کالملکھاریمستنصر حسين تارڑ

”کرتار پور ایک سچا سودا؟“۔۔ہزارداستان/مستنصرحسین تارڑ

مجھے یاد ہے جب میں پہلی بار کرتار پور گیا تو کالا خطائی کے راستے کے دونوں جانب گندم کے ہرے بھرے کھیت لہلہاتے مشک بار ہوتے تھے۔ دریائے راوی میں پانی بہت ہی کم تھا اور اس میں مچھلیاں اچھلتی تھیں اور تب بہت دور سے تاحد نظر ہریاول کھیتوں میں ایک عجب سادہ اور دل کش سفید عمارت یوں ہولے ہولے ظاہر ہونے لگی جیسے ان کھیتوں میں سے جنم لے رہی ہو۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ ایک دل پر اثر کرنے والی سحر انگیز عمارت تھی۔ بھری دوپہر تھی جب ہم نے بابا نانک کے کنویں سے پانی پیا اور ان کی ”قبر“ پر حاضری دی۔ روائت یہی ہے کہ بابا جی کے انتقال پر ان کے ہندو اور مسلمان مریدوں میں ان کی آخری رسومات ادا کرنے کے حوالے سے اختلاف پیدا ہو گیا۔ ہندو دعویٰ کرتے تھے کہ وہ تلونڈی کے ایک شدھ ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے تھے اس لئے انہیں جلانا چاہیے اور مسلمان ان کی تعلیمات کے حوالے سے مصر تھے کہ وہ وحدانیت پرست تھے‘ توحید کا درس دیتے تھے اور ب±ت پرستی کے شدید مخالف تھے اس لئے انہیں دفن کرنا جائز ٹھہرتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب اس چادر کو ہٹایا گیا جس نے ان کے تن مردہ کو ڈھانپ رکھا تھا تو وہاں بابا جی نہ تھے بلکہ ان کی جگہ پھولوں کا ایک ڈھیر تھا۔ اس روائت کے مطابق ان میں سے آدھے پھولوں کو نذر آتش کر دیا گیا اوربقیہ نصف پھولوں کو دفن کر دیا گیا۔ چنانچہ کرتار پور گوردوارے کے احاطہ میں گورونانک کے پھولوں کی علامتی جگہ موجود ہے اور عمارت کے اندر وہ مقام بھی دیکھا جا سکتا ہے جہاں ان کی سمادھی ہے۔ کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کسی بھی سکھ کے لئے کرتار پور کا کیا مقام ہو گا۔ جہاںاس کے بابا نانک کی قبرہے اس کی سمادھی ہے کیا وہ پلکیں راہوں میں بچھاتا‘ آنکھیں نم کئے نہ چلا آئے گا۔ بابا نانک نے اپنی حیات کے تقریباً آخری سولہ برس اسی مقام پر بسر کئے۔


انہوں نے کچھ زمین حاصل کی اور اس پر کھیتی باڑی کر کے اپنے ہاتھوں سے ہل چلا کر اس زمین سے اپنا رزق حلال تلاش کیا۔ کرتار پور کے گرد جو کھیت نظر آتے تھے بابا نانک کے ہاتھوں زرخیز ہوتے تھے۔جس مقام پر گوردوارہ ہے بابا نانک اپنے مریدوں کے ہمراہ یہاں بیٹھک کرتے اور اپنے الوہی کلام سے انہیں سرفراز کرتے۔ دربار صاحب امرتسر تو بہت بعدمیں گورو رام داس کے زمانوںمیں تعمیر ہوا جس کی بنیاد لاہور کے صوفی بزرگ میاں میر صاحب نے اپنے ہاتھوں سے رکھی۔ کرتار پور دنیا کے سب گوردواروں پر اس لئے فوقیت رکھتا ہے کہ بابا نانک نے نہ صرف اپنے آخری برس یہاں بسر کئے بلکہ اس کی بنیاد اپنے ہاتھوں سے رکھی۔ کیا اس سے بڑھ کر دنیا بھر میں کوئی اور مقام سکھوں کے لئے اتنا پوتر اور قابل زیارت ہو سکتاہے۔ میں نے اپنی کتاب”پیار کا پہلا پنجاب“ میں ننکانہ صاحب میں واقع تمام تاریخی گوردواروں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے بلکہ پچھلے دنوں ٹلہ جوگیاں کے راستے میں روہتاس قلعے کے دامن میں واقع گوردوارہ چﺅا صاحب کی دیدہ زیب عمارت دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا جہاں بابا نانک کے سب سے عزیز ساتھی رباب نواز بھائی مردانہ نے پیاس کی شکایت کی تھی روائت کے مطابق بابا جی نے وہاں ایک چشمہ جاری کر دیا۔ مقامی زبان میں چشمے کو چواکہا جاتا ہے جیسے چﺅا سیدن شاہ۔ مجھے پنجہ صاحب جانے کا بھی موقع ملا۔ یہ سب گوردوارے اگرچہ بابا نانک سے نسبت رکھتے ہیں کہ یہاں انہوں نے تختی لکھی۔ یہاں ان کا تنبوایستادہ ہوا۔ یہاں سچا سودا کا واقعہ ہوا لیکن کوئی اور کرتار پور ایسا مقام نہیں جہاں اس مرد توحید نے اتنا عرصہ نہ صرف زندگی گزاری بلکہ ان کی آخری رسومات بھی وہیں ادا کی گئیں۔ میرے لئے یہ امر ایک خوشگوار حیرت کا باعث ہوا کہ اوقاف کے زیر انتظام اس گوردوارے کے سٹاف میں مسلمانوں اور سکھوں کے علاوہ پاکستانی ہندو اور عیسائی بھی شامل ہیں اور یہ سب لوگ بابا نانک سے بے حد عقیدت رکھتے ہیں بلکہ وہاں ایک مسلمان الیکٹریشن سے بھی ملاقات ہوئی جن کا کہنا تھا کہ بابا جی کے گھر میں روشنی کا انتظام کرنا میرے لئے بہت بڑی سعادت ہے۔


سٹاف کے بیشتر لوگ مجھ سے واقف تھے اور انہوں نے نہائت تفصیل سے مجھے اور میرے ساتھیوں کو گوردوارے کا ہر گوشہ دکھایا۔ ہمیں بابا جی کا لنگر پیش کیا گیا جس میں انہی کھیتوں کی سبزیاں تھیں جہاں کبھی بابا نانک کاشتکاری کیا کرتے تھے۔ ویسے کچھ بھی کہئے عمران خان اور جنرل باجوہ کو کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے کرتار پور کا ترپ پتہ پھینک کر ہندوستان کو لاچار کر دیا ہے اور اب ہندوستانی حکومت کھسیانی بلی ہوئی جاتی ہے کہ جی ہم تو شروع سے ہی کرتار پور کا کاریڈور کھولنا چاہتے تھے۔ پنجاب کے سکھ وزیر اعلیٰ جو شنید ہے کہ ایک بیگم کے حوالے سے ہم پاکستانیوں کے نزدیکی رشتے دار بھی ٹھہرتے ہیں۔ بیگم جو ایک نہائت ہی ”معزز“ خاندان کی چشم و چراغ وغیرہ ہیں۔ وہ بھی دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ تو ہماری کوششوں کا نتیجہ ہے ورنہ پاکستان کہاں مانتا تھا۔ ان سے ہمدردی ہی کی جا سکتی ہے کہ اگر وہ کرتار پور کے حوالے سے ذرہ بھر بھی مخالفت ظاہر کرتے تو پوری سکھ قوم ان کا بولو رام کر دیتی۔ اگلے روز میں نے ٹیلی ویڑن پر کرتار پور کی نئی شکل دیکھی۔ نہائت وسیع و عریض کامپلیکس۔ عمارتیں مسافر خانے‘ ضروریات زندگی کی جدید سہولتیں۔اتنی مختصر مدت میں اتنا وسیع تعمیراتی کام ممکن نہ لگتا تھا لیکن حکومت نے ممکن کر دکھایا۔ کاش ملک کے دیگر منصوبوں کی تعمیر میں یعنی لاکھوں گھروں کی تعمیر میں اتنی ہی ”پھرتی“ دکھائی جاتی۔ ہم کرتار پور کے علاوہ بھی نئے پاکستان کو ابھرتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ کرتار پور کی نئی اور وسیع شکل دیکھ کر میرا دل خوشی سے لبریز نہ ہوا بلکہ یہ دل دکھ گیا۔ وہ ہرا بھرا ماحول جس میں آپ سانس لیتے تھے تو یہ تصور کر کے کہ کبھی بابا نانک بھی یہاں سانس لیتے تھے یہ ہوا وہی ہے جس میں اس مرد توحید کی سانسیں موجود ہیں۔


کھیتوں میں اس کی مہلک سی ہے۔ اس کے ہل کی نوک نے اس زمین کو زرخیزی بخشی تھی اور عین ممکن ہے کہ ان کھیتوں کے درمیان کھیتی پگڈنڈی پر ابھی تک اس کے نقش قدم ثبت ہوں۔ تو یہ ماحول سب کا سب معدوم ہو گیا۔ کھیتوں پر بل ڈوزر چل رہے تھے اور سڑکیں بچھائی جا رہی تھیں۔ سب کچھ سہولتوں ‘ آسائشوں اور سیاست کی نذر ہو گیا۔ میرا دل دکھ گیا۔ آج سے تقریباً تین برس پیشتر میں جان جوکھوں میں ڈال کے دنیا کے سب سے خوبصورت منظر تک جا پہنچا۔ نانگا بربت کی برفوں کے دامن میں پھیلے جنگل میں پوشیدہ فیئری میڈو۔ پریوں کا مسکن کہہ لیجیے۔ میں دو تین روز تنہا اس جادوئی چراگاہ کے حسن میں گمشدہ رہا پھر ایک جرمن جوڑا ا? گیاجس کے ساتھ بہت خوبصورت وقت گزرا۔ میں نے ”نانگا بربت“ میں فیئری میڈو کے الوہی حسن کا تفصیلی تذکرہ کیا جسے پڑھ کر بہت سے کوہ نوردوں نے وہاں کارخ کیا اور آج اس فیئر ی میڈو میں متعدد ہوٹل اور ریستوران تعمیر ہو چکے ہیں۔ روزانہ سیاحوں کے انبار چلے آتے ہیں اور یوں وہ دنیا کا سب سے خوبصورت منظر آسائشوں اور سہولتوں اور کاروباری مصلحتوں کا شکار ہو کر ہمیشہ کے لئے اوجھل ہو گیا۔ میں کسی حد تک اپنے آپ کو بھی قصور وار گردانتا ہوں کہ میں فیئری میڈو کے بارے میں لکھا تو لوگوں کے ہجوم وارد ہو گئے۔ نہ لکھتا ‘ خاموش رہتا تو شائد اب بھی وہ منظر اپنی اصلی حالت میں موجود ہوتا۔ کرتار پور کا حال بھی فیئر ی میڈو جیسا ہو رہا ہے بے شک بے شمار سیاح یہاں آئیں گے اقتصادی فوائد بھی حاصل ہوں گے۔ سیاحوں کے لئے سہولتیں تو تعمیر کرنی تھیں۔ انہیں شب و روز کے لئے بنیادی آسائشیں تو مہیا کرنی تھیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے بابا نانک کی مانند سچا سودا نہیں کیا۔ اس ماحول کو معدوم کر کے خسارے کا سودا کیا ہے۔ (جاری)
(بشکریہ:روزنامہ 92نیوز)

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker