تجزیےعمران عثمانیکھیللکھاری

فکسنگ اور پی سی بی محلاتی سازشیں،رمیز راجہ کتنے بے قصور ہیں‌؟۔۔ عمران عثمانی

پاکستان کرکٹ میں میچ فکسنگ اور پی سی بی حکام کی سازشیں کیسے رہیں اور کس طرح منیجمنٹ نے ٹیم تقسیم کر کے مسائل کھڑے کیئے اور کتنی بربادی کی گئی۔ اس کی معمولی سی جھلک گزشتہ روز سوشل میڈیا کی زینت بنی لیکن بہت کچھ پس پردہ بھی ہے جس کی بدستور پردہ داری ہے.
اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ کرکٹ ٹیم میں کھیلنے والے ہر دور کے کھلاڑیوں نے اپنے آپ کو ایسے ہی کپتان سمجھا ہوا تھا کہ جیسے وہ عمران خان ہو. مطلب سب پاور اور سب صلاحیت صرف اور صرف اسی میں ہے. گویا ٹیم میں بیک وقت 11 کپتان کھیل رہے ہوتے تھے.
سابق کپتان رمیز راجہ اس حالت کو کچھ اس انداز میں بیان کرگئے کہ
پاکستان ٹیم میں ہر کوئی اپنے آپ کو 30 مارخان سمجھتا ہے. یہ معاملہ طویل عرصہ رہا اور اس وقت بھی جب ٹیم بھر پور و طاقتور تھی.
ایسا کیوں ہوا؟
رمیز راجہ تو کچھ یوں کہتے ہیں کہ 90 کے عشرے میں یہ مسائل بہت بڑھ گئے. گروپ بندی اور فکسنگ مسائل نے ٹیم تقسیم کردی .پھر مجھے اس لئے کپتانی دی گئی کہ میں صاف اور نیوٹرل تھا تو فکسنگ کا ایشو ختم ہو اور مل کر کھیلیں لیکن اس دور میں پی سی بی حکام بھی تقسیم تھے. سیاست کرتے تھے اور ٹیم کو تقسیم رکھتے تھے۔ عمران خان کے جانے کے فوری بعد یہ مسائل آئے جب تک وہ کپتان تھے ،چیف سلیکٹر بھی وہ تھے اور بورڈ کے صدر بھی وہی ،تو سب کچھ ٹھیک تھا لیکن جیسے ہی وہ گئے تو سب یا تو عمران خان بننا چاہتے تھے اور یا پھر کپتان. مسائل بڑھ گئے.
رمیز راجہ کی باتیں اتنی سادہ تو نہیں کہ ان کی سادگی پر جانے دیں. 90 کے عشرے میں گروپ بندی اور میچ فکسنگ مسائل آئے تو رمیز یہ بھی بتادیتے کہ ان کو کپتان کن جواریوں سے بچنے کے لئے بنایا گیا تھا ؟
سب سے مزے کی بات یہ رہی کہ رمیز کو بقول ان کے فکسنگ مسائل ختم کرنے کے لئے لایا گیا تھا .وہ کیا ختم ہوتے. رمیز درجنوں ایام، جسے چٹکی بجانا ،کہہ لیں ،میں کپتانی سے ہٹادیئے گئے .
رمیز کپتانی سے کیوں بھاگے یا بھگائے گئے ؟اس کا جواب شاید دیتے ہوئے مسائل بڑھتے ہیں.
رمیز راجہ نے پی سی بی منیجمنٹ پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ سیاست اور تقسیم میں رہتے تھے .یہ بھی خوب رہا. توقیر ضیا کے دور میں وہ چیف ایگزیکٹو آف پی سی بی رہے تو اس وقت کیا ہورہا تھا.
خاص کر 2003 ورلڈ کپ میں پاکستان ہارا اور توقیر ضیا نے اتفاق سے جمعرات کو ہی اس ایونٹ کو یاد کرتے ہوئے شکست کی وجہ گروہ بندی قرار دی تو رمیزراجہ اس کا حصہ نہیں تھے تو پی سی بی میں رہ کر کیا صاف کرگئے؟
سب کچھ تو وہی رہا
کمال بات ایک اور دیکھئے
رمیز موجودہ وقت اور منیجمنٹ، ٹیم و اسٹاف کو ٹھیک کہہ رہے ہیں.
کیا تضاد ہے؟ وہی 90 کے عشرے والے وقار یونس اس وقت بائولنگ کوچ نہیں؟
وہی و سیم اکرم پی سی بی کمیٹی اور پی ایس ایل میں ہم سفر نہیں؟ ان کے پرانے کئ ساتھی تاحال پی سی بی اور ٹیم کے ساتھ موجود نہیں؟
رمیز راجہ کو اپنی اتنی بات کرنی ہے جتنی میں ان کا فائدہ ہے اور کرنی بھی اتنی سادگی سے کہ سننے والوں کو سادہ سادہ یقین آجائے .
اسی لئے کہتے ہیں کہ خاموشی میں نجات ہے .رمیز راجہ اس پر نہ بولتے تو زیادہ بہتر ہوتا. فکسنگ ایشوز اور پی سی بی منیجمنٹ کی خرابی کا جو ذکر وہ کر رہے ہیں. اس کا وہ پورا پورا حصہ رہے ہیں تو بات بھی پوری کردیں.
( بشکریہ : کرک سین )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker