قیصر عباس صابرکالملکھاری

27 ستمبر ، سیاحت کا عالمی دن: صدائے عدل / قیصر عباس صابر

آج27ستمبر پوری دنیا میں سیاحت کے عالمی دن کے طور منایا جارہا ہے۔ پاکستان دنیا کے نقشے پر موجود چند ایسے ممالک میں شامل ہے جو ایک ہی وقت میں چاروں موسم اور ساتوں رنگ لیے ہوئے ہیں ۔پاکستان کے ایک حصے میں درجہ حرارت 48ڈگری پر جھلسا رہا ہوتا ہے اور عین اسی وقت نانگا پربت ، راکا پوشی ، کے ٹواور سنو لیک جیسے مقامات پر برف کی سفید چادر سی بچھ جاتی ہے۔ چولستان ، روہی اور صحرائے تھل کے علاقے جب بوند بوند کو ترستے ہیں انہی لمحات میں کچھ وادیوں میں جل تھل ہوجاتا ہے ۔

جب خزاں زرد پتوں کو درختوں سے کھینچ کر ہواﺅں کے حوالے کرتی ہے تب فیری میڈوز ، راما ، ترشنگ نگر ، ہنزہ ، رتی گلی اور شونٹر کے موسم نئی کونپلیں نچھاور کرتے ہیں۔ کس قدر حسرت کی بات ہے کہ قراقرم ہائی وے پر دریائے سندھ کے کنارے رائے کوٹ پل کے موسم جب سورج کے ہمنوا ہوتے ہیں صرف تین گھنٹے کی مسافت پر موجود پریوں کی چراگاہیں (فیری میڈوز) کے موسم ہاتھ منہ دھونے کے لئے بھی گرم پانی کے طلب گار ہوتے ہیں، تین گھنٹوں میں آپ چھ ماہ کا موسمی سفر کرجاتے ہیں۔



پاکستان سیاحت کے لئے کتنا زرخیز ملک ہے یہ صرف جاپان، جرمن ، امریکہ سمیت مختلف ممالک سے آنے والے کوہ پیما ہی جانتے ہیں کہ قاتل پہاڑکی برفوں میں دب کر جان دینے والے ”گینتھر“ پر کیا گزری ؟سیاحت اور کوہ پیمائی کے لئے نانگا پربت کے پہلو میں قتل ہونے والے ”مقتولین سیاحت“ Dmytro Koniager, Kashayen Badari, Lhor Sverhum, Jian feng Rao, Chunfeng Yang, Peter Sperka, Dobes Anton, Marksaitis, Sona Sherpa, Honglu Chen صرف شوق سیاحت اور کوہ نوردی کےلئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ یوکرائن ، سلواکیہ ، چین ، لتھیانیہ کے یہ کوہ نورد 15مارچ 2016 کو قتل ہوئے اور چند شر پسندوں کی وجہ سے پاکستان کے خوبصورت چہرے کو خون کے دھبوں سے داغدار کرڈالا۔ اپنی جان دینے والے صرف سیاحت اور فطرت کی محبت میں مارے گئے۔فیری میڈوز سے نانگا پربت کے بیال کیمپ کی طرف جانے والے راستے پر ایک قبر واسٹل آرنلڈ کی بھی ہے جو 1976میں ان برفوں میں دب کر مارا گیا۔ جاپان کا پیٹر فیور 1982میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔



جگلوٹ کے مقام پر حیرت انگیز نظارہ، جہاں دنیا کے تین بڑے پہاڑی سلسلے قراقرم ، کوہ ہندوکش اور ہمالیہ آپس میں ملتے ہیں تاریخ ، سیاحت اور فطرت سے دلچسپی رکھنے والوں کو اپنی طرف کھیننچتا ہے ۔ سطح مرتفع پر قائم ” دیو سائی میدان“ ہزاروں رنگوں کے ان گنت پھولوں کے ساتھ سیاحوں کو اپنی طرف بلاتا ہے ۔ پاکستان ندی نالوں، جھرنوں ، آبشاروں ، جھیلوں ، گلیشیئر، چوٹیوں اور موسموں کے حوالے سے ہی سیاحت کے لئے سونے کی چڑیا نہیں بلکہ یہاں اٹلی کے شہر روم کا جڑواں شہر ملتان بھی ہے جو پانچ ہزار سال کی مسلسل آباد کاری کا زندہ گواہ ہے ۔



ہزاروں سال پرانے کھنڈرات اور قلعے بھی پاکستان کی سیاحت کے لئے ایک الگ اور منفرد حیثیت کی شہادت دیتے ہیں ۔ آج یوم سیاحت پر ہم خواہش کو لفظوں کی زبان دیتے ہوئے مطالبہ دہراتے ہیں کہ قراقرم سے سکردو جانے والے راستوں کو آسان کردیا جائے تو دیوسائی اور کے ٹو تک رسائی ممکن ہے ۔ بالوسر ٹاپ اور چلاس کے ”قاتلوں“ کو قانون کے دائرہ کار میں لایا جائے تاکہ من مرضی کے مقتل نہ سجائے جاسکیں اور ان فطرت کے حسین نظاروں کو خون آلود ہونے سے بچایا جاسکے ۔
فیری میڈوز، شمشال ،نلتر جھیل ، راما لیک ، شیوسر ، لاتولو اور سنو لیک تک جانے والے راستے محفوظ بنائے جائیں تو چھوٹے دل والے بھی شوق سیاحت پورا کرنے کے بعد واپس زند ہ آسکتے ہیں۔ راکا پوشی کے بیس کیمپ تک چیئر لفٹ لگانے کا وعدہ پورا کیا جائے ۔



پاکستان کے سارے موسم، سب نظارے اور فطرت کے سبھی رنگ قائم و دائم رکھنے کے لئے جس حکمت عملی کی ضرورت ہے وہ شائد کبھی ترجیح ہی نہیں رہی ورنہ پاکستان کے مقابلے میں دنیا بھر کا کوئی ملک مالا مال نہیں ، کوئی خطہ لازوال نہیں۔


پاکستان سیاحت کے حوالے سے حیران کن حدتک زرمبادلہ حاصل کرسکتا ہے ۔ گل پوش وادیوں اور برف زاروں میں چھپی نیلے پانیوں کی خوبصورت جھیلیں اگر سیاحوں کو اپنے دیدار تک آنے کی اجازت دے دیں تو ہوٹلوں اور خیمہ گاہوں کی کمائی وطن عزیز کے کسی بھی شعبہ کے برابر رکھی جاسکتی ہے مگر ہم نے خود درختوں کو اکھاڑا ، وادیوں کو نوچا اور پربتوں کو اجاڑدیا ۔


زمین محسن نقوی کے بقول چیختی رہی ، چلاتی رہی
اس نے مجھ سے کہا
مجھ سے نفر ت نہ کر
مجھ کو شاداب رکھ
میری جلتی ہوئی، راکھ ہوتی ہوئی
زرد تنہائی کے تن پہ برفاب رکھ
میرے سینے میں بھی اپنے دل کی طرح
موجِ سیماب رکھ !!
میرے اکھڑے ہوئے خال و خد کو ابھی
وقفِ عبرت نہ کر
مجھ پہ حیرت نہ کر
میری بولی سمجھ ۔۔۔۔۔۔ میری روداد سن
سوچ ، میں نے قضا کے بھنور توڑ کر
کس قدر نازو نعمت سے پالا تجھے
دیکھ میں نے کئی زلزلے اوڑھ کر
اپنی سانسوں کی صورت سنبھالا تجھے
مجھے کو پہچان ، تیری ضرورت ہوں میں
میرے بجھتے ہوئے خال و خد پر نہ جا
زندگی کی طرح خوبصورت ہوں میں
کتنے گل پوش کھلتے ہوئے موسموں نے نکھارا مجھے
کتنے پیغمبروں نے سنوارا مجھے
مجھے سے نفرت نہ کر
مجھ کو شاداب رکھ
اس نے مجھ سے کہا
سوچتا کیوں نہیں ؟
میں زمیں ہوں۔۔۔ زمیں !

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker