اہم خبریں

عراقی پارلیمنٹ کی جانب سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کا مطالبہ

بغداد : عراق کے ارکان پارلیمان نے بغداد میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد تمام غیر ملکی افواج کے ملک سے انخلا کے بارے میں ایک قرار داد منظور کی ہے۔
عراق کی پارلیمان میں منظور کی گئی قرار داد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ غیر ملکی افواج کو عراقی سرزمین، فضا اور سمندری حدود کو فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے سے روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔اس وقت عراق میں امریکہ کے پانچ ہزار فوجی موجود ہیں۔
عراق کے نگراں وزیر اعظم عادل عبد المہدی نے کہا ہے کہ یہ اقدام عراق کے بہترین مفاد میں ہو گا باوجود اس کے کہ اس کی وجہ سے ملک کو اندرونی اور بیرونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی فوج کے حملے کے بعد مختلف شیعہ سیاسی رہنماؤں نے اپنے تمام سیاسی اختلافات کو بھلا کر امریکی فوج کے ملک سے انخلا کا مطالبہ شروع کر دیا تھا۔
اس قرار داد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی اُس درخواست کو واپس لے لے جس میں عراق نے بین الاقوامی اتحادی افواج سے نام نہاد دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں مدد مانگی تھی کیونکہ اب دولت اسلامیہ کو شکست ہو چکی ہے۔
اس میں عراق حکومت پر مزید زور دیا گیا کہ وہ ملک میں بیرونی افواج کی موجودگی کو ختم کرنے کے لیے ہر مکمن اقدام کرے اور غیر ملکی فوجیوں کو عراقی سرزمین، فضا اور سمندر کو کسی بھی صورت میں استعمال کرنے سے باز رکھے۔
اس کے علاوہ عراقی حکومت سے کہا گیا ہے کہ امریکہ کی طرف سے عراق کی خود مختاری اور سیکیورٹی کو پامال کرنے پر اقوام متحدہ میں باقاعدہ شکایت کی جائے۔
عراقی پارلیمان میں قانون ساز کمیٹی کے رکن عمار الشبلی نے برطانوی خبررساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں نام نہاد تنظیم دولت اسلامیہ کے عراق سے خاتمے کے بعد ملک میں امریکی فوج کی موجودگی کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔
بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق عراق کے شیعہ رہنما مقتدی الصدر نے امریکہ کے خلاف بین الاقومی مزاحمتی یونٹس تشکیل دینے کی تجویز دی ہے۔
مقتدی الصدر نے ٹوئٹر پر جاری کردہ ایک بیان میں کئی نکات پیش کیے جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کے ملک سے انخلا کو یقنی بنانے کے لیے پارلیمان کو اپنے سامنے رکھنے چاہیں۔
اس بیان کے آخر میں انھوں نے عملی اقدام تجویز کرتے ہوئے کہا کہ عراق کے اندر اور باہر تمام دھڑوں کو ایک ہنگامی اجلاس طلب کرنا چاہیے اور بین الاقوامی مزاحمتی دستے تشکیل دینے چاہیں۔صدر نے عراق سے باہر دھڑوں کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی اور ان دستوں کے دائرہ کار کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہا۔
انھوں نے اپنی اس تجویز کو دہہرایا کہ عراقی حکومت کو فوری طور پر امریکہ سے دفاعی معاہدہ ختم کر لینا چاہیے جس کی بنیاد پر عراق کے اندر امریکی فوج موجود تھی۔
مقتدی الصدر نے بغداد میں امریکی سفارت کو شر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کو فوری طور پر بند کر دینا چاہیے، امریکی فوج کے تمام اڈوں کو بھی ختم کر دینا چاہیے، امریکی حکومت سے کسی قسم کے تعلق کو جرم قرار دے دینا چاہیے اور امریکی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کرنا چاہیے۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker