سال 2020 رخصت اور 2021 شروع ہوا ہے ، گزشتہ سال پوری دنیا کیلئے تباہی کا سال تھا کہ کورونا نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا ۔ کورونا سے پوری دنیا میں لاکھوں اموات ہوئیں اور کروڑوں اس کا شکار ہوئے ۔اور مجھ سمیت بہت سے لوگ صحت یاب ہوکر عملی زندگی میں مصروف عمل ہیں اور اسی طرح بہت سے لوگ اپنے گھروں میں آئسولیٹ ہیں۔ کورونا کے حملے اب بھی جاری ہیں ، عالمی ادارہ صحت نے ڈراوا دیا ہے کہ آنے والے سالوں میں کورونا سے بھی بد ترین بیماریوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ اللہ تعالی خیر فرمائے ۔
وسیب کے لوگ صوبے کی امید لگائے ہوئے تھے مگر 2020 میں بھی کوئی پیشرفت نہ ہو سکی ۔ جنوبی پنجاب کے نام سے سول سیکرٹریٹ بنایا گیا تو وہ بھی فنکشنل نہ ہوا ۔ نقصان یہ ہوا کہ ملتان اور بہاولپور کے درمیان تفریق پیدا کی گئی ، حالانکہ ایک ہی خطہ ، ایک ہی وطن اور ایک ہی زبان و ثقافت ہے ، اور بہاولپور ریاست سے پہلے بہاولپور کے تمام علاقے صوبہ ملتان کا حصہ تھے ، اور ریاست بننے کے بعد بھی لوگوں کی زبان و ثقافت تبدیل ہوئی ایک ہی کچھ تھا ، صرف انتظامی امور الگ الگ تھے ۔
صوبہ ملتان ہندوستان کا بہت بڑا صوبہ تھا ، جس پر رنجیت سنگھ نے 1818 میں قبضہ کیا اور 1849 نے انگریزوں نے صوبہ ملتان کو صوبہ لاہور کا حصہ بنایا ۔ رنجیت سنگھ کے بعد انگریزوں کا دور سرائیکی قوم اور سرائیکی وطن کے لئے تباہی کا باعث بنا ۔ قیام پاکستان کے بعد امید ہو چلی تھی کہ اس خطے کے لوگوں کو بھی پہچان ملے گی مگر انگریزوں نے سابقہ صوبہ پشاور صوبہ سرحد کی شکل میں بحال کیا ، اب جس کا نام صوبہ خیبرپختونخوا ہے ، ان کو شناخت مل گئی ، صوبہ بھی مل گیا ، مگر سرائیکی خطے کے لوگ آج بھی در بدر ہو رہے ہیں ۔ ون یونٹ کے خاتمے کے بعد بلوچستان نیا صوبہ بن گیا مگر ڈکٹیٹر یحیی خان نے سرائیکی وسیب کے لوگوں کو صوبہ نہ دیا ۔ جیسا کہ پنجابی میں کہتے ہیں کہ کچھ انج وی راواں اوکھیاں سن ، کچھ سانوں مرن دا شوق وی سی ۔
سرائیکی وسیب کی تباہی میں وسیب کے سرداروں جاگیرداروں ،تمنداروں نے بھی پورا پورا حصہ ڈالا ، آج بھی یہ لوگ صوبے کی بات نہیں کرتے ، وسیب کی بات نہیں کرتے، وسیب کے لوگوں کی بات نہیں کرتے ، وسیب کے غریب عوام کی بات نہیں کرتے ، پی ڈی ایم کے جلسے ہو رہے ہیں تو ان جلسوں میں محمود اچکزئی ، اخترمینگل سرائیکی قوم کے حقوق اور سرائیکی قوم کی بات کرتے ہیں مگر ہمارے خطے کے لوگ اگر بات بھی کرتے ہیں توصرف جنوبی پنجاب کا نام لیتے ہیں ، اب سرائیکی خطے میں رہنے والے تمام لوگ صوبے کی ضرورت کو محسوس کر رہے ہیں ، صوبے کی بات کر رہے ہیں ، وسیب کے حقوق کی بات کر رہے ہیں ، باہر سے آنے والوں کو بھی محسوس ہو چکا ہے کہ ہماری تباہی میں حکمرانوں کا ہاتھ ہے ، اب سوچ تبدیل ہو چکی ہے ، نوجوانوں میں اضطراب اور بیقراری ہے ، وہ ڈگریاں لے کر در بدر ہو رہے ہیں ، ان میں بے چینی ہے ، وہ صوبے کا حصول چاہتے ہیں ، حکمرانوں نے بھی صوبے کا وعدہ کیا ہوا ہے ، سو دن کا وعدہ آٹھ سو دن گزرنے کے بعد بھی پورا نہیں ہوا ۔
آج سوشل میڈیا کا دور ہے، نوجوان ایک ایک چیز کا حساب رکھتا ہے ، تحریک انصاف اورعمران خان کو آنے والے وقت کا ادراک رکھنا چاہئے اور سوچنا چاہئے کہ ان کی وعدہ خلافیوں کا ان کو کیا جواب ملے گا ۔ اس کے ساتھ مقتدر قوتوں کو بھی صوبے کے قیام کیلئے اپنا اثر استعمال کرنا چاہئے کہ پاکستان میں بسنے والے لوگوں کے رجحا نات کو دیکھنا ضروری ہے۔
اب جبکہ 2021کا آغاز ہو چکا ہے لگتا ہے کہ وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی ، وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار ، وزیرمملکت ملک عامر ڈوگر، صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک ، ایم این اے ملک احمد حسین ڈیہڑ ، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی حاجی جاوید اختر انصاری ، صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات ندیم قریشی ،ارکان ِ صوبائی اسمبلی حاجی ملک سلیم لابر، میاں طارق عبداللہ ، ایم پی اے سبین گل ، مہندر پال سنگھ اور دیگر ارکان اسمبلی کی کاوشیں رنگ لانے والی ہیں اور وزیراعظم عمران خان اسی ماہ جنوری کے آخری ہفتے یا فروری کے پہلے ہفتے میں ملتان کا دورہ کرینگے اور جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا سنگ بنیاد رکھیں گے اگرچہ اس وسیب کے عوام کا مطالبہ ہے کہ وسیب پر مشتمل ایک ہی صوبہ بنایا جائے لیکن میری ذاتی رائے میں اگر سیکرٹریٹ قائم ہوجاتا ہے جس کا آغاز سرکٹ ہاؤ س ملتان میں کردیا گیا ہے اور وزیراعظم اس کا باقاعدہ سنگِ بنیاد رکھتے ہیں تو یہ صوبے کی قیام میں انتہائی اہم پیش رفت ہوگی ۔ اور میری سیاسی جماعتوں اور سرائیکی تنظیموں سے گزارش ہے کہ اگر سیکرٹریٹ قائم ہورہا ہے تو اس کی بھی حمایت کی جائے ، سرائیکی قوم نے کبھی علیحدگی کا نعرہ نہیں لگایا ، کبھی کسی دوکان کا شیشہ نہیں توڑا، ان کی پر امن جدوجہد کو تسلیم کیاجانا چاہئے ۔ اور صوبے کے لئے بلا تاخیر اقدامات کرنے چاہئیں کہ اس سے پاکستان مضبوط و مستحکم ہوگا ۔
2021کا آغاز کچھ خوشگوار نہیں ہوا حکومت کونئے سال کے پہلے ہی روز پٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا ہے اس سلسلے میں اپوزیشن جماعتوں کو شدید ردعمل کا موقع مل رہا ہے ۔اسی طرح بجلی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو چکا ہے اب تو ستم بالا ستم یہ ہے کہ انڈے بھی غریب آدمی کی پہنچ سے دور ہو چکے ہیں البتہ حکمران جماعت کے ارکان کے پاس اس اضافے کا کوئی ٹھوس جواز موجود نہیں ہے۔ حکومت اگر پی ڈی ایم کی تحریک کی کال کو بے اثر کرنا چاہتی ہے تو اسے فوری طور پر مہنگائی پر قابو پانا ہوگا۔
فیس بک کمینٹ

