مئی کا مہینہ ہمارے لیے بہت سی رحمتیں لے کر آیا ہے۔ 28 مئی 1998 کو پاکستان نے نواز شریف کی ولولہ انگیز قیادت میں شاندار ایٹمی دھماکہ کر کے اپنے ازلی دشمن بھارت کو منہ توڑ جواب دے دیا۔ یہ اور بات ہے کہ بعد میں میاں صاحب کو مودی کے یار ہونے کا خطاب دے دیا گیا۔ وجہ یہ تھی کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان دشمنیاں ختم کر کے کاروبار محبت کا دیا جلانا چاہتے تھے۔ نو مئی 2023 کو فوج کی اپنی تخلیق کردہ سیاسی جماعت ایسی بے قابو ہوئی کہ اس نے فوجی تنصیبات پر ہی حملہ کرنا شروع کر دیا۔ ملک بھر میں شدید توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور مارپیٹ کا ماحول پیدا کر دیا گیا جس کا مقصد پی ٹی آئی کے بانی رہنما کی رہائی تھی جو اسی روز علی الصبح گرفتار کیے گئے تھے۔ یہ واقعہ افسوسناک تھا لیکن اس کے بعد فوج کے پاس پی ٹی آئی پر کریک ڈاؤن کا بہانہ ہاتھ آ گیا۔ وہ دن اور آج کا دن عمران خان پابند سلاسل ہیں۔ ملک بھر میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کو گرفتار اور لاپتا کیا گیا اور ان پر مقدمات بنائے گئے۔ کئی رہنماؤں کو زبردستی پی ٹی آئی کی وفاداری سے تائب کیا گیا۔ کچھ رہنما بیرون ملک فرار ہو گئے اور کچھ ڈیل کر کے وزیر و مشیر بن گئے۔ فوج کی آ شیرباد سے قائم ہونے والی حکومت عمران کو رہا نہیں کر سکتی کیونکہ وہ ایجی ٹیشن کی سیاست کر کے امن عامہ کو نقصان پہنچائیں گے اور جلاوطن بھی نہیں کر سکتی کیونکہ وہ بیرون ملک پاکستانیوں میں بھی بےحد مقبول ہیں اور ملک سے باہر رہ کر منظم فوج مخالف سیاسی تحریک چلا سکتے ہیں۔
مئی کی تیسری رحمت ہم پر دس مئی 2025 کو نازل ہوئی جب پاک فوج نے بھارتی فوج کو ناکوں چنے چبوا دیے۔ بس پھر کیا تھا کئی برسوں سے سوئی ہوئی قوم یک بیک جاگ اٹھی۔ ہر طرف خوشی کے شادیانے بجنے لگے۔ گلی محلوں، بازاروں، پارکوں اور شاہراہوں پر فاتح بنیان مرصوص کی قدآور تصاویر آویزاں کر دی گئیں۔ نئے ملی نغمے اور جنگی ترانے تخلیق کر دیے گئے۔ پی ایس ایل کی اختتامی تقریب میں یہ ترانے بجائے گئے اور شائقین کرکٹ ان پر والہانہ انداز میں جھوم کر اپنی عظیم اور ناقابل شکست فوج کو خراج تحسین پیش کرتے رہے۔ حکومت وقت نے فیصلہ کیا کہ بھارت کو شکست فاش دینے والے سپہ سالار کو عظیم ترین فوجی عہدے فیلڈ مارشل سے نوازا جائے۔
آج ہمیں ایک نوٹیفیکیشن موصول ہوا کہ پاکستانی قوم 28 مئی کو ممکنہ طور پر سرطان کا باعث بننے والے ایٹمی دھماکوں پر اظہار مسرت کے لیے قومی تعطیل منائے گی، اس حقیقت سے بے نیاز کہ ایٹمی ہتھیار اس دنیا کی تباہی کا سب سے بڑا ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ہم یہ خوشی منائیں گے۔ اس حقیقت سے بے نیاز کہ ہم غربت، بھوک اور بیماری سے مرنے والی اقوام میں شامل ہیں اور سائنس و ٹیکنالوجی میں دنیا سے کئی عشرے پیچھے ہیں۔ ہم شاید یہ سننا نہ چاہیں لیکن ہمارا دشمن ملک بھارت شاید کئی میدانوں میں ہم سے کہیں آگے ہے۔
فیس بک کمینٹ

