تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : صدر کا علما سے معاہدہ ، وزیر اعظم کو مساجد ویران ہونے کا اندیشہ

کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور ہلاکت کے بارے میں ابھی تک کوئی بات یقین سے نہیں کہی جاسکتی۔ اس وائرس پر تحقیق کرنے والے ماہرین اور وبائی امراض میں خصوصی استعداد رکھنے والے ڈاکٹر کوئی بات حتمی طور سے کہنے پر تیار نہیں ہیں ۔ تاہم چند بنیادی باتوں پر اتفاق ہے۔ ایک تو ویکسین کی تیاری تک دنیا کو اس وائرس سے نجات نہیں ملے گی ۔ اس کام میں ایک سال کی مدت صرف ہونے کا امکان ہے۔ بچاؤ کے لئے کووڈ۔19 نامی وائرس کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے سماجی دوری اور دیگر احتیاطی تدابیر پر اتفاق رائے موجود ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے علاوہ متعدد ملکوں کے ماہرین بھی اس وائر س کے پھیلاؤ کے طریقہ اور ہلاکت کے بارے میں کوئی حتمی بات کہے بغیر یہ واضح کرتے ہیں کہ اس کے بچاؤ کا مؤثر ترین معلوم طریقہ بہر حال سماجی دوری ہے۔ یعنی لوگ ایک دوسرے سے ملنا ترک کردیں، بڑے اجتماعات ممنوع رہیں، جہاں کام کرنا ضروری ہو وہاں دو میٹر یا چھ فٹ کا فاصلہ قائم رکھا جائے۔ اس کے علاوہ یہ مشورہ دیا جارہا ہے کہ تمام ممالک زیادہ سے زیادہ لوگوں کے ٹیسٹ کریں تاکہ وائرس سے متاثرین کی تعداد کا تعین کیا جاسکے اور وائرس کی براہ راست زد میں آنے والے یا اس ماحول میں موجود لوگوں کو قرنطینہ میں رکھ کر یہ یقین کیا جاسکے کہ کن لوگوں پر وائرس حملہ آور ہؤا ہے اور کون اس سے محفوظ رہے ہیں۔
ماہرین کی رائے میں یہ وائرس منہ یا ناک کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے اور یہ کسی ایسے شخص سے رابطہ کرنے پر لاحق ہوسکتا ہے جس میں یہ وائرس داخل ہوچکا ہو۔ اس حوالے سے سب سے مشکل اور تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ متعدد لوگوں کو اس کی خبر بھی نہیں ہوتی کہ وہ وائرس کا شکار ہوچکے ہیں ۔ یہ اطلاعات بھی سامنے آچکی ہیں کہ بہت سے ایسے لوگ یا تو یہ جانے بغیر ہی اس مہلک وائرس کی وجہ سے ہلاک ہوگئے یا بیماری کے آثار محسوس کئے بغیر صحت مند بھی ہوگئے۔ کسی علاج کے بغیر کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے والوں کا جسمانی دفاعی نظام مستعد ہوتا ہے اور وہ کسی سنگین بیماری کا شکار نہیں ہوتے۔ یہ پہلو اگر تسکین کا سبب ہے تو اس کا یہ حصہ بہت تشویشناک ہے کہ وائرس کا شکار ہونے والا ایسا شخص جس میں بظاہر بیماری کی علامات نمودار نہ ہوئی ہوں ، بے خبری میں ان سب لوگوں کو وائرس منتقل کرسکتا ہے جن سے وہ اس عرصے میں ملا ہو ۔ کورونا وائرس جسم میں داخل ہونے کے دو سے تین ہفتے تک کسی بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔ اس دوران یا تو وہ کسی بھی جسم میں ’محو استراحت ‘ ہوتا ہے یا مذکورہ شخص کا جسمانی دفاعی نظام وائرس کو شکست دینے کی کوشش کرتا ہے اور بعض صورتوں میں کامیاب بھی ہوجاتا ہے۔ لیکن اس ایک بے خبر شخص کی وجہ سے وائرس درجنوں یا سینکڑوں بے خبر یا غیر محتاط لوگوں میں منتقل ہوسکتا ہے۔ اسی لئے سماجی دوری کو اہم سمجھا جارہا ہے۔
سماجی دوری کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات نے دنیا بھر کے ممالک میں معیشت کا پہیہ جام کردیا ہے۔ اس بات کی پریشانی صرف وزیر اعظم عمران خان کو ہی نہیں ہے کہ بلکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت اور واحد سپر پاور کہلانے والے امریکہ کے صدرکو بھی یہ تشویش ہے کہ اگر کورونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن کا سلسلہ جاری رہا تو نومبر میں ہونے والے انتخابات میں امریکہ میں بیروزگاروں کی ریکارڈ شرح ، ان کے دوبارہ منتخب ہونے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ کوئی بھی امریکی لیڈر امریکی معیشت کو بہتر بنانے اور لوگوں کو زیادہ مالی سہولتیں دینے کے نام پر ہی ووٹروں کو مائل کرتا ہے۔ عمران خان بھی بار بار یہ اعلان کرکے کہ غریب کو روزگار کی ضرورت ہے ورنہ وہ کورونا سے پہلے بھوک سے مرجائے گا ، اپنے ووٹروں اور ملک کے عوام کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ عوام کی محبت میں لاک ڈاؤن کے خلاف ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ بھی کچھ ایسا ہی طرز عمل اختیار کرتے ہوئے کبھی ریاستوں کے گورنروں کو لاک ڈاؤن ختم کرنے کی ’ہدایت‘ دیتے ہیں اور کبھی کسی عطائی کی طرح خود سے کسی دوا کا نام لے کر اصرار کرتے ہیں کہ اس کے استعمال سے علاج ممکن ہے۔
مسئلہ مگر یہ ہے کہ کسی دوا کی تحقیق و تصدیق کے لئے کئی ماہ کی مدت درکار ہوتی ہے۔ دنیا کے متعدد ممالک میں کسی ایک دوا یا دواؤں کے کمپاؤنڈ کے ساتھ مریضوں کا علاج کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں لیکن یہ سب تجرباتی مراحل میں ہیں۔ جب تک یہ تصدیق نہ ہوجائے کہ کوئی دوا کورونا کے کسی مریض کو مکمل صحتیاب کرسکتی ہے، اس وقت تک اس کے عام استعمال کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ کورونا وائرس کے پھیلنے کے پیٹرن کے بارے میں چونکہ کوئی حتمی رائے موجود نہیں ہے، اس لئے دنیا بھر کے ملکوں نے خوشی سے باالجبر سماجی دوری اور لاک ڈاؤن کا راستہ ہی اختیار کیا ہے۔ اس شبہ کی وجہ سے تشویش مزید بڑھ گئی ہے کہ کورونا وائرس فضا میں بھی چند گھنٹے تک موجود رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یعنی کورونا سے متاثر کوئی شخص اگر کسی راستے سے گزرا اور اس دوران اسے کھانسی یا چھینک آئی تو خواہ اس وقت کوئی دوسرا صحت مند شخص اس کے قریب نہ بھی موجود ہو، پھر بھی اس بات کا امکان ہے کہ اس جگہ سےاگلے چند گھنٹوں کے دوران گزرنے والے افراد کو بھی وائرس چمٹ جائے گا۔ اس طرح نامعلوم طور سے ہی ایک شخص کی وجہ وائرس کئی ایسے افراد تک پہنچ سکتا ہے جو بظاہر خود کو محفوظ محسوس کررہے ہوں۔
پاکستان میں کورونا کے حوالے سے صرف سیاسی سطح پر ہی مشکل درپیش نہیں ہے بلکہ سماجی سطح پر بھی لاعلمی ، کم آگاہی یا محض ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے سماجی دوری قائم کرنے اور میل جول بند کرنے سے انکارکیا جارہاہے۔ یہی وجہ ہے کہ چند روز قبل جب وزیر اعظم نے غریب کی مظلومیت کے پسندیدہ موضوع پرخطاب کرتے ہوئے لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کیا اور بعض صنعتوں کو کھولنے کی بات کی تو اس کے ساتھ ہی ملک کے بعض مذہبی رہنماؤں نے یک طرفہ طور سے مساجد کھولنے اور رمضان المبارک میں تراویح کا اہتمام کرنے کا اعلان کردیا۔ اس کے نتیجے میں ایک طرف گھروں میں محصور لوگ بے دھڑک سڑکوں گلیوں میں نکل آئے اور دھڑلے سے جمعہ کے اجتماعات منعقد کئے گئے۔ آج صدر مملکت کے ساتھ مشاورت کے بعد علما اگرچہ رمضان المبارک کے دوران عبادات منعقد کرنے کے لئے ایک 20 نکاتی پروگرام پر متفق ہوئے ہیں لیکن گزشتہ جمعہ کو یا اس سے پہلے پابندی کے باوجود قانون شکنی کرتے ہوئے جب اور جہاں پر بھی نماز جمعہ کا اہتمام کیا گیا تو اس میں نہ تو علما کے بیان کئے ہوئے ’حفاظتی اقدامات‘ کا خیال رکھا گیا اور نہ ہی مستقبل میں یہ امکان ہے کہ رمضان کے دوران اس کا انتظام و نگرانی کرنا ممکن ہوگا۔ کیوں کہ لوگ اور ان کے لیڈر کورونا کے پھیلنے اور اس کی روک تھام کےمتفقہ معلوم طریقہ سے لاعلمی کا اظہار کررہے ہیں۔
صدر مملکت عارف علوی نے جن بیس نکات کا اعلان کیا ہے ، ان کے مطابق مساجد میں صفوں اور نمازیوں کے درمیان چھ فٹ کا فاصلہ ہوگا، کوئی بیمار، کم عمر یا پچاس برس سے زیادہ عمر کا شخص نماز کے لئے مسجد نہیں آئے گا، مساجد سے قالین ہٹا دیے جائیں گے ، نمازوں کا اہتمام ہال کی بجائے احاطے میں کیا جائے گا اور تمام نمازی فیس ماسک استعمال کریں گے۔ ان میں سے کسی بھی طریقہ پر عمل کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔ صدر مملکت نے چند وزرا کے ساتھ مل کر حکومت کی فیس سیونگ کے لئے یہ معاہدہ ضرور کیا ہے تاکہ اس تاثر کو زائل کیا جاسکے کہ حکومت بےاختیار ہے۔لیکن جیسے پہلے باقاعدہ احکامات کے باوجود بعض مساجد کھولی جاتی رہیں اور نمازوں کا اہتمام ہوتا رہا تو اب معاہدہ کی آڑ میں مولوی اور ان کے عقل سے عاری مقلد مساجد میں رب کو راضی کرنے کے لئے دھڑا دھڑ جمع ہوں گے اور حکومت مجبور محض کی طرح تماشہ دیکھتی رہے گی۔
وزیر اعظم نے آج متنبہ کیا ہے کہ اگرچہ ملک میں اپریل کے دوران کورونا سے متاثرین کی تعداد اندازوں سے کم رہی ہے لیکن مئی میں صورت حال بے قابو ہوسکتی ہے۔ انہوں نے صدر کے ساتھ مذہبی رہنماؤں کے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ان نکات پر عمل نہ ہؤا تو کورونا پھیلنے سے ’مساجد ویران ہوجائیں گی‘۔ مسجدیں ویران ہونے کے بارے میں وزیر اعظم کا یہ بیان نہ جانے بطور مسلمان ان کے دل کا رنج ظاہر کرتا ہے یا ملک کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر ان کی بے بسی کی علامت ہے۔ یہ بہر حال مولویوں کے آگے ہتھیار پھینکنے والی حکومت کی طرف سے طاقت کا اظہار تو نہیں ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ صدر مملکت کی سرکردگی میں حکومت کے نمائیندے مولویوں کی منت سماجت کرنے کی بجائے، ایک فیصلہ کا اعلان کرتے اور اس پر عمل کروانے کا حکم دیا جاتا۔ نمازوں کے انعقاد کے حوالے سے پیدا ہونے والی بے یقینی اور بحران کی اصل ذمہ داری خود عمران خان پر عائد ہوتی ہے جو لاک ڈاؤن کی مخالفت میں مذہبی لیڈروں کی قانون شکنی کو برداشت کرتے رہے ہیں۔
ایسی ہی قانون شکنی پر بھارت میں نئی دہلی پولیس نے تبلیغی جماعت کے سربراہ مولانا محمد سعد کاندھلوی کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ قائم کیا ہے۔ بھارتی حکومت کے اس فیصلہ سے اگر مودی سرکار کی اقلیت دشمن اور ہندوتوا پر منحصر پالیسی کا نشان تلاش کر بھی لیا جائے تو بھی اس بات کا بہر طور کوئی جواب موجود نہیں ہے کہ تبلیغی جماعت نے بڑے اجتماعات پر پابندی کے باوجود دہلی میں سالانہ تبلیغی اجتماع کیوں منعقد کیا تھا۔ ایسا ہی طریقہ رائے ونڈ اجتماع کے حوالے سے اختیار کیا گیا۔ پنجاب حکومت کی واضح ہدایت کے باوجود ایک ایسے موقع پر کئی لاکھ لوگوں کو جمع کیا گیا جب پاکستان میں کورونا پھیلنا شروع ہوچکا تھا۔ اب پاکستان تبلیغی جماعت کے سربراہ مولانا نذرالرحمان نے کہا ہے کہ لوگوں کو حکومت کے مشوروں پر عمل کرنا چاہئے۔ اور وزیر مذہبی امور نور الحق قادری میڈیا پر الزام لگاتے ہیں کہ زائرین اور مذہبی گروہوں پر الزام تراشی بلا جواز ہے۔ خبروں کے مطابق پاکستان میں تبلیغی جماعت کے1100 ارکان میں کورونا کی تشخیص ہوچکی ہے۔ اور جماعت کے متعدد لیڈراس وبا کی وجہ سے جاں بحق بھی ہوئے ہیں۔ یہی صورت حال بھارت میں نوٹ کی جارہی ہے۔
اس پس منظر میں حکومت کو مساجد کھولنے کے لئے مولویوں سے معاہدے کرنے کی بجائے، اپنی معلومات کی بنیاد پر فیصلے کرنے چاہئیں۔ ایک وبا سے لڑنے کے لئے دین کے عالموں کی بجائے سائنس اور طب کے ماہرین سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔

( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker