤس کی نام نہاد سوچ نے اس کی آواز کو دبانے کی کوشش کی -وہ اس کی آواز کو جتنا دباتے وہ اتنی ہی شدت سے ابھرتی — اس نے اپنے والد کے پاؤں پکڑے اور اپنا مطالبہ پیش کیا اور وعدہ کیا کہ اس کی تعلیم کی وجہ سےمخدوم خاندان پر کبھی حرف نہیں آنے دے گی -اور یوں مخدوم شہاب الدین صاحب نے اس کے لئے ایک خاتون استاد کا انتظام کر دیا -زنیرہ نے انٹر کی تیاری گھر پر ہی پڑھ کر کی .انٹر کا امتحان بطور پرائیویٹ امیدوار دیا -اسے گریجویشن ریگولر یونیورسٹی کا بے حد شوق تھا -جس کے لئے اس نے اپنے والد محترم سے اجازت طلب کی تو کہنے لگے کہ اب ہمارے خاندان کی لڑکی یونیورسٹی میں پڑھے یہ ہمیں قطعا نا منظور ہے -زنیرہ کی باقی بہنیں بھی گھر پر ہی زیر تعلیم تھیں اور چھوٹی جماعتوں میں تھیں -اس نے ہمت نہ ہاری اور مسلسل اپنے والد کے پاس اپنی عرضی لے جاتی رہتی اور ان کا جواب ہمیشہ کی طرح نفی میں ہوتا -اور آخر جب زنیرہ نے اپنے والد کے قدموں میں دوپٹہ رکھا اور وعدہ کیا کہ وہ کبھی بھی اپنے خاندان کی عزت و ناموس پر کوئی حرف نہیں آنے دے گی -زنیرہ کی عمر کی لڑکیاں ہمیشہ اپنے ہم سفر کے خیالوں میں رہتی ہیں جبکہ وہ صرف اور صرف اپنی تعلیم کے حصول کا سوچتی -اپنے خاندان کی لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں سوچتی رہتی -شہاب الدین صاحب نے اپنی بیٹی کی التجاؤں کو دیکھتے ہوئے اسے جامعہ میں داخلہ دلوا دیا – زنیرہ کا جس جامعہ میں داخلہ ہوا اس جامعہ کا پوائینٹ اس کے گاؤں کے اڈے سے گزرتا -اور زنیرہ کے گھر سے اڈے تک فاصلہ تقریبا دس کلو میٹر تک تھا -اور یوں وہ گھر سے اڈے تک کا سفر پیدل کرتی – بقول مخدوم شہاب الدین نے سوچا جب گھر سے اڈے تک کا اتنا لمبا سفر کرکے جب وہ بس تک پہنچا کرے گی تو تھک جائے گی اور پھر خود بخود یونیورسٹی جانے کا بھوت اتر جائے گا -لہذا گھر سے اڈے تک سواری کروا کر دینے کی کوئی ضرورت نہیں – گرمیوں کی گرم ترین دوپہر کو جب وہ طلبا ء و طالبات کے جم غفیر سے باہر نکلی تو گویا اس نے شکر کا سانس لیا -اور اس دن گرمی بھی بلا کی تھی -وہ گرمی سے نڈھال ہوتے بس سے اتری 5 منٹ کے لئے درخت کے نیچے کھڑی ہوئی سانس بحال کیا اور پھر گھر کی جانب رخت سفر باندھا -دس کلو میٹر کا سفر اور قہر کی گرمی کے سبب پسینہ سے شرابور اسلم دہکان کو وہ تیزی سے چلتی دکھائی دی-اس وقت اسلم دہکان کھالے کی صفائی کر رہا تھا – تو اس نے آواز دے کر روک لیا اور پیڑھ کے نیچے رکھے گھڑے سے اس کے لئے پانی لے آیا -جب وہ پانی بی رہی تھی تو اسلم دہکان اسے بڑے غور سے دیکھ رہا تھا -اور اس کے حوصلے اور ہمت کے بارے میں سوچ رہا تھا -رنگ تودیکھنے والی آنکھ ہی پہچان جاتی ہے اور وہ اس کے مستقبل کے رنگ پہچان چکا تھا- جب اس نے پوچھا کہ چاچا کیا دیکھ رہے تو وہ کہنے لگا کہ بیٹا تو ایک دن ضرو بڑی آفیسر بنے گی انشاءاللہ -محنت اور لگن کی بدولت زنیرہ نے خاندان اور گاؤں میں اپنا ایک مقام اور پہچان بنایا -اللہ نے زنیرہ کو سر خرو کیا- زنیرہ نے اپنی محنت اور لگن سے خاندان کی لڑکیوں کے لئے تعلیم اور ترقی کے دروازے کھولے -آج جب یونیورسٹی کے کنوکیشن میں اسکی بیٹی گورنر سے میڈل پہن رہی تھی اور وہ بابا جانی کو یاد کر آنسو بہا رہی تھی

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker