اہم خبریں

اسلامی ممالک کے اتحاد میں امریکا بھی شامل

ریاض : صدر بننے کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر ڈونالڈ ٹرمپ ریاض میں سربراہان مملکت کی کانفرنس میں شرکت کے لئے موجود ہیں۔گزشتہ روز سعودی عرب اور امریکا کے درمیان امریکی تاریخ کا سب سے بڑا فوجی معاہدہ طے پایا ہے اس معاہدے کے تحت سعودی عرب 110 ارب ڈالر کا اسلحہ خریدے گا۔خبر رساں ایجنسی رائٹر کے مطابق سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کا مقصد صرف اور صرف خلیج میں ایران کے اثر رسوخ کو کم کرنا ہے۔ رائیٹر کے مطابق شاہ سلمان کو شام کی حکومت کے خلاف شکوے کرتے بھی سنا گیا۔ تاہم اس بارے میں ڈونالڈ ٹرمپ کا مؤقف سامنے نہیں آسکا۔ یاد رہے کہ شام پر امریکی فضائی حملے کو سعودی حکومت پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ سعودی وزیر خارجہ نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوے بتایا کے امریکا اور سعودی عرب روایتی اتحادی ہیں اور یہ خوشی کی بات ہے ایک طویل عرصے بعد دونوں ممالک میں روابط کی تجدید ہو رہی ہے۔اور یہ صرف صدر ٹرمپ جیسے مدبر رہنما کی بدولت ہی ممکن ہوا۔ الجزیرہ ٹی وی کے سیاسی مبصر احمد البراہیم کے مطابق سعودی حکومت چاہتی ہے کے امریکا ایران کے خلاف سخت اور فیصلہ کن اقدامات کرےامریکی نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ فوجی معاہدے میں امریکا یمن پر حملوں کے لئے ابرام ٹینک اور جنگی بحری جہاز بھی سعودی عرب کو دے گا۔
امریکی صدر اپنے سعودی عرب کے دورے کے دوران سعودی عرب کے اتحادی مسلمان ملکوں کے سربراہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔اس اجلاس میں پچاس سے زائد عرب اور مسلمان ممالک کے سربراہان شامل ہیں یہ توقع کی جا رہی ہے کے صدر ٹرمپ مسلمان ملکوں کو متحد ہوکر دہشت گردی سے مقابلہ کرنے کی تلقین کریں گے۔ امریکی ٹی وی چینل اے بی سی کے مطابق سعودی عرب کا دورہ مکمل کرنے کے بعد امریکی صدر اسرائیل کے لئے روانہ ہوں گے۔ یہ دورہ بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے اور ایران کے خلاف مشترکہ حکمت عملی کے لئے ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ سعودی عرب کے اتحادی ممالک کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے لئے پاکستان کے وزیراعظم محمد نواز شریف ریاض پہنچ چکے ہیں۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker