اکثر لوگ یہ سوال اٹھاتے رہتے ہیں کہ فضائل اور مصائب اہل بیت کا بیان دیگر زبانوں کے مقابلے میں سرائیکی زبان میں پرتاثیر کیوں ہوتاہے ۔اس کے جواب میں دو پہلو قابل توجہ ہیں:الف۔۔سرائیکی زبان وادی سندھ کی سب سے قدیم اور ترقی یافتہ زبان ہے اور اس کے عقب میں ایک بڑی اور زندہ تہذیب اور تاریخ اپنی تمام تر جولانیوں کے ساتھ موجود ہے ،اس لیے اس میں دکھ کا اظہار اور دکھ سے جڑی جذبات نگاری زیادہ موثر پیرائے میں کی جاسکتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ غیر سرائیکی جتنی رغبت سرائیکی میں پڑھے گئے فضائل ، مصائب اور نوحے میں محسوس کرتے ہیں اتنی دیگر زبانوں میں نہیں کرتے، اسی لیے سرائیکی حسینی بیان سن کر یوں لگتا ہے کہ جیسے اہل بیت کا محسوساتی کلچر سرائیکیوں کے کلچر سے جدا نہیں ہے ۔
ب۔ ۔۔وادی سندھ کی قومیں بطور خاص سرائیکی قوم کے دکھوں میں کربلا کے شہداء کے دکھ یا حالات و واقعات کی پرچھایاں محسوس کر تی ہیں۔ سرائیکی وسیب صدیوں سے شادو آ باد اور خوشحال چلا آ رہا ہے جس کی وجہ سے بیرونی لٹیروں اور نو آ بادکاروں کی یلغا ریں ازل سے اس کا مقدر رہی ہیں۔ وسیب کی تباہ کاریاں اور یہاں کے پرامن باسیوں کے قتل عام کے قصوں سے تاریخ انسانی اٹی پڑی ہے ۔ آ ریا،عربوں، مغلوں اور سکھوں نے اس شانت خطے کے آ رام وسکون کو ہمیشہ تباہ کیا۔ اجتماعی قبروں کی مثالیں ہوں،خواتین کی بے حرمتی ہو ،لوٹ مار ہو یا پھر گھروں کو آ گ لگانا ہو۔ سرائیکیوں نے اس طرح کے تمام دکھ جھیلے ہیں۔ نوجوان مردوزن کو قید کر لینا اور انھیں بے بسی میں مار ڈالنا ایک عام روش تھی۔ جس طرح جگرگوشۂ بتول نے خود اور اپنے اہل خانہ کو خون خرابہ اور بدامنی سے دور رکھنے کے لیے دشتٔ نینوا کےسفر کی صعوبتیں قبول کرنے کو ترجیح دی تھی مگر باطل قوتوں نے ان کے بیانیہ کو سمجھا ہی نہیں تھا اور ان معصوموں پر ظلم کے اولے برسا دیۓ تھے اسی طرح قدیم عہد سے لے کر آ ج کے زمانے تک سرائیکی وسیب ظلم سہتا چلا آ رہا ہے مگر جنگ وجدل سے گریز کرتا رہا ہے ۔ اس خطے کو اس کے حصے کا پانی نہ دے کر ان کی زمینداری کو ہمیشہ نقصان پہنچایا گیا ۔ حال ہی میں اس کے بچے کھچے پانی کو روہی کو زرخیز کرنے کے نام پر تس اور پیاس کے منہ میں دھکیلنے کے منصوبے تھے کہ زمین زادوں کی بروقت مداخلت اور احتجاج پر "پانی روکنے” کی روایت کی راہ میں بڑی مزاحمت کی گئی اور ایک بڑی مصیبت ٹل سر دست ٹل گئی۔
سرائیکی وسیب محبت کرنے والوں کی سر زمین ہے ۔ خوشحال اور متصوفانہ طرز احساس سے مالا مال ہے۔ عاجزی اور درویشانہ رویے اس خطے کی ازلی شناخت ہیں ۔ اس لیے یہاں کے لوک ادب، شعر وادب اور عمومی سماجی رویوں میں ایک عجیب سا سوز اور حزنیہ انداز دکھائی دیتا ہے اس لیے سرائیکی زبان میں غم و الم کا بیان انسانی دلوں کی اداس کہانی کا روپ دھار گئی ہے ۔ اگر یہ کہا جائے کہ سوز، غم، الم اور آ نسو سرائیکوں کی تہذیبی روایت ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ جس طرح کہ نواسۂ رسول کے دکھ بے انت تھے اسی طرح سرائیکیوں کے دکھ بھی بے انت ہیں۔ ہر برس کا محرم سرائیکیوں کے لیے فقط ایک مہینہ نہیں بلکہ غموں اور دکھوں کی ایک یاد ہ جو جگر گوشۂ بتول کے دکھوں سے جڑا ہے ۔ اجتماعی قبریں، قید وبند کی صعوبتیں، گھروں کا جلاو گھیراو، پانی کی بندش اور انسانیت کی بے قدری؛کربل اور سرائیکی وسیب کے سانجھے دکھ ہیں۔
فیس بک کمینٹ

