وہ دل کہ جس میں خُدا مکیں ہے
وہ دِل دُکھاؤ تو یاد رکھنا !
کِسی کی آنکھوں میں درد پا کر
جو مُسکراؤتو یاد رکھنا !
جو ہار بیٹھا ہو تُم پے سب کُچھ
اُس آدمی سے
جو خُود پرستی میں جیت جاؤ تو یاد رکھنا !
کسی کے غم پر جو بےحسی ہو
اور اس گھڑی جشن تم مناؤ تو یاد رکھنا !
بدن کی خستہ عِمارتوں پر
ہوس کا محل گر بناؤتو یاد رکھنا !
کسی کے چہرے پے فِکرِ دوراں کی سِلوٹوں میں
کِسی سرہانے رکھی ہُوئی بھیگی کروٹوں میں
اُداس آنکھوں کی سُرخ مائل سی تِشنگی میں
لرزتی سانسوں میں ختم ہوتی سی زندگی میں
جو سنگدِلی کا قرار پاؤتو یاد رکھنا !
کہ دیر ہے پر اندھیر دنیا میں تو نہیں ہے
کہ عرش والا زمین پر بھی تو دیکھتا ہے
وہ دُور بیٹھا کرم تُمہارے
تُمہارے کھاتے میں لکھ رہا ہے
بہت کڑا وہ حِساب کرتا ہے یاد رکھنا ۔۔۔۔۔
تُم اُس کا انصاف بھُول جاؤ ہزار لیکن!!!
بشر کی اپنے ہر ایک لغزش
وہ یاد رکھتا ہے یاد رکھنا ۔۔۔۔۔
فیس بک کمینٹ

