اتحادی حکومت نے ایک ہفتہ کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں60روپے فی لیٹر اضافہ کیا کیا ماضی کی شاہی سواری سائیکل سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گئی اور گمنام ہوتی ہوئی اس سواری نے اتنی عزت پائی جو شاید آج تک کسی اور سواری کے حصے میں نہ آئی ہو۔
ایک دور تھا جب کسی کے پاس سائیکل کا ہونا سٹیٹس کی علامت سمجھا جاتا تھا اور جس کے پاس سائیکل ہوتی اس کا اپنے گلی محلہ میں الگ ہی نام اور مقام ہوتا تھا سائیکل نہ صرف ایک سواری تھی بلکہ اردو ادب میں پطرس بخاری کا شاہکار مضمون بھی اس حوالے سے بہت مقبول ہے ۔ سائیکل پر کئی فلمی گانے بھی فلمائے گئے خاکسار اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ جب اس نے ہوش سنبھالا تو گھر میں سائیکل موجود پایا والد صاحب چونکہ ریڈیو پاکستان میں سرکاری ملازم تھے اس لئے وہ 1962-63میں لاہور سے سہراب سائیکل گاؤں میں لائے تھے اس کی رسید ابھی تک ہمارے پاس محفوظ ہے اور یہ سائیکل کچھ عرصہ قبل ہمارا جدی پشتی راجہ والدہ سے یہ کہہ کر لے گیا کہ چودھری صاحب کی یہ نشانی مجھے دے دیں مجھے یاد پڑتا ہے کہ اس دور میں تمام لڑکے سکول یا کالج تانگہ پر یا پیدل جاتے تھے یا پھر دو تین مل کر ایک سائیکل پر جایا کرتے تھے ہمارے گاؤں کے سربراہ نمبردار مثالی کاشتکار معروف ماہر تعلیم سید مقبول حسین نقوی ( مرحوم) ہیڈ ماسٹر بھی اپنے سائیکل پر ہی سکول جایا کرتے تھے وہ اگرچہ ضعیف العمر تھے مگر جسمانی طور پر فٹ تھے اور تیزی سے سائیکل چلاتے ہوئے لڑکو ں کو کراس کرتے اور ساتھ ساتھ اونچی آواز میں علامہ اقبال کے اشعار بھی پڑھتے۔
ہم نے پہلی بار ان کے (پوتے )جو ہمارے کلاس فیلو بھی تھے اور دوست بھی سید مرتضیٰ شاہ نقوی کی سائیکل پر پہلی بار سواری کی تھی سید مرتضیٰ شاہ نقوی کا شمار بعد ازاں بے نظیر بھٹو کے قریبی جانثار ساتھیوں میں ہوا اور آج بھی وہ پیپلزپارٹی ( ناہید خان گروپ )کے سر گرم لیڈر ہیں مرتضیٰ شاہ ، بندہ ناچیز اور ہمارا پیارا دوست ملک سرفراز اعوان مرحوم سکول سے چھٹی کے بعد اکثر اس سائیکل پر ہی گھوما کرتے تھے سائیکل کی اہمیت کا اندازہ آپ یوں بھی لگا سکتے ہیں کہ بینظیر بھٹو جب وزیراعظم بنیں تو انہوں نے سوشل ایکشن پروگرام کے تحت اپنے کارکنوں اور غریبوں میں سائیکلیں اور سلائی مشینیں بھی تقسیم کی تھیں اور خوش قسمتی سے ایک سائیکل مجھے بھی ملی تھی اس دور میں سرکاری ملازمین کو سائیکل بذریعہ قرعہ اندازی دی جاتی تھی اور اخباری مالکان اپنے اخبارات کی سرکولیشن میں اضافہ کیلئے اخبار فروشوں میں ہر سال سائیکلیں بھی تقسیم کیا کرتے تھے ۔
سائیکل کی ایک خوبی یہ بھی ہوتی تھی کہ اسے چھوٹا سا بچہ بھی جلد ہی باآسانی چلانا سیکھ لیتا تھا اور سب سے پہلے وہ ”قینچی ”مار کر چلانا سیکھتا تھا یوں تو ہر سائیکل کی اپنی اپنی اہمیت اور افادیت تھی مگر دو سائیکلوں کو بڑی عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ایک ماسٹر جی( سکول کا استاد) اور دوسری پوسٹ ماسٹر( ڈاکیا) کی سائیکل ماسٹر جی جونہی اپنی سائیکل پر سکول کے اندرداخل ہوتے پورے سکول میں سناٹا چھا جاتا اور ایک لڑکا آگے بڑھ کر استاد جی کی سائیکل کو تھام لیتا جب استاد جی کسی لڑکے کو آواز دے کر سائیکل صاف کرنے کا کہتے تو تمام طلبا میں خوشی کی انجانی سی لہر دوڑ جاتی کہ بس اب چھٹی ہونیوالی ہے مگر بسا اوقات یہ خوشی اس وقت ہوا ہو جاتی جب استاد جی سائیکل کی صفائی تو کرالیتے مگر چھٹی نہ کرتے سائیکل نہ صرف سواری کا سستا اور بہترین ذریعہ تھا بلکہ اس سے مال برداری کا بھی کام لیا جاتا تھا گاؤں گاؤں گلی گلی گھوم پھر کر کپڑے، برتن، قلفیاں، برف کے گولے، دودھ ،پھل سبزی و دیگر اشیا فروخت کرنیوالے سائیکل کا ہی استعمال کرتے تھے بہاولپور اور لودھراں میں تو سائیکل رکشہ چلتے تھے جس میں 2-3سواریاں بیٹھ کر آسانی سے ایک سے دوسری جگہ بہت کم پیسوں میں پہنچ جاتی تھیں مگر نواز شریف نے اپنی وزارت اعلیٰ کے دور میں ان سائیکل رکشوں پر پابندی عائد کردی اور یوں یہ سستی سواری ختم ہوگئی ۔
سائیکل سواری اور مال برداری کے ساتھ ساتھ تفریح کا بھی بہترین ذریعہ تھی لکی ایرانی، لکی جوبلی سرکس میں چینی لڑکیوں کے سائیکل کے کرتب دیکھنے کیلئے لوگ دور دراز کا سفر طے کرکے آتے تھے اس کے علاوہ تقریباً ہر گاؤں میں سال میں ایک مرتبہ ایسے سائیکل سوار کا میجک شو ضرور ہوتا تھا جو مسلسل آٹھ دن سائیکل پر ہی رہتا اور مسلسل سائیکل چلانے کا ریکارڈ بناتا لاؤڈ سپیکر پر اونچی آواز میں گانے چلتے ہیجڑے ڈانس کرتے اور سائیکل سوار سائیکل چلاتے چلاتے کرتب دکھاتا اور انعام میں1روپیہ والا نوٹ پکڑتا یہ سلسلہ مسلسل 8دن تک جاری رہتا 8دن مکمل ہونے پر سائیکل سوار کو معززین دیہہ انعام و اکرام دے کر سائیکل سے اتار کی اگلی منزل کی طرف روانہ کرتے سائیکل کو پاکستان کی سیاست میں بھی مرکزی اہمیت حاصل ہے ضیائی مارشل لاء کے بعد جب پاکستان قومی اتحاد کے انتخابی نشان ”ہل”اور پیپلزپارٹی کے انتخابی نشان ”تلوار”کو بین کیا گیا تو اسلامی جمہوری اتحاد نے انتخابی نشان”سائیکل” اور پیپلزپارٹی نے انتخابی نشان”تیر” پر الیکشن لڑا مشرف دور میں جب مسلم لیگ کی کوکھ سے مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق نے جنم لیا تو اس سائیکل کا انتخابی نشان چودھری شجاعت اور پرویز الٰہی کی سربراہی میں بننے والی مسلم لیگ ق کے حصے میں آیا جو تاحال مسلم لیگ ق کا انتخابی نشان ہے اب چونکہ چودھری برادران میں بھی اختلافات ظاہر کئے جارہے ہیں دیکھتے ہیں کہ اس سائیکل پر سواری چودھری شجاعت کرتے ہیں یا چودھری پرویز الٰہی؟سہراب ، رستم اور ایگل کمپنی کے سائیکل برانڈ تصور ہوتے تھے یہ سائیکل مختلف رنگوں اور سائز میں دستیاب ہوتے تھے کچھ لوگ سائیکل کے سامنے لائٹ لگوا کر رکھتے تھے جسے ڈین بو کہتے تھے ہوا بھرنے کیلئے پمپ بھی ساتھ رکھتے تھے سردیوں میں فوٹو بنانے کیلئے آنیوالے پٹھانوں کی سائیکل کو دیکھنے کیلئے بڑوں اور بچوں کا جم غفیر جمع ہوجاتا تھا کیونکہ یہ سائیکل ایسے سجا ہوتا تھا جیسے آج کل ٹرک سجے ہوتے ہیں سائیکل کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ یہ عام و خاص کو باآسانی میسر تھی جو شخص سائیکل خریدنے کی سکت نہ رکھتا تھا وہ5روپے فی گھنٹہ پر کسی بھی جگہ سے کرایہ پر لے لیتا یہ سائیکل شخصی ضمانت پر ملتے تھے اور ایک دو بار لینے کے بعد دکاندار کو خود اعتماد ہو جاتا تھا کرایہ کی دکانوں پر سائیکل لینے والے اپنی باری کے انتظار میں بیٹھے ہوتے تھے جونہی کوئی سائیکل واپس آتی دکاندار ہوا چیک کرکے دوسرے کے حوالے کر دیتا سائیکل کی اس آرام دہ سستی اور محفوظ ترین سواری کا سلسلہ سابق صدر پرویزمشرف کے دور تک عروج پر رہا اس دور میں جہاں آئی ٹی سمیت دیگر شعبوں میں انقلاب برپا ہوا وہاں آٹوز کے شعبہ نے بھی بہت ترقی کی اور کئی موٹرسائیکل ساز کمپنیاں قائم ہوئیں جنہوں نے دیکھتے ہی دیکھتے مارکیٹ پر قبضہ کر لیا اور سائیکل کو گمنامی کی دلدل میں دھکیل دیا اور اب صورتحال یہ ہے کہ سائیکل سواروں کی تعداد بمشکل5فیصد ہی رہ گئی ہو گی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کو جس طرح سائیکل کی یاد دلائی اور اس کی طرف مائل ہوئےیہ ایک اچھی بات ھے ان حالات میں حکومت کو چاہئے کہ وہ شہریوں کی رائے کا احترام کرتے ہوئے سائیکل ساز صنعت کو ریلیف اور مراعات دے کر سستے معیاری اور پائیدار سائیکل مارکیٹ میں لائے عوام میں سائیکل سواری کا شعور اجاگر کرنے کیلئے خصوصی مہم کا آغاز کیا جائے صدر مملکت ، وزیراعظم، وفاقی وزرا، چیئرمین سینٹ، سپیکر قومی اسمبلی، صوبائی وزرا اعلیٰ، صوبائی وزرا، ارکان اسمبلی اور اعلیٰ بیورو کریٹ ہفتہ میں کم از کم دو بار سائیکل پر دفاتر آئیں اس سے قیمتی زر مبادلہ بچے گا ماحول سے آلودگی کا خاتمہ ہوگا سائیکل کا استعمال کرنے والے کئی بیماریوں سے محفوظ ہو جائیں گے حادثات میں کمی آئے گی اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کی روک تھام ہوگی خیال رہے کہ سائیکل کی سواری جتنی پر سکون اور آرام دہ ہے اس کا مزا اس وقت ہوا ہوجاتا ہے جب دوران سفر پنکچر ہوجائے یا”کتے” فیل ہو جائیں۔
اور یہ بتانا تو ہم بھول ہی گئے کہ جنرل ضیاء نے سادگی کے دکھاوے کے لیے ایک روز سائیکل پر دفتر جانے کا اعلان کیا ۔ بس پھر ساری سکیورٹی اس سڑک پر لگا دی گئی جہاں سے جنرل ضیاء نے گزرنا تھا سڑکیں سیل کر دی گئیں کہ کوئی چڑیا بھی پر نہ مار سکے ۔ اسی روز سعودی عرب میں باغیوں کے ایک گروپ نے خانہ کعبہ پر قبضہ کر لیا ۔ لوگ سڑکوں پر نکلے اور اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کو نذر آتش کر دیا ۔ مشتعل ہجوم کو کون روکتا ساری سکیورٹی تو ضیاء الحق کی سائیکل کی حفاظت پر مامور تھی ۔
فیس بک کمینٹ

