اسلام آباد:پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ دیگر اداروں کے دائرہ اختیار میں مداخلت کررہی ہے، آپ نے الیکشن شیڈول دے کر پورے الیکشن کمیشن کے اختیارات پر قبضہ کر لیا ہے، پارلیمنٹ کے اختیارات پر قبضہ، الیکشن کمیشن کے اختیارات پر قبضہ، انتظامیہ کے اختیارات پر قبضہ، اگر سپریم کورٹ اس طرح ہے تو ہم اسے ادارہ کہنے کے بجائے ایک عدالتی مارشل لا سے تعبیر کر سکتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سب کا اس بات پر اتفاق تھا کہ 2018 کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی اور عمران خان دھاندلی کی بنیاد پر برسراقتدار آئے تھے، آج عمران خان کہتا ہے کہ الیکشن کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ نتیجہ آنے کی صورت میں کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان یہ بھی کہہ چکا ہے کہ اگر میری دو تہائی اکثریت نہ آئی تو میں نتیجہ تسلیم نہیں کروں گا، اگر سادہ اکثریت سے کامیاب ہوا تو دوبارہ اسمبلیاں توڑ دوں گا، اس کی ملک کی سیاست میں حیثیت کیا ہے، دھاندلی کی بنیاد پر نااہل، ناکام اور نالائق حکومت کرنا اور ساڑھے تین سال میں اپنی کارکردگی بتائیں کہ انہوں نے کیا کیا ہے۔
(بشکریہ:ڈان نیوز)
فیس بک کمینٹ

