کالملکھاریمحمود احمد چودھری

صحافت نہیں ، مفادات کے منہ پر تھپڑ ۔۔ چودھری محمود احمد

گزشتہ روز سے سوشل میڈیا پر وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری کی جانب سے ایک معروف اینکر پرسن مبشر لقمان کو ولیمہ کی ایک تقریب میں تھپڑ مارنے کا بہت چرچا ہو رہا ہے کچھ عرصہ قبل بھی وزیر موصوف ایک اور سینئراینکر پرسن سمیع ابراہیم کو فیصل آباد میں شادی کی ایک تقریب میں تھپڑ مار کر کافی ”نیک نامی”کما چکے ہیں پہلے کی طرح اب بھی اس واقعہ کیخلاف صحافتی تنظیموں کی جانب سے بے جان احتجاج اور مذمت کا سلسلہ جاری ہے جبکہ وزیر موصوف ڈھٹائی سے اپنے اس فعل پر قائم ہیں کہ انہوں نے جو کیا درست کیا۔
وفاقی وزیر فواد چودھری ہوں یا کوئی اور حکومتی وزیر ہو یا مشیر سرکاری اہلکار ہو یا سیاستدان یا عام شہری کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی صحافی یا میڈیا پرسنز کے ساتھ اس قسم کا ناروا رویہ اپنائے یا ایسا سلوک کرے اس قسم کے واقعات کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے اور صحافتی تنظیموں کا فرض اور ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے مؤثر اور جامع حکمت عملی کا اعلان کریں تاکہ مستقبل میں کسی کو اپنا ہاتھ کسی صحافی کی جانب بڑھانے کی جرات نہ ہوسکے مگر اس کیساتھ ساتھ صحافیوں اور میڈیا سے منسلک ہر شخص کو خواہ اس کا تعلق پرنٹ میڈیا سے ہو یا الیکٹرانک میڈیا سے اپنا خود محاسبہ کرنا چاہئے کہ کیا آج واقعی وہ صحافی موجود ہیں اور ہم وہ صحافت کررہے ہیں جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ صحافت ایک پیغمبرانہ پیشہ ہے اور صحافی کے قلم کی حرمت ماں کی عزت سے زیادہ مقدس ہوتی ہے ۔
کیا آج وہی صحافت ہو رہی ہے جو مولانا ظفر علی خان ،فیض احمد فیض، حمید اختر، میر خلیل الرحمن، حمید نظامی، مجید نظامی، منہاج برنا اور اسی طرح کے کئی نامی گرامی صحافیوں کے دور میں ہوا کرتی تھی۔۔ بندہ ناچیز نے جب صحافت کا آغاز کیا اور صحافت کی جن
معتبر شخصیات کو دیکھا ان کی قلم کی کاٹ سے سوئی ہوئی انتظامیہ جاگ جاتی تھی مظلوموں کو فوری انصاف ملتا تھا اور ہر مسئلہ فوری حل ہو جاتا تھا انہوں نے تو کبھی ہمیں ایسی صحافت کی تعلیم دی تھی نہ درس۔
راقم الحروف کو تو محترم اقبال ساغر صدیقی، سید سلطان صاحب، حنیف چوھدری، مظہر عارف، ایم اے شمشاد، اکرم آرزو، ولی محمد واحد، رشید ارشد سلیمی، سعید صدیقی، مسیح اللہ جام پوری، اکمل فضلی ،سلمان غنی، جاوید درانی، شبیر حسن اختر نے پہلی بات یہ پڑھائی اور سکھائی تھی اور پھر جن کے ساتھ کام کیا اور ساری زندگی جن کے ساتھ گزری ان میں نذر بلوچ، غضنفر علی شاہی، ایم اے شکور، شوکت اشفاق، سردار ظفر اللہ خان و دیگر میرے کئی سینئر ساتھی اور دوست شامل ہیں انہوں نے ہمیشہ یہی سکھایا اور بتایا کہ صحافی کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اپنی آنکھوں سے جو دیکھے اور سمجھے اسے خبر ،مضمون ،آرٹیکل یا کالم کی شکل میں صرف رپورٹ کر دے اس پر کوئی کارروائی ہو یا نہ ہو یہ صحافی کی ذمہ داری نہیں اس کا کام صرف نشاندہی کرنا ہے ۔
جب تک ایسا تھا صحافت بھی معتبر تھی اور معاشرے میں صحافی بھی باوقار تھا اور صحافی بننا باعث فخر اور اعزاز کی بات ہوتی تھی مگر اس مقدس پیشہ میں بگاڑ تب پیدا ہوا جب
صحافی خود ہی مدعی خود ہی وکیل اور خود ہی جج بن بیٹھا اب وہ کوئی خبر بعد میں شائع کرتا ہے پہلے اس کا فیصلہ کرانا چاہتا ہے جس سے اکثر اوقات صحافیوں کے ساتھ بد تمیزی کے واقعات بھی پیش آتے رہتے ہیں۔
مثال کے طور پر اگر کوئی قصاب مضر صحت اور خراب گوشت فروخت کررہا ہے اور کسی صحافی کو اس کا علم ہے تو صحافی کا زیادہ سے زیادہ کام ہے کہ وہ اس کی نشاندہی کیلئے اپنے اخبار میں ثبوتوں کے ساتھ خبر شائع کر دے قصاب کیخلاف کارروائی کرنا صحافی یا صحافتی ادارے کا کام نہیں اس کیلئے متعلقہ ادارے موجود ہیں یہ ان کا فرض ہے کہ وہ کارروائی کریں یا نہ کریں اور اگر بالفرض وہ ادارے کارروائی نہیں کرتے تو اس کا ذمہ دار صحافی نہیں صحافی نے تو نشاندہی کرکے اپنا فرض پورا کر دیا ہے مگر جب ہم بطور صحافی موقع پر کھڑے ہو کر اس قصاب کی دکان بند کرانے کے در پے ہوں گے تو پھر صحافت
کی آبرو پر حرف تو آئے گا۔
پہلے خبر کس کی ہے کون لایا کس نے ایڈٹ کی کا علم صرف ایڈیٹر کو ہوتا تھا اب خبر بعد میں چھپتی ہے جس کے بارے میں ہو اس کو علم پہلے ہوجاتا ہے تو پھر یہی کچھ ہوگا جو کچھ فواد چودھری جیسےوزیر ڈنکے کی چوٹ پر کررہے ہیں مجھے اینکرز سے کوئی ذاتی مسئلہ نہیں مگر ہر عامل صحافی جانتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ اینکرز کون سی صحافت کررہے ہیں ایک رپورٹر بے چارہ دن بھر بھوکا پیاسا رہ کر خبر لاتا ہے اور یہ اینکرز اس خبر کے کسی ایک پہلو جس میں ان کا اپنا ذاتی مفاد یا کسی کا ایجنڈا شامل ہوتا ہے کو اٹھا کر وہ مجمع گری کرتے ہیں کہ اللہ توبہ خبر لانے والا بھی سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ اس کی خبر کا کیا حشر نشر کیا جارہا
ہے
گزشتہ دس بارہ سال سے ہر شام ہر چینل پر یہ مجمع سازی جاری ہے ایسے لگتا ہے کہ ملک کا سارا نظم و نسق صرف یہ10-8 دانشور ہی چلا رہے ہیں یہی خود ساختہ دانشور روزانہ زرداری کو گھر بھیج کر اور جلا وطن کر کے سوتے تھے پھر یہی نواز شریف کو کرپشن کنگ ثابت کرکے غدار وطن کا خطاب دے کر جاتے تھے اور اب عمران خان کو ناکام ترین وزیراعظم کا تمغہ دے کر خواب خرگوش کے مزے لیتے ہیں آپ کوئی بھی پروگرام دیکھ لیں ان کے وہی مہمان، وہی باتیں وہی ایجنڈہ وہی کہانی حکومت کوئی بھی ہو کیڑے نکالنے سے شروع ہو کر حکومت کے خاتمہ پر ختم ہو جاتی ہے یہ دانشور ماہانہ لاکھوں تنخواہ لیتے ہیں ہفتہ میں دو پروگرام کرکے بیرون ملک روانہ ہو جاتے ہیں جن کے ساتھ
بیٹھ کر پروگرام کرتے ہیں بڑی بڑی گاڑیوں میں ان کے ساتھ بڑے بڑے مہنگے
ترین ہوٹلوں ، گیسٹ ہاؤسز اور فارمز ہاؤسز میں روانہ ہو جاتے ہیں رات بھر گلچھڑے اڑاتے ہیں اور اگلے دن شام ڈھلتے ہی قوم کو سادگی کا بھاشن دینا شروع کر دیتے ہیں جس کو چاہیں ملک دشمن قرار دے دیں جس کو چاہیں حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ اور سند عطا کر دیں اور بے چارے صحافی تو کئی کئی ماہ تنخواہ سے محروم رہتے ہیں اینکرز کو تھپڑے مارنے پر صحافیو ں کو احتجاج ضرور کرنا چاہئے مگر یہ بات بھی مد نظر رکھی جائے کہ گزشتہ چند ماہ میں سینکڑوں صحافی بیروزگار ہوئے خاص طور پر ملتان کے صحافی نشانہ بنے کئی اخبارات کے دفاتر بند کر دیے گئے مگر آج تک کسی اینکرز نے ایک لفظ تک ان صحافیوں کی حمایت میں نہیں بولا کچھ عرصہ قبل جب ریاستی اداروں کا ایک معروف اینکر پر دباؤ بڑھا تو اس اینکر کی دہائیاں اور تقاریر بھی سننے والی تھیں کہ صحافت اور صحافیوں پر حملہ ہوگیا حالانکہ اسے صحافت پر وہ حملہ نظر نہیں آیا جو سینکڑوں عامل صحافیو ں کے گھروں پر ڈالا گیا جس کی وجہ سے ان صحافیو ں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے فیس ادا نہ ہونے سےبچے تعلیمی اداروں سے فارغ کرادیئے گئے کئی بیمار علاج معالجہ سے محروم رہ گئے اور کرایہ کے مکانوں میں مقیم صحافیوں کو کرایہ ادا نہ کرنے کی پاداش میں بے گھر کردیا گیا اگر ان اینکرز کو عامل صحافیوں کا کوئی دکھ درد ہوتا تو ایک اینکرز اپنی تنخواہ سے کٹوتی کراکر10صحافیوں کا روزگار مستقل کراسکتا تھا یہ اپنی تنخواہ سے کوئی ایسا فنڈز قائم کر سکتے ہیں جس سے بیروزگار ہونے والے صحافی کو ماہانہ تنخواہ کی ادائیگی کا بندوبست کیا جاسکے مگر سب اپنے مفاد کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔
یہ تھپٹر صحافت کو نہیں ان کے مفادات کو پڑ رہے ہیں صحافتی تنظیموں کا فرض ہے کہ وہ اپنی صفوں میں نظم و ضبط پیدا کریں اور ذاتی مفادات کی خاطر صحافت کو نیلام کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کریں۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker