آج کل جب میں شام کو خبروں کے لئے ٹی وی چینل ٹیون کرتا ہوں تو ایک بڑے چینل پر کلپ چلتا ہے جو ایک وٹس ایپ پیغام پر مبنی ہے جس میں ایک عام شہری کہتا ہے کہ جناب وزیر اعظم چینی کی رپورٹ آ چکی ہے چینی چوروں کا پتہ چل گیا ہے آپ ان کو نہ چھوڑیں پھر سزا بھی تجویز کی جاتی ہے اور اپنی چینی کی واپسی کا بھی مطالبہ بھی کرتے ہیں۔۔
رپورٹ سے میرے ذہن میں کئی سوالات جنم لیتے ہیں جب یہ کلپ چلتا ہے تو چینی سے وابستہ کاروبار لوگوں ان کارخانوں کے مالکان ،ان کارخانوں میں کام کرنے والے افراد اعلیٰ تعلیم یافتہ انجینئر، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، انتہائی ہنر مند افراد او ر لیبر پر کیا گزرتی ہو گی ، وہ ایک الزام کی سماجی سزا پاتے ہوں گے جو کام انہوں نے کیا ہی نہیں، ان کے بچے ان سے کیا سوال کرتے ہوں گے اور ان کے بچے ان خبروں کے بعد کس کیفیت سے گزرتے ہوں گے اور دیگر بچوں کے کس سلوک کو سہتے ہوں گے میں آج صرف اس کے کچھ سماجی پہلو پر بات کرنا چاہتا ہو ں۔
یہ خیال اس وقت شدت اختیار کر گیا جب میں نے ایک چینل کے مہاتما رپورٹر سے اس بارے میں سوال کیا اور کہا کہ میرے علم میں اضافے کے لئے کچھ بتائے ۔ اس کے جواب پر میں ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو گیا جب اس نے یہ کہا کہ بگاس ایک بیش قیمت کیمیکل ہے جو چینی کے کارخانوں میں چینی بنا نے کے بعد بن بنتا ہے اور اربوں روپے میں فروخت ہوتا ہے اور چینی کے کارخانوں کے مالکان اس کا کبھی حساب نہیں دیا مگر اب پکڑے گئے ہیں۔
شوگر ملز کا بزنس پاکستان کے ان دور دراز علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کا باعث بنتا ہے جہاں حکومتی سطح پر ایسا نہیں ہوتا ،حالیہ برسوں میں ان معاشی سرگرمیوں کا تخمینہ 300 ارب ہے ، اور یہ کتنی معاشی گردش کا باعث بنتا ہے وہ ایک مندرجہ ذیل مثال سے واضح ہوتا ہے۔
امریکہ کے ایک قصبہ میں ایک سیاح ایک ہوٹل میں ایک مہرہ لینے کے لئے چیک ان ہوا اس نے 200 ڈالر بطور ایڈوانس دئے اور کمرے دیکھنے چلا گیا ، اسی دوران ایک وینڈر اپنے بل کے لئے آیا تو ہوٹل مینجمنٹ نے 200 ڈالر اسے دے دئے وہ یہ پیسے لیکر ہول سیل مارکیٹ میں گیا اور ادائیگی کردی وہ ہو ل سیلر اپنی میڈیکل ضرورت کے لئے ایک ایسے ڈاکٹر کے پاس گیا جو اس ہوٹل میں کرائے پر کلینک چلاتا تھا اس نے بطور فیس دو سو ڈالر ڈاکٹر کو دے دیے اور ڈاکٹر نے 200 ڈالر ہوٹل مینجمنٹ کو کرایہ ادا کر دئے اس دوران میں سیاح نے کمرہ لینے سے انکار کر دیا اور وہ دو سو ڈالر اس کو واپس کر دئے مگر تب تک ایک معاشی سرکل کئی لوگوں کے مسائل حل کرچکا تھا۔
شوگر ملز دو لاکھ افراد کو دور دراز کے علاقوں میں مقامی سطح پر روزگار نہایت اعلیٰ سہولیات کے ساتھ دیتی ہیں ۔ان شوگر ملز کے باعث کسانوں کو جو فوائد بالواسطہ اور بلا واسطہ حاصل ہوتے ہیں وہ یوں ہیں کہ گنا ایک نقد اور فصل ہے ، اور کسان کو فوری منافع حاصل ہوتا ہے اور شوگر ملز کے کاروبار نے کسانوں کو ایک توازن فراہم کر دیا ہے ورنہ دو دہائیوں قبل جنوبی پنجاب کے کاشتکاروں کو ملتان کے پریس کلب اور چوک کچہری پر پھٹی کو آگ لگاتے دیکھا جاتا تھا اور وجہ ایکسپورٹ نہ ہونا اور جنرز اور ٹیکسٹائل کی پالیسی ہوتی تھی مگر اب مقامی سطح پر گنے کی ڈیمانڈ نے ان کو ایک ایسی فصل دے دی ہے جو ان کے دروازے پر بک جاتی ہے اور کوئی استحصال اور مڈل مین کی بھی ضرورت نہیں ،اس کے علاو ہ کئی طرح کے کاروبار فروغ پاتے ہیں ، جن میں ٹرانسپورٹ، مل کے علا و ہ لیبر ، ذرائع مواصلات کی ترقی ، تعمیراتی کام اور کاشتکاروں کو بروقت ادائیگی کے باعث ان کی سماجی سرگرمیاں شادی بیاہ اور اس سے ہونے والی معاشی سرگرمیوں کا ذکر بھی ضروری ہے۔
کسانوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے دور دراز علاقوں میں مقامی سطح پر تحقیق و تربیت ، حالانکہ یہ ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ کی ذ مہ داری ہے شوگر ملز اس مقصد کے لئے کثیر سرمایہ خرچ کر کے غیر ملکی سائنس دانوں کی خدمات بھی حاصل کرتے ہیں تاکہ کاشتکاروں کو دنیا کے جدید علوم سے روشناس کرایا جائے اور وہ کم لاگت میں اور کم محنت سے زیادہ پیداوار حاصل کر سکیں اور گنا حکومت کے مقرر کردہ ریٹ اور اکثر اس بھی زیادہ پر فرخت کر کے زیادہ نفع حاصل کر سکیں ۔ہمسائے ملک سمیت دنیا بھر میں سب کام حکومت کرتی ہے ۔شوگر ملز مقامی سطح پر سماجی ذ مہ داری سمجھتے ہوئے انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ، واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ، تعلیم کی ترقی ، ماحول کی بہتری کے لئے کثیر سرمایہ خرچ کرتی ہیں شوگر ملز دور دراز علاقوں میں لگتی ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان کو اکثر اوقات سوائے اجازت نامے کے اور کچھ نہیں دیا جاتا جیسے انڈسٹری ایریا میں واقع ملز کو ملتی ہیں وہاں پر ملز لگانے کے ساتھ ساتھ روڈ نیٹ ورک بھی بنانا ملز انتظامیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
مگر ان ملز نے مقامی سطح پر ملز کے علاو ہ مقامی لوگوں کے لئے بڑی شاندار خدمات انجام دی ہیں مثلاً لیہ میں صاف پانی کی فراہمی ایک مسئلہ تھا ایک شوگر ملز انتظامیہ نے کئی واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگوا کر اس مسئلے کو حل کیا۔اسی طرح ملوں کی انتظامیہ نے اسکول اور کالج قائم کر کے دور افتادہ علاقوں میں تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت کو پورا کیا کئی علاقوں میں ان ملز کے زیر انتظام 20اور اس سے زائد بیڈز کے ہسپتال مقامی آ بادی کا فری علاج معالجہ کر رہے ہیں۔
افسوس کسی میڈیا چینلز نے ان خدمات کا اعتراف نہیں کیا جو اربوں روپے کا ٹیکس دینے کے بعد کر رہے ہیں جہاں حکومتی اداروں کی ناکامی سامنے ہے ۔حالیہ دنوں میں لاک ڈاؤن کے دوران اور اب بھی یہ شوگر ملز مقامی لوگوں کو بلا تفریق مذہب و مسلک ، اور رنگ و نسل راشن اور مدد اور نقد رقم دے رہے ہیں عید کے موقع پر امدادی سامان اور کپڑے دئے مگر افسوس کہ میڈیا نے اس طرف توجہ ہی نہ دی یا شاید کبھی کسی اینکر نے شوگر ملز دیکھی ہی نہیں وہ جائیں تو پتہ چلے کی کہ اس ریموٹ ایریا میں کس قدر محنت و جانفشانی سے ملک کی اہم غذائی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کام ہوتا ہے کیسے ملکی و غیر ملکی ماہرین کی مدد سے کس قیمت پر چینی پیدا ہوتی ہے کیسے کاشتکاروں کو شفاف طریقے سے ادائیگی ہوتی ہے۔
اس کاروبار میں حکومتی اداروں کا کنٹرول کتنا سخت ہے ، وہاں جاکر ہی پتہ چلے گا کہ جب فی ایکڑ پیداوار کا تخمینہ کرشنگ سیزن شروع ہونے سے پہلے لگ چکا ہے تو پھر ملیں کیسے اپنی پیداوار کم بتا سکتی ہیں کیونکہ فی ایکڑ پیداوار اور فی من ریکوری کی تخمینہ کے بعد کچھ چھپنا مشکل ہے۔اور ایسے میں کہ ملز ایک خاص وقت پر چلتی ہے جو حکومت مقرر کرتی ہے
شائد اس بات کا اندازہ تب ہی ہو سکتا ہے کہ مل چلتی پانچ ماہ بمشکل ہے اس کے اخراجات پورے سال ہوتے ہیں ، اسٹاف کالونی کو زندگی کی تمام سہولیات سے مزین کرنا ، کم قیمت بجلی فراہم کرنا، اور پھر ملز کے Repair Maintenance ، اور پھر ملز کو دنیا کا مقابلہ کرنے کے لئے جدید تقاضوں پر لانا اگر کوئی بغور جائزہ لیں تو ایک بات سامنے آئے کہ یہ ایسا نفع بخش کاروبار بھی نہیں جس کا تصور کر لیا گیا ہے۔
ایک شوگر مل بمشکل پانچ ماہ چل کر چینی پیدا کرتی ہے اور سال بھر فروخت کرتی ہے اگر اسے کوئی ذخیرہ اندوزی کا نام دے تو حیرت ہے ، یا ایک خبر چل پڑے کہ فلاں شوگر مل پر چھا پہ چینی برآمد ، ایسے ہی ہے پنجاب پبلک لائبریری پر چھاپہ کتابیں برآمد ، کہنا مقصود ہے کہ چینی کی مل ہے چینی ہی ملے گی، اب جدید اکاؤنٹس کے دور میں جب SAP اور تھرڈ پارٹی آڈٹ اور کنٹرول میں وہ باتیں تصور تو ہو سکتی ہیں حقیقت نہیں جس شد و مد سے ہو رہی ہیں ضروری ہے کہ اس کو تفصیل سے دیکھا جائے۔
مگر بدقسمتی سے تحقیق و تفتیش سے پہلے میڈیا کی عدالت میں فیصلہ ہو چکا ہے کی چینی چور پکڑے گئے ہیں سزا تجویز کر رہے ہیں تو پھر یہ کون بتائے گا کہ سبسڈی جرم نہیں یہ کوئی اپنے آپ کو خود نہیں دیتا یہ اعلیٰ سطح کے منتخب لوگوں کی کابینہ ایک پورے نظام کو بچانے کے لئے دیتی ہے مثلاً اگر ہم ایک سال ایکسپورٹ ہی نہ کریں ، اور چینی موجود ہونے کی وجہ سے ملیں نہ چلائیں تو 300 ارب کا معاشی سائیکل ہی نہیں رکے گا بلکہ کاشتکار مکمل تباہ ہو جائے گا اور دوسری طرف ہماری بین الاقوامی مارکیٹ اور گاہک بھی دوسرے ملکوں بالخصوص ہمسائے ملک کو چلے جائیں گے اور سوچیں اگر دور دراز علاقوں میں یہ معاشی سرکل خدانخوا ستہ رک جائے تو پاکستان کی آبادی کا ایک بہت بڑا نقصان ہو گا اور اگر اس نقصان کا موازنہ اس سبسڈی کے ساتھ کریں تو کچھ بھی نہیں اور وہ ویسے بھی ملک کے قانونی اداروں کا سوچا سمجھا فیصلہ ہو گا
جب چینی ایکسپورٹ ہوتی ہے تو قیمتی زرمبادلہ کے ذخائر آتے ہیں بنکوں کا کاروبار بہتر ہوتا ہے اور جب یہ پیسے دوبارہ انویسٹمنٹ میں جاتے ہیں تو ٹیکس میں کئی گنا زیادہ اضافہ ہو تا ہے۔ دنیا بھر میں حکومت اپنے مختلف بزنس سیکٹر کو ترقی دینے کے لیے سبسڈی دیتی ہیں ۔
اگر ہم چینی کی قیمت پر غور کریں تو بحث تو ہو سکتی ہے مگر اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ ڈالر کی اڑ ان، بجلی کے ریٹ، بنکوں کی شرح سود، گنے کی پیداوار میں کمی ، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کیا یہ وہ عوامل نہیں جوکسی بھی چیز کی پیداوار ی لاگت میں اضافے کریں تو محض پچھلی حکومت سے مقابلہ کے لئے ایک پوری صنعت کے خلاف محاذ اور دباؤ مبنی با انصاف نہیں۔۔
چینی ہماری غذائی ضروریات کا اہم جز ہے مجھے اپنے بچپن کے وہ دن بھی یاد ہیں جب میرے دادا کے ملتان میں ڈپو تھے چینی ایک گوہر نایاب تھی لوگ را شن کارڈ سنبھالے لائن میں لگ کر چینی لیتے اور زیادہ چینی لینے کے لئے سفارشی رقعے بھی لاتے، ہمارے بڑے دہلی گیٹ، پاک گیٹ اور حرم گیٹ ملتان میں اس کاروبار سے وابستہ رہے اس دور میں چینی کا بندوست کر کے مہمان کو کھانے کا مینیو بتایا جاتا تھا مگر سب شوگر سیکٹر کی ترقی نے صورتحال بدل دی ہے مگر ہماری تقاریب کو میٹھے سے سجانے والی چینی سے وابستہ کاروباری لوگوں کی سماجی ز ندگی کو اجیرن بنا دیا ہے ،ہم کچھ پڑھے لکھے باشعور لوگوں کا فرض ہے کی میڈیا رپورٹنگ پر توجہ دلائیں اور معاشرے میں بڑھتی ہوئی میڈیا ٹرائل کی روایت کو روکیں ۔حکومت کی کمیٹی جب فیصلہ کرے گی اور آئینی عدالت ملزم کو مجرم یا بیگناہ قرار دے گی تب تک اس ذہنی اذیت پر مبنی مہم پر احتجاج کریں ورنہ کل کسی کی بھی پگڑی اچھل سکتی ہے اور عزت نفس کا قتل ہو سکتا ہے۔
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں
فیس بک کمینٹ

