مری : ملک کے شمالی علاقہ جات کے سیاحتی مقامات میں برف باری اور بارشوں کے پانچویں روز جمعے کی دوپہر کو پہلے خیبر پختونخوا کے علاقے گلیات میں سیاحوں کا داخلہ بند کرنے کا اعلان کیا گیا اور شام کے وقت مری کو بھی سیاحوں کے لیے بند کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔سیاحوں کو مری اور گلیات میں داخلے سے روکنے کے لیے پولیس چیک پوسٹیں بھی قائم کر دی گئی ہیں۔
گلیات میں شدید برفباری کی وجہ سے جمعے کو کم از کم دو مقامات پر برفانی تودے گرے ہیں جبکہ بجلی کے تین کھمبے گرنے سے بھی روڈ کی صورتحال انتہائی خطرناک ہو چکی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کے مطابق بڑھتے ہوئے رش کی وجہ سے سیاحوں کو مری اور گلیات کی طرف جانے سے عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ مری اور گلیات کی طرف جانے والے سیاحوں کو 17’ میل انٹرچینج‘ سے آگے جانے کی اجازت نہیں ہے۔
حکام کے مطابق فیصلے کا مقصد مری اور گلیات سے واپس آنے والے سیاحوں کے لیے سہولت فراہم کرنا ہے اور یہ کہ سیاحوں کو مری اور گلیات سے باحفاظت واپس لانا ہے۔ساتھ ہی ساتھ حکام نے مری میں موجود لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹریفک پولیس اور دیگر حکام کے ساتھ تعاون کریں، غلط پارکنگ نہ کریں، گاڑیاں راستے میں پارک کر کے سیلفیاں نہ لیں اور ڈبل لین بنانے سے اجتناب کریں۔
گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ترجمان احسن حمید کے مطابق برفباری کے سبب زمینی حالات اس بات کی اجازت نہیں دے رہے کہ مزید سیاح گلیات میں داخل ہوں چنانچہ گلیات میں اتوار تک سیاحوں کے داخلے پر پابندی رہے گی۔دوسری جانب سوات میں بھی برفباری دیکھنے کے لیے سیاحوں کی بڑی تعداد کے پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ترجمان احسن حمید کے مطابق جمعے کو ہونے والی برف باری انتہائی شدید تھی۔ اُن کے مطابق گلیات میں صرف ایک روز میں تین فٹ برفباری ہوئی ہے جبکہ دوسرے سپیل کے دوران جمعے سے پہلے چار روز تک ہونے والے برفباری مجموعی طور پر اڑھائی فٹ تھی جس نے نظام زندگی تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ برفباری اتنی شدید تھی کہ نہ صرف یہ کہ روڈ صاف کرنے کا کام متاثر ہوا ہے بلکہ توحید آباد سے دروازہ کش کے مقام پر تین بجلی کے کھمبے گر گئے ہیں اور یہ تینوں بجلی کی مرکزی لائن کے تھے۔ حکام کے مطابق واپڈا کو ان کی مرمت کے لیے کم از کم 24 گھنٹوں کی مہلت درکار ہے۔
احسن حمید کے مطابق دوپہر کے وقت گلیات میں پہلے ایک مقام پر برفانی تودہ گرا تھا اور شام کے بعد ایک اور مقام پر برفانی تودا گرا ہے جس سے ایبٹ آباد کو مری سے ملانے والا روڈ مکمل طور پر بلاک ہو چکا ہے، جس وجہ سے روڈ سفر کے قابل نہیں رہا ہے۔
مری پولیس کے مطابق یہی نہیں، بلکہ سیاحوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے جمعے کے روز مری کا رخ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق ’اس وقت موسمی حالات بھی اچھے نہیں ہیں اور شدید برفباری کے سبب روڈ صاف نہیں ہو سکتا کیونکہ اس وقت دو دو فٹ برف گِر چکی ہیں۔‘
پولیس کے مطابق گاڑیاں پھسلن کی شکار ہیں اور کئی گاڑیاں روڈ پر کھڑی ہیں جن کو مدد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ درختوں، بجلی کے کھمبوں کے ٹوٹنے کے خدشات موجود ہیں۔
مری انتظامیہ کے مطابق بظاہر ایسے لگتا ہے کہ مری میں تمام ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤس سیاحوں سے بھر چکے ہیں چنانچہ ایسی صورتحال میں جب موسمی حالات بھی اچھے نہ ہوں اور رہائش کی جگہ بھی موجود نہ ہو تو سیاحوں کو بالکل بھی مری کا رخ نہیں کرنا چاہیے۔
احسن حمید کے مطابق گلیات کے ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں جگہ موجود نہیں ہے اور تمام ہوٹل اور گیسٹ ہاؤس بھر چکے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اس وقت جن سیاحوں کو جگہ نہیں ملی یا وہ روڈ پر پھنسے ہیں، ان کو خصوصی طور پر مدد فراہم کی جا رہی ہے کیونکہ بظاہر وہ غیر محفوظ ہیں۔
اسلام آباد کے رہائشی محمد عبدالحمید نے ایبٹ آباد کے راستے گلیات جانے کے لیے علی الصبح ہی اپنے سفر کا آغاز کر دیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ایبٹ آباد سے گلیات جانے کے لیے مری روڈ پر سفر کا آغاز کیا تو بے انتہا ٹریفک تھی اور وہ سفر جو زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹے میں طے ہونا چاہیے تھا وہ تین گھنٹے میں بھی نہ ہو سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ شدید برفباری نے روڈ کو مکمل طور پر بلاک کر دیا ہے اور گاڑیاں روڈ پر کھڑی ہیں، جبکہ ’کئی مرتبہ ایسے لگا کہ دن میں اندھیرا چھا گیا ہے‘۔ان کے مطابق ’کئی لوگ مری روڈ پر تین بجے تک پھنسے رہے۔ تین بجے کے بعد برف صاف کرنے والی مشین نے ہمیں اور دیگر گاڑیوں کو چیونٹی کی رفتار سے سفر کرواتے ہوئے ایبٹ آباد کے قریب پہنچایا تھا۔‘
دوستوں کے ہمراہ راولپنڈی سے مری جانے کی کوشش کرنے والے آغا نصیر کہتے ہیں کہ وہ چار دوست کئی گھنٹے تک مری ایکسپریس وے پر پھنسے رہنے کے بعد رات کوئی نو بجے واپس راولپنڈی پہنچے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اتنی شدید برفباری ہونی تھی اور اتنے سیاحوں کو مری کا رخ کرنا تھا تو اس بارے میں عوام کو پہلے آگاہ کیا جانا چاہیے تھا۔
سوات سے صحافی شہاب الدین کے مطابق سوات کے مختلف علاقوں میں بھی جمعے کے روز برفباری ہوئی ہے اور سیاحوں کی بڑی تعداد سوات کا رخ کر رہی ہے۔اُنھوں نے بتایا کہ ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز وغیرہ کے علاوہ سیاحتی مقامات پر سیاحوں کا رش ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
فیس بک کمینٹ

